پونچھ//ہندو پاک افواج میں جنگ بندی کے خلاف ورزی روز کا معمول بن چکا ہے۔دونوں ممالک کی افواج کی جانب سے ایک دوسرے کو تو نشانہ بنایاہی جاتاہے لیکن ساتھ ہی آبادی والے علاقوں پر بھی گولے داغے جاتے ہیں جس وجہ سے آر پار کی آبادی پریشان حال ہے ۔سرحد کے اِس جانب لوگ پاکستان کی گولہ باری کی وجہ سے شدید مشکلات کاسامناکررہے ہیں اور انہیں ریاستی اور مرکزی حکومت کی طرف سے بھی کوئی تحفظ حاصل نہیں ۔کھڑی کرماڑہ کے سماجی کارکن فضل بڈھانا کاکہناہے کہ افسوسناک بات ہے کہ ریاستی حکومت پونچھ ضلع کے حدِ متارکہ کے قریب کے رہائشیوں کو بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کر رہی ۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے دیگرسرحدی علاقوںخاص کر جموں میں پختہ بنکر بنا ئے جارہے ہیں تاکہ وہ ہندوپاک افواج کے درمیان گولہ باری کے دوران لوگ ان میں پناہ لے سکیںتاہم افسوس ہے کہ پونچھ ضلع جہاں سب سے زیادہ گولہ باری ہوتی ہے، کو نظر انداز کر کے اس کے ساتھ سوتیلا برتائو کیا جارہاہے ۔انہوں نے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ ساوجیاں، شاہ پور، کیرنی کھڑی کرماڑا ، دیگوار، سلوتری جھلاس ،کرشنا گھاٹی، بالاکوٹ اور دیگر سرحدی علاقوں کے حدِ متارکہ کے قریب کے رہائشی علاقوں کی عوام کو بھی پختہ بنکر تعمیر کر کے دے تاکہ افواج کے درمیان ہورہی گولہ باری کے دوران وہ ان میں پناہ لے سکیں۔انہوںنے مزید کہا کہ سرحدی علاقہ کھڑی کرماڑا میں عوام کو بنیادی سہولیات جن میں آٹا اور چینی کی فراہمی شامل ہیں بھی فراہم نہیں ۔بڈھانانے الزام لگایاکہ پچھلے پانچ ماہ سے کھڑی کرماڑہ کے راشن گھاٹوں سے عوام کو نہ تو آٹا دیا جا رہا ہے اور نہ ہی چینی دی جارہی ہے۔انہوں نے ریاستی سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدی علاقہ پونچھ کی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرے۔