راجوری /پونچھ//عالم اقوام کی مخالفت کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے فیصلے پر عالم اسلام کے ساتھ ساتھ خطہ پیر پنچال کا مسلم طبقہ بھی مغموم ہے اور اس فیصلہ کو غیر ذمہ دارانہ و غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے انہوںنے مسلمان حکومتوں پر زور دیاہے کہ وہ امریکی اقدام کا سخت سے سخت جواب دیں ۔
مولانا سجاد حیدر قمی
حسین محتشم
پونچھ //اس فیصلے کا پونچھ میں بھی شدید رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔امام جمعہ وجماعت مرکزی علی جامع مسجد پونچھ مولانا سجاد حیدر قمی نے خطبہ جمعہ کے دوران کہا کہ وہ اس فیصلہ کی کڑے الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، ٹرمپ کا یہ فیصلہ بلاجواز اور غیر ذمہ دارانہ ہے اور یہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حق تلفی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفادہ شروع ہو سکتی ہے اور یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی فیصلے سے خطے میں خطرات کا اضافہ ہو گااور کشیدگی مزید پھیل جائے گی۔مولانا نے کہاکہ امریکی صدر کے اس فیصلے نے امن کی تمام کوششوں کو کمزور کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یروشلم کے تنازعہ کو ہر صورت اسرائیل اور فلسطینیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تھا لیکن ٹرمپ نے غیر سنجیدہ فیصلہ کر کے نہ صرف اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے امکانات کو زِک پہنچائی ہے بلکہ اس سے عالم اسلام کے دل مجروح ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں عرب اور تمام اسلامی ممالک کو امریکی سفراء کو وزارت خارجہ طلب کرکے امریکی صدر کے اس غیر قانونی اعلان پر باقاعدہ طور پر اعتراض کرنا چاہیے اور امریکی حکومت کو سخت سے سخت جواب دیناچاہئے۔ انہوں نے مسلمانوں کی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیت المقدس کو مکمل طور پر اسرائیل کے اختیار میںدیا گیاہے اورمسلم خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عرب ممالک نے مسئلہ فلسطین کو فراموش کردیا ہے اور امریکی صدر نے ایک ایسے وقت میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا ہے جب عرب ممالک آپس میں دست و گریباں ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کررہے ہیں۔انہوں نے تمام مسلمانوں پر زوردیا کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت اور امریکی صدر کی مخالفت میں بھر پور مظاہرے کریں اور بیت المقدس کی آزادی کیلئے اپنا رول ادا کریں۔
فاروق حسین مصباحی
مینڈھر//مرکزی جامع مسجد پونچھ کے خطیب مفتی فاروق حسین مصباحی نے کہاہے کہ القدس پہلے بھی مسلمانوں کا تھا اور آئندہ بھی مسلمانوں کا ہی رہے گا۔ انہوںنے جامع مسجد سنگالہ چوک میں میلاد النبی ؐکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیت المقدس کے تعلق سے یہود و نصارٰی کی سازش سے آگاہ کیااورکہا کہ پہلے بھی بیت المقدس پر قبضہ ہوا تو اللہ کے پیاروں نے آزاد کیا اور اب بھی اللہ اپنے کسی پیارے کو بھیج دیگا ۔ان کاکہناتھاکہ قبلہ اول کل بھی مسلمانوں کا تھا اور آج بھی مسلمانوں کا ہے۔ اس موقعہ پر نعت و تقاریر کا سلسلہ نماز جمعہ کے بعد تک چلتا رہا ۔علما نے سیرت رسول ؐ اور میلاد پر روشنی ڈالی اورپھر دعا کے بعد لنگر تقسیم کیا گیا۔کانفرنس میں مولانا نزاکت حسین ،مولانا سید اعجاز، مولانا سید مقصود شاہ، مولانا زمرد وغیرہ بھی موجو دتھے ۔
امیر محمد شمسی
منیر خان
راجوری// الہدیٰ ایجوکیشنل ٹرسٹ کے چیئر مین امیر محمد شمسی نے ٹرمپ کے فیصلے کی سخت الفاظ میںمذمت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ عالم اسلام کے خلاف جنگ چھیڑ رہا ہے جو نہایت ہی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے نماز جمعہ کے خطبہ میں کہا کہ دنیا کے مسلمانوں کے جذبات اور عقیدت سے جڑے ہوئے ملی مسائل پر اس طرح سے وار کرنا گویا عالم اسلام کے خلاف جنگ کا اعلان کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ بیت القدس کو مسلمانوں کا قبلہ اول اور فلسطین کی راجدھانی تسلیم کرتی ہے جس پر کوئی بھی فیصلہ مسلم امہ قطعی قبول نہیں کریگی ۔ انہوں نے عالم اسلام سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ یکجا ہوکر ایسی باطل طاقتوں کا منہ توڑ جواب دے۔
منڈی میں امریکہ اسرائیل مخالف احتجاج
عشرت بٹ
منڈی//منڈی میں نماز جمعہ کے بعد امریکہ اورغاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے خلاف شدید احتجاج کیاگیا۔احتجاج کی سربراہی امام جمعہ وجماعت جامعہ مسجد اعلیٰ پیر منڈی مولانا شاہد بخاری نے کی۔ اس موقعہ پر مظاہرین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کی مذمت کی جس میں انہوں نے قدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیاہے ۔اس دوران ایک احتجاجی جلوس بھی نکالا گیا جس میں بڑی تعداد میں فرزندان توحید نے شرکت کی اور انہوںنے امریکی و اسرائیل حکمرانوں کے خلاف نعرے بازی کی ۔جلوس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید شاہد بخاری نے کہا کہ قدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور یہ وہ مقام ہے جہاں پر رسول اکرم ؐاور انبیا کرامؑ نے اپنی عبادات انجام دی ہیں اورجس کی جانب رسول ؐنے 17ماہ تک اپنا منہ کر کے نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدس مسلمانوں کا قبلہ اور تقدس ہے،ا گر کوئی بھی طاقت اسے مسلمانوں سے چھینے کی کوشش کرے گی تو اس کے خلاف سختی سے نمٹاجائے گااور یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر سبھی مسلم ایک صف میں ہے ۔انہوںنے کہاکہ وقت آگیاہے کہ مسلمان ایک ہوکر اپنے مشترکہ دشمن یعنی امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کریں ۔ انہوں نے بابری مسجد کے حوالے سے کہا کہ اگر عدلیہ کی جانب سے اکثریت کو دیکھ کر کوئی بھی فیصلہ لیا گیا تومسلمان اس کو ہر گز برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد پر اگر غاصبانہ قبضہ کیا گیا تو مسلمان اس کی واگزاری کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے، اگر حکومت نے ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی تو اس کے نتائج بھیانک ثابت ہونگے ۔انہوں نے مزید کہا کہ راجھستان میں ایک نہتے مسلمان کو مار پیٹ کر قتل کیا گیا لیکن حکومت خاموش ہے اور قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ۔انہوںنے کہاکہ شرپسندوں کو کھلی چھوٹ نہ دی جائے اور امن بنائے رکھنے کیلئے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔