کشتواڑ//پاڈر ریاست جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑمیں ایک دور دراز و خوبصورت وادی ہے۔یہ ضلع کشتواڑ کے پورے شمال مشرقی علاقہ کو گھیرتا ہے جسکی ایک سرحد شمال میں زنسکار(لداخ)،مشرق میںپانگی ہماچل پردیش اور مغرب میں مڑواہ ۔واڑون سے ملتی ہے۔یہ وادی نیلم ،خوبصورتی اور مذہبی مقامات کے لئے مشہورہے۔یہ ریاست جموں و کشمیر کے بہت ہی دور افتادہ خطوں میں سے ہے۔پاڈری کی متعدد ذیلی وادیاںہیں ،جن میں سے مچل ،گندھاری، کابن، اونگی،بُزھونو، برناج، بھزاس ،کجائی نالہ، اور دھارلنگ شامل ہیں۔مقامی لوگوں کی یہ شکایت ہے کہ اس دور افتادہ علاقہ کیلئے مناسب سڑک رابطہ نہیں ہے،نہ ہی مناسب موبائل سروس ہے اور نہ ہی بجلی ہے، بعض علاقوں میںمناسب سکول نہیں ہے ،نہ ہی سکولوں کی عمارات ہیں۔سیاحت کے شعبہ میں بھی اس علاقہ کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔حالانکہ اس علاقہ کے لئے موجودہ مخلوط سرکار نے ڈگری کالج کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک اس سلسلہ میں کُچھ بھی عملی طور پر نہیں کیا گیا ہے۔ان لوگوں کی یہ بھی شکایت ہے کہ منتخب لیڈران نے ان کے جذبات کے ساتھ ہمیشہ سے ہی کھلوااڑ کیا ہے۔ان لوگوں نے علاقہ کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ان لوگوں کا الزام ہے کہ علاقہ کے منتخب لیڈران نے انکے ساتھ بہت سے وعدے کئے ہیں لیکن زمینی سطح پر کُچھ نہیں کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کا مطالبہ ہے کہ کرتھائی ہائیڈرو پروجیکٹ پر فوری طور سے کام شروع کیا جائے،تاکہ ریست کے اس دور افتادہ علاقہ کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقعہ پیدا ہو سکیں۔مقامی لوگوں نے وزیر اعلٰی محبوبہ مفتی اور نائب وزیر اعلیٰ نرمل سنگھ سے اس مدعے پر ذاتی مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔