مدثر حسن مرچال
کائنات کو تخلیق بخشنے کے ساتھ ہی خالقِ کائنات نے انسان کو تربیت کے زیور سے آراستہ فرمایا ۔ تعلیم و تربیت کے اسی تسلسل کے تحت مختلف ادوار میں گرو، اوتار اور پیغمبروں نے جنم لیا، جنہوں نے الگ الگ ا دوارمیں اپنی اپنی قوم کی تربیت اس انداز سے کی تاکہ کلہم انسانی سماج صحیح سمت میں آگے بڑھتا رہے ۔ دنیوی ترقی کے ساتھ ساتھ انسان کی روحانی نشونما بھی ہو تاکہ فسق و فتن سے عالمِ انسانیت محفوظ رہے۔جہاں عیسائی برادری کے لئے اپنے مذہب کی تعلیمات کو ماننا اور ان تعلیمات کا قائل رہنا فطری ہے ، ٹھیک اسی طرح ہندودھرم کے ماننے والی قوم کے لئے اپنے مذہب کے تئیں وفادار رہنا تعجب نہیں ہے۔اسی طرح بودھ ، جین ، اور یہود مذاہب کے علاوہ اسلام کے ماننے والے بھی اپنے مذہب و عقیدے کے طرف جذباتی ، فطری اور عملی طور منسلک ہیں ۔مذاہب کے اسی تنوع سے یہ لازمی ہو گیا کہ ہر قوم اور ہر فرد کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے اور اپنے مذہب کا تحفظ کرنے کی آزادی ہو۔ اسی بنیاد پر بیشترسیکولر اقوام نے اپنا آئین بھی قائم کیا۔شریعہ قانون پہ اپنا نظام چلانے والے مسلم اقوام میں بھی اس بات کی ضمانت ملتی ہے کہ کلام اللہ اور احادیثِ نبویؐ کی رو سے ہر مذہب کے ماننے والوں کو تحفظ ملے۔ مذاہب کے تنوع کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے ماننے والوں کو فطرتاً اپنے مذہب کے ساتھ حد درجہ عقیدت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ مذہب کے خلاف کُچھ بھی سُننا یا دیکھنا برداشت نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے بیشتر ممالک نے اپنے آئین میں ہی اس بات کو یقینی بنایا کہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے شخص کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے سخت قانون بنایا جائے۔ انسان جب تک مذہبی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی عظمت اور قدر و منزلت کو تسلیم کرے، دنیا واقعی میں جنت ِ ارضی بن جائے گی۔لیکن کسی بھی مذہب کے خلاف زبان درازی کرنے پر اس مذہب کے ماننے والے رنجیدہ ہوں تو یہ تعجب کی بات نہیں ہے۔ حاصلِ کلام یہ کہ جس طرح ہر مذہب کے ماننے والوں کے لئے اپنے مذہب کے تئیں وفادار اور محب رہنافطرت کا اصول ہے ویسے ہی ہر مسلمان کے لئے اپنے مذہب سے جُڑی ہر چیز کو جان سے زیادہ عزیز ماننا لازمی ہے۔ امتِ مسلمہ کو بھی الہامی کتاب کے ذریعے “لا اِکراہَ فی الدین” اور “لَکُم دینُکم وَ لِیَ الدین ” کا حکم ملا ۔ لیکن ماضی قریب میں مسلم قوم کی اپنے مذہب کے تئیں محبت اور عقیدت کو Misinterpret کر نے کی کوششیں تیز ہوئیں ،جس سے ایک نئی فکر نے جنم لیا۔ جسے عام اصطلاح میں Islamophobia کا نام دیا جاتا ہے۔ اسلاموفوبیا کی لہر چلنے کے ساتھ اسلام پر اور اس سے جُڑی ہر چیز پر طنز کسنے کا رواج عام ہوا۔ یوں توحضورؐ کی شانِ مبارک میں گستاخی اور کلام للہ کے خلاف زبان درازی یعنی توہین ِ رسالت کی تاریخ اُتنی ہی پُرانی ہے جتنی پُرانی تاریخ اسلام کے ظہور کی ہے۔ لیکن اسلاموفوبیا سے یہ مہم مزید پروان چڑھی۔ دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں اسلاموفوبیا اور توہینِ رسالت سے نمٹنے کے لئے باضابطہ قوانین بھی نافذ العمل ہیں۔یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کے خلاف گستاخی کے عمل میں آئینی طورسیکولر ملک قرار دیا گیا ہندوستان بھی اب اچھوتا نہیں ۔
چند ہفتے قبل ہندوستان میں توہین ِ رسالت کے پیش آئے معاملات کی فہرست میں ایک اور سنگین معاملہ درج ہوا ہے، جس میں حکمران جماعت کی معزول شدہ ترجمان نپور شرما نے ایک ٹی وی ڈیبیٹ میں حضور ؐ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے اُم المومنین حضرتِ عایشہ ؓ صدیقہ کی نکاح کے وقت عمرِ شریف پہ طنز کسنے کی کوشش کی۔ نپور شرمااگرچہ ابھی تک گرفتارنہیں کی گئی،تاہم سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے ان کے اس بیان پہ انہیں خوب کھری کھوٹی سنائی اور پیش آنے والے حالات کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا۔ نپور شرما کے بیان نے جہاںپورے ملک میں حالات کو اس قدر خراب کر دیا کہ ناحق مسلمانوں کو ظلم و زیادتیوں کا نشانہ بننا پڑا،وہیں اُدے پور راجستھان میں نپور شرما کے بیان کی حمایت کرنے والے ایک درزی کنیا لال تیلی کا قتل بھی ہوا ۔جبکہ تادمِ تحریرناسک میں ایک مسلمان مذہبی راہنما صوفی بابا کو بھی نامعلوم حملہ آوروں نے قتل کر دیا تھا۔ حالانکہ اس کا نپور تنازعہ کے ساتھ کوئی تعلق ہے یا نہیں یہ ابھی تک ثابت ہونا باقی ہے۔ یہاں یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارت کے کُلہم مسلمانوں نے کنیا لال کے قتل کی مذمت کی ۔ یقیناً قتل یا خون خرابہ کسی بھی مسلے کا حل نہیں ہو سکتا۔لیکن عدالتِ عالیہ کے بقول اس قتل کی اصل وجہ بھی نپور شرما کا بیان ماناجا سکتا ہے۔بہر کیف اس سے قبل کہ اس خاتون کی گستاخی اور اس سے جُڑی قتل کی واردات پہ مزید بات کی جائے ، یہاں تاریخ کے دریچوں سے جھانکنے کی کوشش لازمی بنتی ہے۔ تاکہ مذکورہ معاملے کے ساتھ ساتھ ایسے دیگر معاملوں کو قانون کی کسوٹی پہ جانچا جائے۔
دراصل ہندوستان میں توہین ِ رسالت کی تاریخ برطانوی سامراج کے وقت سے ملتی ہے۔اس کی شروعات تب ہوئی جب۱۹۲۴ء میں امرتسر میں مہاشے راجپال نے “رنگیلا رسول “نام سے ایک قابلِ مذمت کتاب شایع کرائی ، نعوذُباللہ ۔ اس کتاب میں حضور اکرمؐ کے کردار کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس حد درجہ گستاخی پر ہندوستان کے سیاسی راہنماوں نے بھی اعتراز جتایا تھا جن میں مہاتما گاندھی بھی شامل تھے۔ مہاتما گاندھی نے Young India نامی اخبار کے اداریہ “Inflammatory literature” میں اپنا ردِ عمل کُچھ یوں لکھا تھا ، “Abuse and caricature of prophet cannot wean a Musalman from his faith and it can do no good to a Hindu who may have doubts about his own belief. As a contribution therefore, to the religeous propaganda work,it has no value whatsoever.”
یہ وہ دور تھا جب برطانوی سامراج کی طرف سے بنائے گئے Indian Penal Code میں گستاخِ نبی کو سزا دینے کے لئے کوئی بھی قانون موجود نہیں تھا ۔ لہٰذا مہاشے راجپال کو عدالت سے رہائی ملی۔ برطانوی حکومت نے معاملے کی نوعیت کو سمجھتے ہوئے جلد ہی ۱۹۸۰ء میں تیار کئے گئے انڈین پینل کوڈ کی شق 295 میں Section 295A جوڑ دیا ،جس کی رو سے کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی پاداش میں تین سال تک کی سزا ہوسکتی ہے یا جرمانہ عاید ہو سکتا ہے۔ یہ قانون ۱۹۲۷ء میں قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا گیا جس پر اسمبلی میں مباحثہ بھی ہوا۔ اسمبلی کے کچھ ممبران نے اس بل پر اعتراض جتایا کہ اس قانون میںواضع طور توہین ِ رسالت کو زیرِ تحریر نہیںلایا گیا ہے۔ بہر کیف اس قانون کے تحت تا ایں دم جو معاملات درج ہوئے ہیں، ان میں عتیق الرحمان ، نپور شرما کے علاوہ وسیم رضوی بھی شامل ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ تحریر ہے کہ ہندوستان میں سیکشن 295A IPC کے ساتھ ہم آہنگ ایک اور قانون موجود ہے جو مذہبی جذبات مجروح کرنے کی پاداش میں ایک شخص کو کیفر کردار تک پہنچا سکتا ہے، اور وہ ہے IPC Section 153A ۔سیکشن Section 295A کے تحت تا ایں دم کتنے معاملات درج ہوئے ہیں، اس کا اگرچہ مکمل خاکہ ملنا مشکل ہے لیکن ہندوستان کے نامور انگریزی روزنامہ The Hindu نے رواں برس یکم جون کو ایک رپورٹ شایع کی تھی جس میں سیکشن 153A کے تحت درج کئے گئے کیسز کا ریکارڈ جمع کیا گیا تھا ،جس سے یہ اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ ہندوستان میں توہین ِ رسالت سے جُڑے معاملات کی تعداد کس قدر بڑھتی جا رہی ہے اور توہین ِ مذاہب کے خلاف بنایا گیا قانو ن کتنا سخت یا کتنا فعال ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق ۲۰۱۴ء سے ابھی تک 153A IPC کے تحت 6000 سے زائد کیسز درج کئے جا چُکے ہیں ۔ رپورٹ میں مکمل طور واضع ہے کہ ۲۰۱۶ء سے ان کیسز میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے جہاں6000 سے زائد معاملات درج کئے جا چُکے ہیں وہیں چارج شیٹ صرف 27% معاملات میں داخل کی گئی ہے جبکہ زیرِ التوا کیسز کی شرح 64.3% ہے۔ ان معاملات میں سز محض 20.2% معاملات میں ہی ہوئی ہے۔
حکمران جماعت کی معزول شدہ ترجمان نپورشرما نے ۲۶ مئی کی شام کو Times Now نامی ایک ٹی وی چینل پر ڈبیٹ کے دوران پیغمبرِ اسلام ؐ کی شان میں گستاخی کی تھی، جس کے بعد دنیا بھر سے ذی حس افراد نے نپور کی گستاخانہ حرکت کی مذمت کی، یہاں تک کہ عرب ممالک نے شدید نوٹس لیا ۔ قطر کی حکومت نے بھارتی سفیر کو فوری طلب کیا اور ان پر معذرت مانگنے پر زور دیا۔ کویت اور ایران سے بھی اسی طرح کا ردِ عمل دیکھنے کو ملا،اس کے بعدنپور شرما کو عہدے سے ہٹایا گیا ۔ لیکن یہ سب ہونے تک بھارتی میڈیا، سوشل میڈیا اور دیگر ذرایع ابلاغ سے نپور کی گستاخانہ حرکت پھیل جانے سے اس نے تناو کی شکل اختیار کرلی تھی۔ سوشل میڈیا کی بات کریں تو سماجی ویب سائٹ ٹویٹر پر اس وقت بھی دونوں طرح کی ٹیوٹس کی بھرمار ہے، نپور شرما کے حامیوں کی طرف سے ان کے حق میں کئے جانے والے ٹیوٹس اور اس کے بیان پر ناراض ہوئے لوگوں کی طرف سے کئے جارہے ٹیوٹس۔ اسی رسہ کشی اور تناو کے نتیجے میں کنیا لال تیلی نامی ایک درزی نے بھی اپنی جان گنوادی۔ اس قتل میں ملوث دو افراد کو گرفتار کیا جا چُکا ہے،جنہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ہی اپنا جُرم قبول کر لیا تھا۔ذرایع کی مانیں تو ناسک میں ہوئے صوفی بابا نامی ایک مسلمان مذہبی راہنما کے مبینہ قتل کوبھی کُچھ لوگ اسی آپسی کھٹاس اور رنجش سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ حالانکہ کنیا لال اور صوفی بابا ، دونوں کا قتل قابلِ مذمت ہے اور افسوس ناک ہے لیکن اس طرح کے دلخراش و دلدوز حالات کا ذمہ دار کون ہے، اس سوال کا جواب روزِ روشن کی طرح عیاں اور آئینے کی طرح صاف ہے۔یہاں چند سوالات ایسے بھی اُبھرتے ہیں جو ابھی تک تشنہ تکمیل بحث کی صورت احتیار کر چُکے ہیں۔ اول یہ کہ کیا نپور شرما کے اس بیان سے یا اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے تعصب کی سیاست کرنے والے سیاستدانوں کو کوئی سبق ملا ہے ؟کیا نپور شرما کو قانونی گرفت میںلیا جائے گا یا یہ معاملہ بھی بیشتر زیرِ التوا معاملات کی طرح سرد خانے میں جائے گا؟ کیا مسلم قوم کے بار بار ٹھیس پہنچا کر سیاسی روٹیاں سینکنے کی روایت جاری رہے گی یا اِسےروکنے کی کوشش بھی ہوگی؟ یہ سوالات ہنوز تشنہ جواب ہیں۔
(مردوشیواہ ،زینہ گیر،رابطہ۔9149468735)
[email protected]