(اطلاقی،مثالیں،مسائل و ممکنات)
مصنف; ڈاکٹر الطاف انجم
صحفات; 480 قیمت: 500 روپے
ناشر :ایجوکیشنل پبلشنگ ہاو س
زیر تبصرہ کتاب ’’ارد و میں مابعد جدید تنقید ۔اطلاقی،مثالیں،مسائل وممکنات‘‘تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے جو ڈاکٹر الطاف انجم کی تحقیقی وتنقیدی بصیرت کا عکاس ہے۔ ڈاکٹر الطاف انجم ریاست جموں وکشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، نیز نظامت فاصلاتی تعلیم کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسرکی حیثیت سے کام کررہے ہے ہے۔ ڈاکٹر الطاف انجم نے 480 صفحات پر مشتمل تصنیف کا انتساب ہے اپنی بہن’’تسلیمہ جان‘‘ اور اپنے جگر گوشوں’’فاطمہ الطاف اور محمد ابراہیم‘‘کے نام کیا ہے۔کتاب5 ابواب پر مبنی ہیں۔مصنف نے اظہار تشکر اور مقدمہ بھی خو د رقم کیا ہے جس میں انھوں نے اپنے اہل خانہ کے علاوہ ان تمام ساتھیوں،دوستوںاور استادوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے یہ کیا۔ پایہ تمیل پہنچانے میں مصنف کو قدم قدم پر ساتھ دیا ہیں۔مقدمے میں ڈاکٹر الطاف انجم نے اپنی کتاب کی اہمیت کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ پیش کیا ہے۔
کتاب کا پہلا باب’’اکیسویں صدی میں ادبی تنقید:مناسب و مقاصد‘‘ہے، جس میں تنقید کے روایتی تصور اورمابعدجدید مفہوم میں تنفید کو نہایت ہی تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔تنقید کا مفہوم بیان کرتے ہوئے اور اس کی ماہیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر الطاف انجم رقمطراز ہیں:’’اردو میں تنقید کے معنی پرکھنے ،جانچنے وغیرہ متصور کیے جاتے رہے ہیں اور ان سے مراد ادب پارے کی تحسین شناسی اور اس کی ادبی قدروقیمت کا محاکمہ کرنا ہے لیکن تنقید کے معنی اور اس کے دائرہ کار کو معاصر ادبی،لسانی اور فکری تغیر وتبدیل کے تناظر میں متعین کرنا ایک اہم کام ہوگا۔‘‘(ص۔31 )
نیر ادب کے معتبر اور نظریہ ساز ناقدین مثلا:افلاطون،ارسطو،الطاف حسین حالی،مولاناشبلی،گوپی چند نارنگ،شمس الرحمان فاروقی کی آرا سے اس باب میں ترقی پسند تحریک سے عصر حاضر تک کی ادبی تنقید کو بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کتاب کا دوسرا باب’’اردو میں جدید یت اور نئے تنقیدی تصورات کی آمد‘‘کے عنوان سے شامل ہے۔کتاب کے اس باب کو چھ ذیلی ابواب میں منقسم گیا گیا ہے:(۱)جدیدیت :مفاہیم اور مبادیت، (۲)اردو میں جدیدیت کا آغاز وارتقاء،(۳)ہیتئی تنقید،(۴)اردو میں ہیتی تنقید اطلاق،مثالیں اور مسائل)،(۵)نئی تنقید،(۶)ساختیاتی تنقید۔اس باب میں جدیدیت کے رجحان پر دلچسپ بحث و تمحیص نظر آرہی ہے ۔ڈاکٹر الطاف انجم نے جدیدیت اور اس کے فکری اور فلسفیانہ پس منظر پر روشنی ڈالی ہے۔جدیدیت کی علمی وادبی اور ثقافتی صورت حال کی سر گرمیوں کی تفہیم و توضیح پر اظہار خیال کرتے ہو ئے ڈاکٹر الطاف انجم لکھتے ہیں:’’مغرب میں نشاۃ الثانیہ کے بعد علمی اور فکری ،سماجی اور اصلاحی سطح پر جو نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں انہیں کچھ ماہرین بشریات ’’ماڈرنٹی ‘‘کا نام دیتے ہیں ‘‘ ۔ (ص۔۔55 ) نیر اس باب میں پھر مصنف نے اردو ادب میں جدیدیت کا آغاز و ارتقاء کو موضوع سخن بنایا گیا ہے۔اس کے بعد جدیدیت کے تحت پیش آئے ہوئے تنقیدی نظریات پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔اس طرح اس باب میں جدیدیت کے علاوہ ہیتئی تنقید،نئی تنقید(New Criticism )،اردو میں ہیتی تنقید اطلاق،مثالیں اور مسائل اور ساختیاتی تنقید(Structuralism Criticism ) کے نظریات کی واضحات،اہمیت ،افادیت کواجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر الطاف انجم لکھتے ہیں: ’’ ہیئت پسندوںنے ادب کی ہئیت کے تجزیاتی اور معروضی مطالعے پر اپنی تنقیدی عمارت کی تعمیر وتشکیل کی۔(ص۔۔80 )
’’نئی تنقید اپنے دائرہ کار میں فن پارے کی جمالیاتی محاسن سے بحث کرتی ہے‘‘(ص۔۔109 )۔
’’ساختیات نے اردو تنقید کو نئی سمتیں اور سطحیں عطا کیں اور مروجہ تصورات کو متزلزل کیا نیز تنقید کو کچھ نئی اصطلاحات جیسے، بیانیہ، ڈسکورس،متن ،دال ،مدلول ،وغیرہ سے مالا مال کیا۔(ص۔۔159 )
تیسرا باب ’’اردو میں مابعد جدیدیت اور اس کے تنقیدی نظریات‘‘جو اس کتاب کا سب سے بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت کی اہم باب ہے۔کتاب کے اس باب کو بھی بارہ ذیلی ابواب میں منقسم کیا گیا ہے۔پہلے ذیلی باب میں مابعد جدیدیت کی اصطلاح کی توضیح کرتے ہوئے مابعدجدیدیت کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔مابعد جدیدیت کی صراحت کرنے ہوئے ڈاکٹر الطاف انجم لکھتے ہیں:’’مابعد جدیدیت کسی ایک نظریہ کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں بہت سارے تفکیری رویے عیاں اور نہاں ہیں جو سماج میں موجود مختلف اذہان کی پیدا وار ہیں، جن کے پیدا ہونے کے اسباب کا تعلق براہ راست مقامی،قومی اور بین الاقومی سطح پررونماہونے والی سیاسی،سماجی ،ثقافتی اورمعاشی تبدیلیوں سے ہے۔(ص۔۔173 )دوسرے ذیلی باب میں جدیدیت اور مابعدجدیدیت کے مابین یکسانیت کو بیان کرنے کے علاوہ ان کی آپسی رنجش کو بھی پیش کیا گیا۔تیسرے ذیلی باب میں بڑے جامع انداز سے مابعدجدیدیت تنقید کی وضاحت،جدیدیت اور مابعدجدیدیت کے رشتے اور تخلیق کار اورناقد کی تنقیدی فکر اور ذمہ داریوں پر خامہ فرسائی کی گئی ہے۔اس میں جن مختلف افکار و نظریات کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ان میں لاتشکیل تنقید(Deconstruction )، تانیثیی تنقید(Femimism )، قاری اساس تنقید(Readers Orientend )، نئی تاریخیت (New Historicism )،بین المتونیت (Intertextuality )،امتزاجی تنقید اور اکتشافی تنقید شامل ہیں۔
کتاب کا چوتھا باب ’’مابعد جدید تھیوری :اطلاقی ،مثالیں،مسائل اور ممکنات‘‘ ہے اس باب کو حتی الامکان جامع اور منفر د بنانے کی کوشش کی گی ہے۔اس کو تین ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے:(۱)مابعد جدید تھیوری کی اطلاقی مثالیں۔(۲)مابعد جدید تھیوری کے اطلاقی مسائل۔(۳)مابعد جدید تھیوری کے اطلاقی امکانات۔اس کے بعد پہلے ذیلی باب کو مزید دو حصوں :(۱)مابعد جدید تھیوری کا اطلاق
اردو فکشن پر اور(۲)مابعد جدید تھیوری کا اطلاق اردو شاعری پر میں تقسیم کیا گیا ہے۔اردو میں مابعد جدید تھیوری کا دائرہ کار وسیع معنویت کا حامل ہے ۔اس باب میںڈاکٹر الطاف انجم نے’’ مابعد جدید تھیوری :اطلاقی ،مثالیں،مسائل اور ممکنات‘‘کو موضوع گفتگو بنایا ہے۔نیز اس باب میں مابعد جدید تھیوری کا اطلاق اردو فکشن پر اور اردو شاعری پر جستہ جستہ روشنی ڈالی گئی ہے۔مستقبل میں تھیوری کی پذیرائی کے امکانات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’خلاصہ بحث یہ ہے کہ اردو میں مابعد جدید تنقیدی نظریات کا مستقبل پُر امید ہوسکتا ہے لیکن شرط صرف یہ ہے کہ اردو کے ناقدین و محققین متعصبانہ عینک نکال کرادب اور ثقافت کے عصری ڈسکورس ،جو اپنی اصل میں بین العلومی ہے،پر غور فکر کرتے ہوئے وقت کشادہ ذہنی سے کام لیں۔بقول غالبؔ ؎(ص۔۔411)
بخشے ہے جلوہ گل ذوقِ تماشا غالبؔ
چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہوجانا
یہ باب کتاب کا مغز بھی ہے۔مذکورہ باب کے بعد ان کا خلاصۂ بحث کے عنوان سے خلاصہ پیش کیا گیا ہے، جس میں ان چار ابواب کا اجمالی
جائزہ بھی پیش کیا گیا ہے۔نیز اس باب میں پوری کتاب کی اہمیت کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کتاب کا آخری باب ’’اردو میں تھیوری ساز ی اور نمائندہ ناقدین ‘‘پر مشتمل ہیں۔اس میں خاص طور پر ان ناقدین کے نظریات کو بھی سراہا گیا ہے جنہوں نے اردو تنقید میں نظریہ سازی کا کام کیا ہے اور جو تھیوری کے معاملے میں تشریح اور اطلاق کے مختلف مراحل میں پیش پیش رہے ہیں۔اس سلسلہ میں گوپی چند نارنگ،وزیر آغا،شمس الرحمان فاروقی،حامدی کشمیری،اور ناصر عباس نیر کے تنقیدی نظریات کو بھی پیش کیا گیا ہے۔نیز وہاب اشرفی، ابولاکلام قاسمی، عتیق اللہ ،قاضی افضال حسین،قدوس جاوید،ظہور الدین،قمرجمیل،فہیم اعظمی،شافع قدوائی،مولا بخش جیسے ممتار ناقدین کی تنقیدی خدمات بھی شامل باب ہے۔
یہ کتاب ارد و میں مابعد جدید تنقیدکے تقاضوں کوکتنا پورا کرتی ہے اس کافیصلہ تو ناقدین ادب کی ذمہ داری ہے لیکن ایک طالب علم کی نگاہ میں ڈاکٹر الطاف انجم کی یہ کتاب ادبی تنقید کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنے میں معاون ثابت ہونے کے علاوہ طالبان جامعات کے لئے کافی سود مند ثابت ہو گی۔کتاب کی طبات بہت دیدہ زیب ہے۔چھپائی اور کاغذ بہت عمدہ استعمال کیے گئے ہیں۔امیدی قوی ہے کہ ڈاکٹر الطاف انجم کی یہ کتاب ریاست کے ادبی حلقوں میں خوب پذیرائی حاصل کرے گی۔
مولانا آزاد نیشنل اردویونیورسٹی ،حیدر آباد،، ربطہ نمبر:9697330636