مینڈھر//گزشتہ شام تحصیلدار مینڈھر پر حملے کے بعد کشیدہ ہوئے حالات کی وجہ سے سوموار کو دفعہ 144نافذ رکھاگیاجبکہ بازار بھی کچھ وقت کیلئے بند رہاتاہم جب حالات ٹھیک ہوگئے تو بازار کھول دیاگیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ شام انتظامیہ کی طرف سے پولیس کی موجودگی میں سیمنٹ سریا مارکیٹ میں ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم چلائی جارہی تھی جس دوران چند افراد نے تحصیلدار پر حملہ کرکے انہیں زخمی کردیا جس سے قصبہ کے حالات کشیدہ ہوگئے اور تحصیلدار کے رشتہ داروں نے احتجاج کرتے ہوئے ایک گاڑی کونذر آتش کردیا جبکہ اس دوران پتھرائو بھی کیاگیا۔ حالات کو کشیدہ دیکھ کر انتظامیہ کی طرف سے دفعہ 144نافذ کیاگیا اور پولیس کی نفری بھی تعینات رکھی گئی تاکہ حالات مزید خراب نہ ہونے پائیں ۔ اس دوران بازار بھی احتیاط کے طور پر بند رکھاگیاتاہم جب حالات ٹھیک رہے تو گیارہ بجے دوکانیں کھول دی گئیں ۔اس دوران کسی بھی قسم کاکوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا اور بڑی تعداد میںلوگ تحصیلدار مینڈھر کے دفتر پہنچے اور انہوںنے ان پر حملہ کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ کئی سیاسی و سماجی تنظیموں نے بھی تحصیلدار پر حملہ کی مذمت کرتے ہوئے انکوائری کی مانگ کی ہے ۔دریں اثناء محکمہ مال کے ملازمین نے حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کام چھوڑ ہڑتال کا انتباہ دیاہے ۔محکمہ کے ملازمین کی تحصیل کمپلیکس مینڈھر میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں تمام ملازمین نے شرکت کی۔ اس دوران انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر ملزمان کو گرفتار نہیں کیاگیاتووہ کام چھوڑ ہڑتال کریںگے اور اس سلسلے میں حتمی فیصلہ منگل کی صبح کو کیا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ پولیس ملزمان کی گرفتاری عمل میںلائے نہیں تو مینڈھر کے حالات خراب ہوسکتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اگر ملزمان کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو اس سے غنڈہ عناصر کے حوصلے بلند ہوجائیںگے اور عوام کا انتظامیہ کے تئیں اعتماد ختم ہوجائے گا۔ انہوںنے کہاکہ کسی کو غنڈہ گردی کے اجازت نہیں دی جانی چاہئے اور حملہ آوروں کے خلاف کارروائی ہو۔