پونچھ//ربیع الاول کی مناسبت سے جامعہ ضیاء العلوم پونچھ مرکزی جامع مسجد بگیالاں میں یک روزہ پروگرام بعنوان تذکرہ رسول عربی ؐمنعقد کیا گیا جس میں عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔یہاںجاری بیان کے مطابق اس موقعہ پر طلباء اورجامعہ کے علاوہ علماء کرام نے بھی سیرت کے موضوع پر تفصیلاً روشنی ڈالی۔ جامعہ کے اساتذہ مولاناا یاز احمد قاسمی اور مفتی محمد دانش قاسمی کے علاوہ جامعہ کے نائب مہتمم اور تنظیم علماء اہل سنت والجماعت کے صدر مولانا سعید احمد حبیب نے بھی خطاب کیا۔ اپنے تفصیلی خطاب میں مولانا نے آقائے نامدار رسالتمآب ؐ کی حیات طیبہ کے مختلف واقعات کے ذریعہ آپؐ کے اخلاق کریمانہ آپ ؐ کی شفقت ومحبت صبروضبط کا تذکرہ کیا اور کہا کہ آپ ؐداعی اعظم تھے اورآپؐ کی دعوت کا حسن یہ تھا کہ آپؐ کبھی بھی دعوتی میدان میں کسی سے بھی نہیں الجھے بلکہ الجھنے والوں کی طرف کبھی کوئی توجہ نہ دی اور نہ کبھی ان سے کوئی شکوہ کیا بلکہ تمام مصائب اور طعنوں کو برداشت کرتے ہوئے بھی اپنے عالی مقاصد واہداف کو جاری رکھا ،یہی وجہ تھی کہ دین محمدؐ ہر سوپھیلا اور ساری دنیا نور محمدی سے جگمگا اٹھی دوررسالت کا سب سے خوشی کا واقعہ فتح مکہ تھا۔ انہوںنے کہاکہ اس موقعہ پر تاریخ نے بھی کارنامہ دیکھا کہ تاریخ خود بھی کبھی ایسے واقعہ کو نہیں دوہراسکے گی اورایسا موقعہ جب آپ ؐ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوتے ہیں ،وہ مکہ جہاں سے آپ کو نکالا گیا اورظلم وجبر کے ذریعہ آپ کوہجرت پر مجبور کیا گیا مگر جب آپؐ اسی مکہ میں فاتح بن کر داخل ہوتے ہیں تواس وقت آپ نے رحمۃ للعٰلمین ہونے کا ایسا ثبوت دیا کہ آپ نے معافی کا اعلان عام کیا اوریہ شفقت اور کرم تھا نبی امی کا اوراخلاق کریمانہ تھے۔انہوںنے کہاکہ آپؐ نے عفودرگذر کا ایسا مظاہرہ کیا کہ دشمن بھی حیران رہ گئے اورآج کے حالات میں بھی امت کو ضرورت ہے کہ اسوۂ حسنہ کواختیار کرے اور کردار محمدؐ کو عملی جامعہ پہنائے ،کوئی بعید نہیں کہ اسلام کو اہل اسلام کو عروج حاصل نہ ہولیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ملت کی صفوں میں اتحاد پیداکیا جائے اورفروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھا جائے ، سنتوں کو گھروں میں سماج میں زندہ کیا جائے اور دوسرے مذاہب کے سامنے اسلام کی صحیح اور سچی تصویر پیش کی جائے۔ مولانا نے بعض میڈیا عناصر کی جانب سے اہل بیت کی توہین کی بھی مذمت کی اور کہا کہ اسلام زندہ اور تابندہ ہے اور تاقیامت آباد رہے گا، ایسے بعض افراد کو حکومت قابو میں رکھے اور امن وامان کو بحال رکھنے کی کوشش کرے۔