مینڈھر//3.60کروڑ کی لاگت سے دو برس قبل تعمیر ہونے والی ٹی آر سی عمارت کا ہنوز افتتاح نہیں کیاگیا جس کی وجہ سے یہ ناکارہ بن کر رہ گئی ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ اس عمارت کاکام دو سال قبل مکمل ہوگیاتھا تاہم متعلقہ حکام کاکہناہے کہ بجلی اور پانی کاکچھ کام باقی ہے جس کی تکمیل ہوتے ہی رسم افتتاح ہوجائے گا۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ ٹی آر سی کی عمارت مکمل ہے اور اس کے مین گیٹ کو مقفل رکھاگیاہے ۔چونکہ آج تک اس عما رت کا افتتا ح نہیں ہو پا یا جس کی وجہ سے محکمہ کے اعلیٰ افسر ان عما رت کو لو گو ں کے استعمال کیلئے نہیں لا رہے ۔ محمد بشیر، ظہیر عباس اور جمیل احمدکا کہنا ہے کہ مینڈھر قصبہ میں لو گو ں کے قیام کی جگہ نہیں اور ڈاک بنگلہ بھی پو ری طر ح تیار نہیں اوراس میں صرف تین ہی کمرے ہیں اس لئے ٹی آر سی کی عمارت انتہائی اہمیت کی حامل تھی جس میںدس کمر ے ہیں لیکن ان کا استعمال نہیں کیاجارہا۔ ا ن کاکہناہے کہ ٹی آر سی کے کمروں میںتمام فر نیچر بھی لگاد یا گیاہے جبکہ دو بڑے بڑے ہال بھی مکمل ہیں جہا ں پر ایک سو سے زائد لو گو ں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے اور عما رت میں دیگرتما م سہو لیات بھی میسر ہیں لیکن محکمہ افتتا حی رسم انجام نہیں دے رہاجس کا خمیازہ لوگوں کوبھگتناپڑرہاہے ۔ان کاکہناتھا کہ اگر عما رت کے افتتاح میں مزید تاخیر کی گئی تو یہ استعمال کے قابل نہیں رہے گی اور کھنڈرات میں تبدیل ہوجائے گی جو مینڈھر کے لو گو ں کے ساتھ سر اسر نا انصافی ہے ۔انہوںنے کہاکہ سوال یہ ہے کہ محکمہ سیاحت کا قلمدان خود وزیر اعلیٰ کے پاس ہے اور انہیں کب وقت ملے گا اور وہ اس کا افتتاح کریںگی ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ پہلے تو تعمیراتی کام مکمل ہی نہیں ہوتے لیکن اگران کوپایہ تکمیل تک پہنچایابھی دیاجائے تو متعلقہ اس قدر لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کا افتتاح کرکے لوگوں کے نام وقف نہیں کیاجاتا ۔انہوںنے کہاکہ یہ رسم جلد سے جلد نبھاکر ٹی آر سی کی عمارت کو کھولاجائے نہیںتو مینڈھر کے لوگ احتجاج کا راستہ اختیار کریںگے ۔رابطہ کرنے پر محکمہ کے ضلع افسر نے بتایاکہ پانی اور بجلی کا کچھ کام بقایاہے اور جیسے ہی وہ ہوجاتاتو رسم افتتاح ہوجائے گا۔تاہم سوال یہ ہے کہ یہ کیساکام ہے جس کو مکمل ہونے میں برسہابرس لگ رہے ہیں۔