سرنکوٹ// نیشنل کانفرنس کے سابق وزیر اور ریاستی نائب صدر سید مشتاق احمد بخاری نے کہاہے کہ اگرچہ حکومت نے عوامی دبائومیں آنے کے بعدسرینگرایئرپورٹ پرشراب خانہ قائم کرنے کے فیصلے کوواپس لیاہے لیکن حکومت کوریاست میں شراب فروشی کوفروغ دینے سے بازآنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ریاستی مخلوط سرکار کوتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ دونوں پارٹیاں پی ڈی پی اور بی جے پی ریاست کو جہنم کی طرف دھکیل رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس کا سب سے بڑا ثبوت کشمیر ایئر پورٹ پر شراب خانہ کے قیام کی سوچ ہے ۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو کشمیر کے نوجوانوں کو برباد کرنے کے لئے انجام دی جارہی ہے لیکن یہ لوگ نہیں جانتے کہ کشمیر ولیوں کی جگہ ہے ۔انہوں نے مخلوط سرکار کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی ثقافت شیخ نور دین ولی ہے ، شیخ ہمدانی ہے اور بڑی بڑی مقدس ہستیاں ہیںجہاں تم شراب خانہ کھولنا چاہتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ جس ہوائی پٹی کا نام شیخ نور دین کے متبرک نام سے منسوب ہے وہاں یہ غلط مشن ہے کھبی کامیاب نہیں ہوگا۔ بخاری نے کہا کہ یہ وقت جب ہندو ستان کی متعددریاستوں میں شراب خانے بند کروائے جا رہے ہیں۔کشمیر میں شراب خانے کھولنے کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی اور بی جے پی سرکار شراب خانہ کھولنے کا غلط منصوبہ بندی کر رہی ہے جو گولی سے نہ مرے انھیں شراب پلا کر مارنے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مخلوط سرکار کو عقل کے دروازے کھولے اور وہ کام نہ کرے جو جموں کشمیر کی عوام کے لیے باعث مصیبت بن سکتے ہیں۔