پونچھ//جموں میں خانہ بدوش گوجر بکروال طبقہ کی بے دخلی اور وزیر جنگلات لال سنگھ کے گھر کے باہراحتجاج کرنے والوں پر پولیس لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے پونچھ میں مظاہرہ کیاگیا اور ساتھ ہی دستخطی مہم بھی شروع کی گئی ۔حق انصاف کونسل،گوجر بکروال ایمپلائز ایسو سی ایشن اور گوجر بکروال یوتھ ایسو سی ایشن نے بس اڈہ پر جمع ہوکر احتجاج کیا ۔حق انصاف کونسل کے چیئرمین زیشان حیدر نے کہا کہ غریب گوجر بکروال طبقہ کو2014سے بلاو جہ نشانہ بنایا جا رہا ہے اور آئے دن ان کے خلاف سازشیں رچی جاتی ہیں۔ان کاکہناتھاکہ اگر ایسی مہم چلانی ہے تو اسے گاندھی نگر سے شروع کیاجائے اور ساتھ ہی وزیر موصوف جنہوں نے کئی سو کنال زمین کو اپنے قبضہ میں لے رکھا ہے، کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ راج باغ کٹھوعہ میں وزیر نے اس زمین پر اسکول،بنگلہ اور فارم ہائوس بنا رکھا ہے۔زیشان نے کہا کہ دو روز قبل پرامن احتجاج پر لاٹھی چارج اور نوجوان سماجی کارکن طالب حسین،کھٹانہ اور گفتار چوہدری و دیگر ان پر لاٹھی چارج کی گئی جس کی وہ مذمت کرتے ہیں۔انہوںنے انتباہ دیاکہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو آنے والے وقت میں جموں صوبہ بھی کشمیر صوبہ کی طرح لوگ سڑکوں پر نظر آئیںگے ۔دستخطی مہم کے آغاز پرگوجر بکروال ایمپلائز ایسو سی ایشن کے صدر چوہدری محمد اسد نعمانی نے کہا کہ آئے دن گوجر بکروال طبقہ کو نشانہ بنایا جانا افسوس ناک ہے اور ریاست میںفارسٹ ایکٹ نافذکیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت اس طبقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔نعمانی نے طبقہ کے نمائندوں کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ جن لوگوں کو اس معاملہ پر بولنا چاہئے وہ خاموش ہیں اور جو لوگ ایوانوں سے باہر ہیں وہ بھی چپ سادھ رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مستقبل میں اس حوالے سے بڑے پیمانے پر احتجاج کیاجائے گا۔گوجر بکروال یوتھ ایسو سی ایشن کے نائب صدر طارق کوہلی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لال سنگھ کو تنقید کانشانہ بنایااورکہاکہ ایسے وزیر کو مستعفی ہوجاناچاہئے ۔اس موقعہ پر وسیم قریشی،کامران علی،سرفراز چوہان،شیخ ضمیر،بشارت چوہدری،اشفاق احمد،تیجندر سنگھ،نوید انجم،رمیز خان، معروف خان وغیرہ بھی موجودتھے ۔