منڈی/راجوری//ریاست بھر کی طرح پونچھ اور راجوری میں بھی پیر کو موسم نے اپنا مزاج بدلا اوربالائی علاقوں میں برفباری جبکہ نشیبی علاقوں میں شدید بارشیں شروع ہوئیں جس کا سلسلہ آخری اطلاعات تک جاری تھا۔ موسم کی اچانک تبدیلی سے عام زندگی مفلوج بن کر رہ گئی اورساتھ ہی سردی میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہواہے ۔مقامی لوگوںنے گرم ملبوسات کے ساتھ ساتھ کانگڑی اور دیگر چیزوں کا استعمال کرنا بھی شروع کردیاہے ۔دور دراز علا قوںلورن ،ساوجیاں ،اڑائی ، بیدار،بلنائی ، شاہ پور گلی ،میدان، چھیلہ ڈھانگری ،اتولی وغیرہ کے لوگوںنے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ان علاقہ جات میں تیل خاکی ،راشن اور دوسری اشیائے ضروریہ فراہم کی جائیں تاکہ کسی مشکل کاسامنا نہ کرناپڑے ۔لورن کے ایک مقامی شخص محمداسلم نائیک نے کہا کہ ضلع کے جن علاقہ جات میں برف باری ہوتی ہے، ان میں انتظامیہ کو عوام کے لئے تمام تر سہولیات پہنچانی چاہئیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق لورن کے دور دراز علاقہ سلطان پتھری سے ہے جہاں موسم خراب ہوتے ہی برف باری شروع ہو جاتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ برفباری کے ایام میں ان کیلئے گھر سے نکلنا بھی مشکل بن جاتاہے اس لئے ڈپٹی کمشنر کودوردراز علاقوںمیں ابھی سے سہولیات کی فراہمی کے احکامات جاری کرنے چاہئیں ۔وہیں راجوری میں موسم کی تبدیلی سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیاہے اور لوگوں نے گرم ملبوسات پہننے شروع کردیئے ہیں ۔ ضلع کے تمام بالائی علاقوں میں برفباری ہورہی ہے جبکہ نشیبی علاقوںمیں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے ۔بارشوںسے اگرچہ کسانوں کے چہرے کھل اٹھے ہیں لیکن سردی نے ان کیلئے مشکلات پید اکردی ہیں ۔ خاص کر دور دراز علاقوں کے لوگ پریشان ہیں جن کو بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سے مشکلات درپیش ہیں ۔راجوری کے کوٹرنکہ ، بدھل ،خواس اور دیگر پہاڑی علاقوں میں صبح سے ہی برفباری کا سلسلہ شروع ہوگیاجو شام تک جاری تھا جبکہ نچلے علاقوں میں شدید بارش ہورہی ہے جس سے راجوری میںمعمولات زندگی پر اثر پڑاہے ۔بارش کو دیکھتے ہوئے بازاروں میں بھی بہت کم لوگ دیکھے گئے جبکہ سکولوں اور دیگر اداروں میں بھی کام کاج متاثر رہا۔وہیں تھنہ منڈی سے طارق شال کی اطلاع کے مطابق بارش اور برفباری سے سردی میں اضافہ ہوگیاہے ۔ مقامی لوگوں کاکہناہے کہ یہ بارش نہیں بلکہ ان کیلئے رحمت ہے کیونکہ مسلسل خشک سالی سے پانی کے چشمے سوکھ گئے تھے اور مزید پریشانیوںکے خدشات پید اہورہے تھے ۔ محمد حسین نامی کسان کا کہنا ہے کہ گندم کی فصل بوئی ہوئی ہے جس کیلئے پانی کی اشد ضرورت تھی اور اگر دسمبر کے مہینے میں بھی بارش نہ ہوتی تو فصل کو زبردست نقصان پہنچتا۔