سرنکوٹ// صاحب مہ خانہ نے اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے سرنکوٹ میں چل رہی شراب کی دوکان کو بند کردیاہے ۔ واضح رہے کہ شراب بندی کے معاملے پر سرنکوٹ میں متعدد مرتبہ احتجاج ہوئے جس کے بعد علماء اور انتظامیہ نے اس دوکان کے مالک سے بات چیت کرکے اس سے معاملہ طے اور یہ طے پایاگیاکہ اکتیس اگست کے روز یہ دوکان بند کردی جائے گی جس کے مطابق دوکاندارنے عمل کرتے ہوئے اسے بند کردیاہے ۔خیال رہے کہ مقامی نوجوانوں نے اس معاملے پر احتجاج کرتے ہوئے چند ماہ قبل ایس ڈی ایم سرنکوٹ اور تحصیلدار سرنکوٹ سے مانگ کی کہ شراب بندی کی جائے اور اگر اکتیس اگست کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہاتو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریںگے اور پھر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔ ایس ڈی ایم نے نوجوانوں کو تب یہ یقین دلایاتھاکہ اکتیس اگست کو یہ دوکان بند ہوجائے گی اور وہ امن وقانون کی صورتحال کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔اپنے وعدے کے مطابق شراب کاکاروبار کرنے والے شخص نے دوکان بند کردی جس پر مقامی لوگوں کی طرف سے انہیں مبارکباد پیش کی جارہی ہے ۔ مقامی آبادی کاکہناہے کہ یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے اور اس سے سرنکوٹ کے نوجوان تباہ ہونے سے بچ سکیںگے ۔ انہوںنے کہاکہ سرنکوٹ کی ہی طرح ریاست بھر میں شراب پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس دوران مساجد سے علماء نے بھی شراب بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ شراب کی دوکان آج سے بند ہوگئی ہے ۔ علماء کاکہناتھاکہ شراب نوشی یا شراب کاکاروبار ایک حرام فعل ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کوئی صدقہ و خیرات اور قربانی نہیں ہوسکتی ۔