راجوری //راجوری ہسپتال کے باہر احتجاج کرنے والوں کو شرپسند عناصر کا نام دیتے ہوئے انتظامیہ اور پولیس نے کہاہے کہ ان لوگوں کی شناخت کرلی گئی ہے ۔ ایک سرکاری بیان میں ضلع انتظامیہ راجوری نے طالب علم کو حرکت قلب بند ہونے کے بعد ہسپتال لیاگیاجہاں اسے مردہ قرار دیاگیا ۔انتظامیہ کے مطابق اس کے بعد نعش کا پوسٹ مارٹم کرنے کیلئے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی لیکن کچھ مقامی لوگوں اور طلباء نے نعش کو وہاںسے اٹھاکر سڑک پر لیجاکر دھرنا شروع کردیا اور ایمبولینس گاڑی کی عدم دستیابی کا الزام عائد کیا ۔ بیان میں مزید بتایاگیاہے کہ ڈپٹی کمشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری نے ایڈیشنل ایس پی محمد یوسف ، اے سی آر عبدالقیوم میر اور دیگر سینئر افسران کے ہمراہ موقعہ کا جائزہ لیا اور طلباء سے بات چیت بھی کی اور یقین دلایاکہ اس حوالے سے تحقیقات کرائی جائے گی ۔بیان میں مزید بتایاگیاہے کہ ڈپٹی میڈیکل سپرینڈنٹ کے مطابق ہسپتال میں پانچ ایمبولینس گاڑیاں دستیاب ہیں جن میں سے چار مریضوں کولیکر جموں گئی ہوئی ہیں جبکہ پانچویں گاڑی کو ورکشاپ منتقل کیاگیاہے ۔انہوںنے بتایاکہ ایک گاڑی منجاکوٹ سے منگوائی گئی لیکن نوجوانوں کے گروپ نے نعش کو اپنے ساتھ لے لیا ۔انہوںنے مزید بتایاکہ دھرنے کی وجہ سے منجاکوٹ سے لائی جارہی گاڑی اور پولیس کی ایک گاڑی درماندہ ہوگئی ۔ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اس معاملے میں کسی نے بھی کوئی لاپرواہی نہیں کی اور نعش کو بغیر پوسٹ مارٹم لے لیاگیا۔انتظامیہ کے بیان کے مطابق جب نعش کو ایمبولینس گاڑی کے ذریعہ آبائی گائوں نیروجال منتقل کیاجارہا تھاجس دوران بغیر یونیفارم والے کچھ شر پسندوں نے طلباء کے ہمراہ دھرنا دیا اور پتھرائو شروع کردیا جس کے نتیجہ میں پولیس افسران و اہلکار زخمی ہوگئے ۔بیان کے مطابق مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے ٹیئر گیس شل پھینکے ۔بیان میں مزید بتایاگیاہے کہ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کو نقصان پہنچایاگیاہے اور پانچ لاکھ روپے کاسامان توڑ پھوڑ کیاگیاہے ۔اس کے علاوہ پانچ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایاگیاہے ۔ بیان میں دعویٰ کیاگیاہے کہ مظاہرے میں کچھ سیاسی ورکر بھی ملوث پائے گئے ہیں ۔وہیں پولیس نے اپنے بیان میں کہاہے کہ واقعہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ سماج دشمن اور شرپسند عناصر نے امن و قانون کی حالت پیدا کی لیکن انتظامیہ اور پولیس کی بروقت کارروائی کی وجہ سے وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوپائے ۔پولیس کے مطابق شرپسندوں کی شناخت کرلی گئی ہے اور قانون کے دائرے میں کارروائی کی جائے گی ۔اس سلسلے میں پولیس تھانہ راجوری میں ایک کیس درج کرکے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔