راجوری// پیر کے روز جموں کے گول گجرال میں جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے کی گئی انہدامی کارروائی میں ایک مدرسہ کی شہادت اور قرآن پاک کی بے حرمتی پر خطہ پیر پنچال میں غم و غصہ کی لہر پائی جارہی ہے اور لوگوں کاکہناہے کہ صرف ایس ایچ او کو اٹیچ کرنے سے معاملے کو دبانے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے ۔خطے کے عوام نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور پولیس کی شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے ایسے ایک سازش قرار دیاہے ۔ انجمن اہل سنت والجماعت کے ضلع صدر راجوری مولوی فاروق احمد نعیمی نے کٹارمل میں منعقدہ میلاد پروگرام میں بولتے ہوئے کہا کہ مدرسہ اسلامیہ عربیہ جس کا قیام 1987میں عمل میں لایا گیا تھا،کااندراج باضابطہ طور پر اوقاف اسلامیہ کے پاس بھی ہے اورافسوسناک بات یہ ہے کہ مدرسہ کی عمارت کو خالی کرائے بغیر ہی اسے منہدم کردیا گیا جس دوران قرآن پاک سمیت دیگر کتب کی بے حرمتی ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایچ او رتن سنگھ سے عوام نے اپیل بھی کی کہ انہیں وقت دیا جائے تاکہ وہ مدرسہ کے اندر رکھی گئی اسلامی کتابیں اور قرآن پاک کے نسخوں کو باہر نکالیں لیکن ایسا نہیں ہونے دیا گیااور یکایک بلڈوزر چلاکر مدرسہ کو زمین بوس کردیا گیا ہے جو نہایت ہی افسوسناک واقعہ ہے ۔ مولانا نے کہا کہ ریاستی سرکار کو چاہئے کہ وہ صوبہ جموں میں اپنے پائوں جمارہے شرپسند عناصر کی نشاندہی کرے تاکہ امن وامان میں رہ رہے طبقہ کو مجبوراًتشدد پر آماد ہ نہ ہونا پڑے ۔ان کاکہناتھاکہ جو لوگ پولیس اور جموں سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر عرصہ دراز سے ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنارہے ہیں ،ان پر نکیل کسی جائے ورنہ سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے ریاستی سرکار خاص کر وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ ان معاملات کو معمولی نہ سمجھیں بلکہ سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائیںتاکہ آئندہ اس طرح کے شرمناک واقعات رونما نہ ہونے پائیں ۔ دیگر مذہبی اور سیاسی تنظیموں نے جموں کے گول گجرال واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملوثین کے خلاف کارروائی کی مانگ کی ہے ۔ انہوںنے اسے مسلمانوں کے خلاف ایک منظم سازش قرار دیاہے ۔خطیب جامع مسجد بلال ؓ نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ اس طرح کے یک طرفہ اقدامات آپسی رواداری کے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ غیر قانونی تجاوزات ہٹائے جانے کے حق میںکون نہیں لیکن صرف ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانا کہا ں کا انصاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کچھ شرپسند عناصر کے اشاروں پر کام کررہی ہے جو افسوسناک ہے اور جموں صوبہ کے باشعور امن پسند لوگوں کے لئے خطرے کا الارم ہے اس لئے ریاستی حکومت خواب خرگوش سے جاگ جائے اوراس سے قبل کہ حالات خراب ہوجائیں ، ضروری اقدامات کئے جائیں ۔دریں اثناء نیشنل کانفرنس راجوری کے کارکنان نے پارٹی کے بانی مرحوم شیخ عبداللہ کے یوم پیدائش کے سلسلے میں منعقد ہوئی تقریب کے دوران گول گجرال واقعہ کی مذمت کی اور مدرسہ شہید کئے جانے پر انتہائی غم و غصہ کا اظہار کیا ۔انہوںنے الزام لگایا کہ ریاستی سرکار شرپسند عناصر کی پشت پناہی کررہی ہے جس کی وجہ سے مذہبی مقامات اور مذہبی کتابوں کی بے حرمتی ہورہی ہے ۔ انہوں نے ریاستی سرکار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سرکارناکام ہوچکی ہے جس کی وجہ سے حالات اب فرقہ واریت کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ حکومت اس طرح کی کارروائیوں کا سختی سے نوٹس لے۔