منڈی// تحصیل صدر مقام میں سول سوسائٹی کی جانب سے ایک احتجاج کیا گیا جس کی قیادت ڈاکٹر غلام عبّاس کررہے تھے۔ اس دوران احتجاج میں تحصیل منڈی کے معززین نے حصہ لیا ۔مظاہرے میں معززینِ منڈی نے ریاستی سرکار کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ عرصہ ساٹھ سال سے تحصیل منڈی کو کالج سے محروم رکھا گیا ہے جو ان کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔ تحصیل منڈی نہایت دور دراز علاقہ ہے جہاں سے طالب علموں کو روز پچاس کلو میٹر کا سفر طے کر کے پونچھ کالج پہنچنا پڑتا ہے جس وجہ سے ان کا بیشتر وقت سفر میں صرف ہو جاتا ہے اور وہ پڑھائی کو زیادہ وقت نہیں دے پاتے۔ اس کے علاوہ علاقہ کے لوگ بہت غریب ہیں اور بچوں کے والدین اتنے اخراجات برداشت نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم کو چھوڑناپڑ جاتا ہے اور اس طرح بچوں کی زندگی برباد ہو جاتی ہے۔ اس احتجاج میں منڈی کی عوام نے سرکار کو متنبہ کرتے ہویے کہا کہ اگر ایک ماہ کے اندر جموں و کشمیر سرکار نے منڈی کے لئے ڈگری کالج دینے کے احکامات صادر نہیں کیے تو تحصیل منڈی کی عوام سڑکوں پر اتر کر احتجاج کرے گی اور آگے آنے والے پنچایت الیکشن سے بائیکاٹ بھی کرے گی کیوں کہ بارہا سرکار کے نمائندوں نے یہاں کی عوام کے ساتھ ناانصافی کی ہے لیکن اب سرکار کو ایسا نہیں کرنے دیا جائے گا۔ احتجاجیوں نے کہا کہ تحصیل منڈی ایک لاکھ بیس ہزار کی آبادی پر مشتمل ہے جہاں سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں طلباْ حصولِ علم کے لئے کالج میں داخلہ لیتے ہیں اسلئے تحصیل منڈی میں کالج کی اشد ضرورت ہے تا کہ یہاں کی عوام کو پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل ہو سکے ۔اس دوران منڈی ساوجیاں لورن سڑک کو گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے مسدود رکھا گیا جس وجہ سے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس احتجاج میں ڈاکٹر غلام عبّاس،اکبر علی انصاری،حاجی امیرالدین، ،مبشّر بانڈے،محّمد زمان،عبدلا حق،عبدالاحدبٹ،صدر دین چک،گوہر علی میر اور محمّد اشرف شامل تھے۔