میر امتیاز آفریں
انسانی تاریخ پر ایک نظر دوڑائی جائے تو یہ بات نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ انسانی تاریخ دراصل ان عظیم شخصیات کے ریکارڈ کا نام ہے جنہوں نے اپنی علمی، عملی اور روحانی صفات و خدمات سے تاریخ کا رُخ موڑا اور بے شمار انسانوں کو متاثر کیا۔ ان شخصیات میں پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سرِ فہرست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانوں کو جہالت کی ظلمتوں سے نکال کر علم و حکمت، خدا شناسی اور انسان دوستی کا وہ سبق پڑھایا کہ انسان صحیح طور پر اشرف المخلوقات والی مسند پر بیٹھنے کے لائق ہوا۔ 3 سال تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین ِ اسلام کا پرچار کیا اور اللہ کا پیغام لوگوں تک کما حقہ پہنچا دیا اور آپ ؐ کا مشن پایہ تکمیل تک پہنچ گیا۔
انتقال سے کچھ مہینے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا آخری حج ادا فرمایا اور میدانِ عرفات میں 9 ذوالحجہ کو آپؐ نے جو آخری خطبہ ارشاد فرمایا وہ فصاحت و بلاغت اور جامعیت و اثراندازی میں تاریخ ِ انسانی میں اپنی نظیر نہیں رکھتا اور اسے صحابہ کرامؓ نے کچھ اس طرح ہمارے لئے محفوظ کردیا ہے ،جس کی مثال کہیں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اس موقعے پر آپ ؐ کے ساتھ ایک لاکھ سے زیادہ صحابی موجود تھے جو زبانِ نبوت سے نکلنے والے ایک ایک لفظ کو غور سےسُن رہے تھے۔
اگرچہ اس سے پہلے بھی اَن گنت خطبات مختلف مقتدر اشخاص نے لوگوں کے سامنے پیش کئے، جن میں حضرت عیسٰی ؑ کا پہاڑی کا وعظ The Sermon on the Mount، مہاتما بدھ کا خطبہ بنارس The Sermon at Benares خاص طور پر قابل ذکر ہیں، مگر جو خطبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش کیا، تاریخ ِانسانی اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔ معروف مصنف کیرن آرمسٹرانگ لکھتی ہیں:’’نبی کریمؐ نے 632 عیسوی میں میدان عرفات میں جس مقام پر کھڑے ہوکر خطبہ حجتہ الوداع دیا تھا ، آج اس کے قریب مسجد نمرہ کھڑی ہے۔آپؐ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کا برتاؤ کرنے ، عورتوں سے حسن سلوک اور دورِ جاہلیت کی خونیں عداوتوں کو ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔یہ خطبہ کوہِ زیتون کے وعظ یا سینٹ پال کے خیرات سے متعلق مذہبی گیتوں سے بظاہر قدرے مشابہت رکھتا ہے ،لیکن اصل میں ان سے بہت مختلف ہے۔رسول کریم ؐ ایک حقیقت پسند انسان تھے اور آپ جانتے تھے کہ آپؐ مسلمانوں سے ایک ایسی چیز کا مطالبہ کررہے ہیں جو انقلابی نوعیت کی ہے۔‘‘
یہ خطبہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے درمیان ایک خوبصورت توازن برقرار رکھتے ہوئے عقل و شعور کے ساتھ ساتھ انسان کے روحانی اور وجدانی وجود کو بھی رہنمائی عطا کرتا ہے۔
آج بھی یہ خطبہ ہر ممکن ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا کے کونے کونے میں ہر مسلمان تک پہنچایا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو مسجدوں اور خطبوں میں اس کی یاد دلائی جاتی ہے۔ درحقیقت اس خطبہ میں پائے جانے والے معانی حیران کن ہیں۔ اس خطبے میں ان حقوق کا تذکرہ ہے جو خدا کے عالمِ انسانیت پر ہیں، اور ان حقوق کی بھی وضاحت ہے جو انسانوں کے ایک دوسرے پر ہیں۔ رسول اللہؐ اگرچہ انتقال فرماگئے ہیں لیکن ان کے یہ انقلاب آفریں اور روح پرور الفاظ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ و پائندہ ہیں۔
معروف محقق ڈاکٹر حمید اللہؒ فرماتے ہیں:’’جمعہ 9 ذو الحجہ 10ھ کو جبل الرحمہ پر سے میدان عرفات کے ڈیڑھ لاکھ حاضرین سے حجتہ الوداع کے موقع پر رسول کریم ؐنے جو خطاب فرمایا تھا، اسے تاریخ نے خوش قسمتی سے محفوظ رکھا ہے، اس خطاب کو انسانیت کا منشورِاعظم کہا جاسکتا ہے ۔‘‘
یہ خطبہ نہ صرف ایک اہم تاریخی و مذہبی دستاویز ہے بلکہ یہ ’حقوقِ انسانی کے چارٹر‘ کی بھی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خطبے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کو بطور آخری ضابطہ حیات کے طور پر پیش کرتے ہوئے انسانی مساوات، اللہ کے حضور پیشی اور احتساب، حرمت جان و مالِ مسلم، خواتین کے ساتھ حسن سلوک، سود کی حرمت اور کتاب اللہ اور اہل بیت کے ساتھ تمسک جیسے اہم نکات کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا۔لوگوں کے ساتھ ایک جذباتی تعلق پیدا کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
’’لوگو! میری بات غور سے سنو، میں نہیں سمجھتا کہ آئندہ کبھی ہم اس طرح کی مجلس میں یکجا ہو سکیں گے۔‘‘مساواتِ اِنسانی کے تصور کو رائج و راسخ کرنے کے لئے آپؐ نے فرمایا:’’لوگو! ﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اے انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں مختلف جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ تم الگ الگ پہچانے جا سکو، تم میں زیادہ عزت والا خدا کی نظروں میں وہی ہے جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ لہٰذا کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں اور کسی عجمی کو کسی عربی پر فضیلت نہیں، بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے۔ تمام انسان آدمؑ کی اولاد ہیں اور آدم ؑ مٹی سے بنائے گئے۔‘‘
نسلی تفاخر اور ذات پات کی بنیادیں ہلاتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:’’قریش کے لوگو! خدا نے تمہاری جھوٹی نخوت کو ختم کر ڈالا اور باپ دادا کے کارناموں پر تمہارے فخر و مباہات کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘
اسلام ہر انسان کو، چاہے اس کا تعلق کسی بھی قوم یا مذہب کے ساتھ ہو، زندہ رہنے کا حق دیتا ہے۔ قتلِ ناحق اور ظلم و استحصال کے انسداد کے لئے
آپؐ نے فرمایا:
’’لوگو! تمہارے خون و مال اور عزتیں ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر قطعاً حرام کر دی گئی ہیں۔‘‘اخوت کا درس دیتے ہوئے آپؐ نے فرمایا:’’لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘
معاشی اِستحصال کو معاشرے سے ختم کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کو کالعدم قرار دیا اور سب سے پہلے اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کے سود کو ختم کردیا۔
آج سے چودہ سو سال پہلے آپ ؐنے خواتین کے حقوق (Women’s rights) کی بات کی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تلقین کی۔ آپ ؐ نے فرمایا:’’عورتوں سے بہتر سلوک کرو کیونکہ وہ تمہاری پابند ہیں اور خود اپنے لئے وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔ ان کے بارے میں خدا کا لحاظ رکھو کہ تم نے انہیں خدا کے نام پر حاصل کیا ہے۔‘‘
رسول اللہ ؐ نے عدل و انصاف کی مٹتی قدروں کو جِلا بخشنے کے لئے ارشاد فرمایا:’’آگاہ ہو جاؤ! اب مجرم خود ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہوگا، آگاہ ہو جاؤ! اب نہ باپ کے بدلے بیٹا پکڑا جائے گا اورنہ بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا۔‘‘
رسول اللہ ؐنے پیغامِ حق لوگوں تک پہنچانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:’’سنو! جو لوگ یہاں موجود ہیں انہیں چاہئے کہ یہ احکام اور یہ باتیں ان لوگوں کو بتا دیں جو یہاں نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر موجود تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو۔‘‘
اتمامِ حجت کرتے ہوئے آپؐنے اپنا خطبہ کچھ اس طرح ختم فرمایا:’’اے اللہ! گواہ رہنا کہ میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا۔۔۔اور لوگو! تم سے میرے بارے میں (خدا کے ہاں) سوال کیا جائے گا۔ بتاؤ تم کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے امانتِ (دین) پہنچا دی اور آپؐ نے حقِ رِسالت ادا فرما دیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی۔‘‘
یہ سن کر حضور اکرم ؐ نے اپنی انگشتِ شہادت آسمان کی جانب اٹھائی اور لوگوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ دعا فرمائی: ’’خدایا گواہ رہنا! خدایا گواہ رہنا! خدایا گواہ رہنا۔‘‘
[email protected]