راجوری //حد متارکہ پر واقع ترکنڈی گلی میں پیر اللہ دتا شاہ کی زیارت بھائی چارے کی زندہ مثال ہے جہاں ہندوپاک افواج کے درمیان کشیدگی کے باوجود مختلف مذاہب کے ماننے والے بڑ ی تعداد میںلوگ حاضری دینے آتے ہیں ۔ یہاں زیارت پر آنے والے عقیدتمند جہاں اپنی دلی مرادوں کیلئے دعائیں کرتے ہیں وہی وہ ہندوپاک کے درمیان امن و دوستی کیلئے بھی دعا کرتے ہیں ۔یہ زیارت اس مقام پر واقع ہے جو ہندوستان کا آخری حصہ ہے اور جہاںسے آگے پاکستان کا علاقہ شروع ہوجاتاہے ۔ا س زیارت تک پہنچنے کیلئے واحد سڑک ہے جو فوج کی طرف سے تعمیر کی گئی ہے ۔ یہ سڑک بھمبرگلی سے شروع ہوکر ترکنڈی سے ہوتے ہوئے لام نوشہرہ براستہ کیری ٹاپ پہنچتی ہے ۔یہ زیارت بھمبر گلی سے لیکر گھمبیر اور نمبلاں تک کے سرحدی خطے کے لوگوں کیلئے واحد روحانی دربار ہے و ہ بغیر کسی ڈر وخوف کے حاضری دینے آتے ہیں ۔مقامی ذرائع کے مطابق یہ زیارت صدیوں پرانی ہے اور پیر اللہ دتا شاہ کی وفات کب ہوئی ،اس بارے میں کوئی نہیں جانتا۔تاہم ہر ایک کوئی اتنا ضرور جانتاہے کہ اللہ دتا شاہ ان کے روحانی بزرگ ہیں ۔ا س زیارت کی دیکھ ریکھ کا سارا انتظام حد متارکہ پر تعینات فوج کے پاس ہے ۔ فوجی ذرائع کاکہناہے کہ یہاں تعینات فوجی اہلکار اس زیارت کی دیکھ ریکھ بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی سرحد پر بھی کڑی نگاہ رکھتے ہیں کیونکہ دراندازی اور آر پار فائرنگ اور گولہ باری کے لحاظ سے کافی حساس ہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ حد متارکہ پر مشکل ڈیوٹی دینے کے ساتھ ساتھ فوجی اہلکار اس زیارت کی دیکھ ریکھ بھی کرتے ہیں اوراس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ عقیدتمندوں کو کوئی پریشانی نہ ہو ۔فوجی ذرائع نے بتایاکہ سیکورٹی کے اعتبار سے یہ حساس ترین علاقہ ہے لیکن پھر بھی زیارت عقیدتمندوں کیلئے کھلی رہتی ہے ۔ذرائع نے مزید بتایاکہ روزانہ حاضری کے ساتھ ساتھ ہر جمعرات کو خصوصی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں اور اس روز آنے والے عقیدتمندوں میں لنگر بھی تقسیم کیاجاتاہے جبکہ خصوصی دعائیں بھی کی جاتی ہیں ۔مقامی ذرائع کاکہناہے کہ یہ زیارت ایسی جگہ واقع ہے جہاںسے پاکستانی افواج کی چوکیاں معمولی دوری پر صاف دکھائی دیتی ہیں تاہم اس سیکٹر میں کشیدگی کے باوجود زیارت ہمیشہ محفوظ رہی ہے ۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ یہ زیارت ایک خاص اہمیت رکھتی ہے ۔ان کاکہناہے کہ اگرچہ زیارت سرحد کے اوپر واقع ہے لیکن اس پر جانے سے انہیں فوج کی طر ف سے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ۔پریالی گلی کے نمبردار نثار خان نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ زیارت پر بڑی تعداد میں لوگ حاضری دینے آتے ہیں جن کا تعلق مختلف مذاہب سے ہوتاہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ زیارت بھائی چارے کی زندہ مثال ہے ۔تاہم ان کاکہناتھاکہ چونکہ یہ سرحدی خطہ ہے اس لئے زیارت تک پہنچنے کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر نہیں اور عقیدتمندوں کو یاتو اپنی گاڑی کے ذریعہ آناپڑتاہے یاپھر پیدل چل کر۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ وہ اس زیارت پر جاکر ہندوپاک کے درمیان امن و دوستی کی دعا کرتے ہیں تاکہ مزید تباہی نہ ہو اور سرحدی خطے میں بس رہے لوگ محفوظ طریقہ سے اپنی زندگی بسر کرسکیں ۔