جموں//گوجربکروال دیش یوتھ باڈی اورایس سی /ایس ٹی ،اوبی سی تنظیموں کی جانب سے خانہ بدوش گوجربکروالوں کوآئے روزمختلف حیلوں بہانوں سے انتظامیہ کی جانب سے ہراساں وتنگ طلب کرنے ،ریزروڈکیٹاگریوں کے ملازمین کی ترقی میں ریزرویشن بحال کرنے اورطبقہ کی دیگرمانگوں کولیکرسیکرٹریٹ کھلنے پراحتجاجی مظاہرہ کیاتاہم انہیں پولیس نے ان کی مال مویشی بازاروں تک لانے کی کوشش کوناکام بنادیا۔اس دوران احتجاجی مظاہرے کی قیادت چوہدری نزاکت کھٹانہ کررہے تھے۔اس دوران مظاہرین نے گذشتہ چندہفتوں کے دوران مختلف اضلاع میں انتظامیہ کی جانب سے گوجربکروالوں کے کلے منہدم کرنے کے واقعات بشمول راجپورہ منڈی اکھنورروڈ ، ہریہ چک کٹھوعہ، کرنالہ چک نکی توی ، خان پورنگروتہ ، وجے پورسانبہ میں عبداللہ بستی ،دوارداتوی اورہرکی پوڑی وغیرہ پرشدیدناراضی کااظہارکیاگیا۔اس دوران کھٹانہ ودیگرگوجرلیڈران بشمول اخترچوہدری،امیرالدین کسانہ وغیرہ نے کہاکہ صوبہ جموں میںگوجربکروال طبقہ کے لوگوں کونہ صرف شرپسندعناصرپریشان کررہے ہیں بلکہ انتظامیہ کی طرف سے ان غریب اورخانہ بدوش لوگوں کونشانہ بناکراُجاڑنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جوکہ ناقابل قبول ہیں۔۔انہوں نے کہاکہ جموں اورملحقہ علاقوں میں رہائش پذیر مسلمانوں (گوجربکروالوں)کوایک منصوبہ بندسازش کے تحت نشانہ بنایاجارہاہے جوکہ حکومت کی ناکامی کاثبوت ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت خانہ بدوش گوجربکروالوں کے مسائل کے ازالہ کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔انہوں نے گذشتہ دنوں اکھنورروڈ اورہیراچک کٹھوعہ میں پیشگی اطلاع دیئے بغیر ہی غریبوں کے کلے منہدم کرنے کوسراسرناانصافی قراردیا۔مقررین نے مزیدکہاکہ خانہ بدوش گوجربکروال جنگلاتی رقبہ پررہ رہے ہیں جبکہ اس وقت فاریسٹ ایکٹ لاگونہیں ہے ۔اس موقعہ پرمظاہرین نے حکومت سے فاریسٹ رائٹ ایکٹ 2006لاگوکرکے جنگلات اراضی پردہائیوں سے رہ رہے قبائلی لوگوں کومالکانہ حقو ق دینے، ریزروڈکیٹاگریوں کے ملازمین کی ترقیوں میں ریزرویشن بحال کرنے، ایس سی ،ایس ٹی اسامیوں کی بیک لاک اسامیوں کومتعارف کرنے اورگوجری زبان کوآئین ہندکے آٹھویں شیڈول میں شامل کرنے اورریاست کے تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کامطالبہ کیا۔اس دوران مظاہرین میں رفاقت اعجاز، چوہدری طالب حسین، چوہدری اخترحسین، چوہدری امیرالدین کسانہ، گوجرکلیان سبھا چوہدری قمرربانی چیچی، ہنت رام تامر، نتھورام، عاشق حسین، چوہدری رفیق بلتی، عاشق حسین، گوجربکروال سٹوڈنٹس ویلفیئرایسوسی ایشن ،گوجربکروال اصلاحی کمیٹی اورجموںمسلم فرنٹ کے کارکنان شامل تھے۔