پونچھ//گستاخ ٹیلی ویژن صحافی روہت سرداناکے خلاف اہل بیت مسجد پونچھ میں شیعہ فیڈریشن کے ضلع صدر ذکی حیدرکی قیادت میں احتجاجی اجلاس منعقد کیا گیاجس کی صدارت فیڈریشن کے صوبائی نائب صدر محمد بشیر میر نے کی ۔اس موقعہ پرمظاہرین نے روہت سردانا مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا اور ہندوستانی حکومت سے اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اس کے حضرت فاطمہؑ ، ام المومنین حضرت عائشہ ؓ اور حضرت مریمؑ کی توہین والے ٹوئٹ کے خلاف مسلمانوںمیں شدید غم وغصہ پایاجارہاہے ۔اسی سلسلے میںشیعہ فیڈریشن کی جانب سے اجلاس منعقد کیاگیاجہاں مقررین نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں حضرت فاطمہؑ اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ اور حضرت مریمؑ کی توہین برادشت نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ مسلمان کبھی بھی دوسرے مسالک کے مقدسات کے بارے میں کچھ نہیں کہتے اسلئے وہ اپنے مقدسات کے بے حرمتی کی اجازت بھی کسی نہیں دے سکتے ۔ ذکی حیدرنے کہا کہ حضرت عائشہ، حضرت فاطمہ اور حضرت مریم کی شان میں ادنیٰ سی بھی گستاخی مسلمان برداشت نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ ٹی وی اینکر رویت سردانا نے دانستہ طور پر گستاخی کرکے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی ناپاک کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس حرکت پر اس کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیاجانا چاہئے تاکہ ملک کی سالمیت پر سوالیہ نشان نہ کھڑ ا ہو۔انہو ں نے کہاکہ مذہب اسلام تمام مذاہب کا احترام کا حکم دیتا ہے اسی وجہ سے سچا مسلمان کسی بھی مذہبی شخصیات پر طعن وتشنیع نہیں کرتا ہے ‘ لیکن کوئی شخص مذہب اسلام کی پاکیزہ اور متبرک شخصیات پر انگشت نمائی کرے تو یہ بہت ہی گندی حرکت ہے جس کی جتنی مذمت بھی کی جائے کم ہے۔ محمد بشیر میر نے کہا کہ روہت سردانا ایک ایسے ناہنجار شخص کا نام ہے کہ جب تک وہ ’’زی نیوز‘‘ پر رہا وہاں پر بھی فرقہ پرستی کو ہودا دیتا رہا او رجب’’ آج تک ‘‘ نیوز چینل پر آیا تو یہاں پر بھی نفرت کی دیوار کھڑی کرنے لگا‘ مگر اس بار نفرت ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے جذبات سے اس طرح کھلواڑ کیاکہ شائد ہی کوئی مسلمان اسے معا ف کرے۔ انہوں نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ مرکز پر دبائو بنائے کہ وہ اس گسٹاخ کو سلاخوں کے پیچھے ڈالے۔اس موقعہ پر سید خورشید حسین جعفری،سید محمد صالح رضوی،تصدق حسین میر،ذوالفقار علی میر، شکیل حسین میر،رضوان حسین بٹ،شبیر حسین ڈار،شاکر حسین بٹ، عارف حسین میر،غلام محمد میر،جاوید علی میر اور فوجی غلام محمد میر بھی موجود تھے۔