راجوری//باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری(جموں وکشمیر)کے شعبہ اُردو میں اردو اور فارسی کے عظیم شاعر علامہ اقبال کی یاد میں ایک خاص ادبی پروگرام کا اہتمام کیا گیاجس کی صدارت کے فرائض شعبۂ عربی،اردو اور اسلامک اسٹیڈیز کے صدر ڈاکٹر شمس کمال انجم نے انجام دیے۔اس ادبی پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔علامہ اقبال کی حیات وشخصیت اور ان کی آفاقی سوچ وفکر اور بالخصوص ان کے فلسفۂ خودی کو موضوع بناتے ہوئے اُردو شعبے کے اساتذہ اور طلبہ وطالبات نے اپنے اپنے مقالات سامعین وشائقین اردو کی خدمت میں پیش کیے اور بڑے معلوماتی اندازمیں فکر اقبال اور شخصیت اقبال پر روشنی ڈالی۔علامہ اقبال اردو اورفارسی زبان وادب کے ایک ایسے شاعر ہیں جن کی شاعری میں اسلامی پیغام اور حیات وکائنات کے کئی سربستہ رازوں کا انکشاف موجود ہے۔انھوں نے جہاں اپنی آفاقی نوعیت کی شاعری سے پوری ملت اسلامیہ کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کی کوشش کی ہے تو وہیں انھوں نے عالمی امن،بھائی چارے؛رواداری؛حسن اخلاق وکردار پر بھی شاعرانہ مکالمہ کیا ہے۔بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے اساتذہ نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ علامہ اقبال جیسے عظیم شاعر کو ایک ادبی محفل کے طور پر خراج عقیدت پیش کیا جائے جو تحقیقی مقالات کی صورت میں ہو۔اس سلسلے میں شعبئہ اردو کے جن طلبہ وطالبات نے علامہ اقبال کی حیات؛شخصیت اور شاعری پر مقالے پڑھے ان میں منظور حسین نے"اردو زبان کاآغاز وارتقا"نکہت آرا نے"اقبال کا سفرنامہ؛لاہور سے لندن تک"طیب الرحمن نے"جموں وکشمیر میں اردوزبان کاآغاز"گلشن مہتاب نے"ریاست جموں وکشمیر میں اردو بحیثیت سرکاری زبان"شمائلہ سحر نے"اقبال کا فلسفئہ خودی"سائمہ خورشید نے"اردو شاعری میں نئے رجحانات "اور شاہین مغل نے"اردو ایک تہذیب"عنوان کے تحت مقالہ پیش کیا۔شعبئہ اردو کے اساتذہ میں ڈاکٹر مشتاق احمد وانی نے خطبئہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اردو کے طلبہ کو اس بات کا ثبوت دیناہوگا کہ وہ واقعی اردو کے طلبہ ہیں اسکے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اردو کی معیاری کتابوں کا مطالعہ کریں۔گھروں اور گھروں سے باہر اردو میں بات کریں۔ان کی حرکات وسکنات سے اردو زبان وتہذیب کی جھلکیاں عیاں ہونی چاہیں۔انھوں نے اپنی تازہ تحریر کردہ کہانی"واپسی" بھی سامعین کی نذر کی۔ڈاکٹر محمد آصف ملک نے ایک پر اثر مقالہ"میں ہوں مظلوم اردو زبان"پڑھا اور اپنی سریلی آوازمیں نعت خوانی کی۔رضوانہ شمسی نے مترنم آوازمیں غزل سنائی جب کہ ڈاکٹر محمد ایوب نے پروگرام کے انتظامیہ امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بحسن وخوبی انھیں انجام دیا۔ڈاکٹر شمس کمال انجم نے اپنے صدارتی خطبے میں فرمایا کہ شعبئہ اردو کے اساتذہ اور طلبہ وطالبات مبارک باد کے مستحق ہیں کہ جنھوں نے بڑی محنت ولگن اور علمی وادبی ذوق وشوق کے ساتھ یوم اقبال کے موقعے پر ایک معیاری اور کامیاب پروگرام منعقد کروایا۔انھوں نے طلبہ کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اردو کی لغات کے ساتھ اپنے دوستانہ مراسم قائم کریں تاکہ ان کی ذہنی ویب سائٹ میں اردو لفظیات؛اصطلاحات؛محاورات وضرب الامثال اور تراکیب ومترادفات کا ایک وافر ذخیرہ جمع ہوسکے۔انھوں نے یہ بھی فرمایاکہ طلبہ وطالبات کو اپنے اندر تخلیقی صلاحیتں پیدا کرنی چاہیئں اور اپنے قابل ترین اساتذہ سے مستفید ہونے کے لیے پورے جوش وجذبے کے ساتھ آگے آنا چاہیئے۔ایوان صدارت میں ڈاکٹر شمس کمال انجم؛ڈاکٹر مشتاق احمدوانی؛ ڈ اکٹر محمد آصف ملک اور اسلامک اسٹیڈیز کے ڈاکٹر رفیق انجم موجود تھے۔ان کے علاوہ ڈاکٹر نسیم گل؛جناب سجاد احمد اور جناب گلزار احمد بھی اس ادبی پروگرام کی زینت بنے۔پروگرام کی نظامت کے فرائض محترمہ رضوانہ شمسی انجام دیے۔