راجوری // گذشتہ روز میڈیا کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویومیں ممبر اسمبلی مینڈھر جاوید احمد رانا بتایا کہ پونچھ ضلع بھر میں پولیس رشوت لینے دینے میں معروف ہورہی ہے اور ایک معمولی کیس درج کرنے کے لئے بھی ستر ہزار روپے تک غریب عوام کو دینے پڑرہے ہیں جو نہایت ہی خطرناک عمل پولیس کی طرف سے پونچھ ضلع میں چل رہا ہے ۔ واضح رہے کہ نیشنل کانفرنس سینئر لیڈر محمد سعید جٹ کے گھر پر ایک معروف سیاسی لیڈر نیشنل کانفرنس جاوید احمد رانا نے میڈیا کو دئیے گئے اپنے ایک انٹر ویومیں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ حالیہ پولیس محکمہ میں بھرتیوں کے لئے پونچھ میں پولیس آفیسران نے حلقہ انتخاب مینڈھر سے غریب لوگوں کو نوکری دینے کے جھانسے میں 32لاکھ روپے لئے ہیں جس پر نوکریاں تو نہیں ملیں لیکن لوگ اپنا پیسہ دیکر اپنے ہاتھ پر کلہاڑی مارگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ غریب لوگوں نے نوکریاں حاصل کرنے کے لئے قرضہ لیکر یا پھر زمین وجائداد بیچ کر پولیس کے ایک نامی گرامی ایس پی رینک آفیسر کو 32لاکھ روپے دئیے ہیں ۔جو اب باضابطہ طور پر قسطوں پر وہ پیسے لوٹا رہے ہیں کہیں آن لائن ٹرانسفر کیا جارہا ہے وہ پیسہ کہیں چیک کے ذریعہ وہی پیسہ لوگوں کو واپس لوٹانے کا سلسلہ شروع ہواہے ۔۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان باتوں کا ان کے پاس باضابطہ ثبوت ہے ’’میں جب ایک سینئر آفیسر سے اس معاملے میں بات کی تو انہوں نے بتایا کہ جناب ہم نے پندر ہ لاکھ روپے واپس کر دئیے ہیں جبکہ چار لاکھ آج ہی اکاونٹ میں ٹرانسفر ہوئے ہیں باقی پیسہ بھی جلد ہی واپس کردیا جائے گا ‘‘ جاوید رانا نے ان باتوں کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پولیس آفیسران کی جرت دیکھئے اور رشوت ستانی پہ سینہ ٹھوک کر چلنے والا سلسلہ بھی دیکھئے ۔ آج ایک شخص سرنکوٹ میں شکایت لیکر آیا کہ اس سے ایف آئی آر درج کرنے کے لئے ستر ہزار روپے لئے گئے ۔ محکمہ پولیس خاص کر نچھ کے اندر جو لوگ آرایس ایس کے طریقہ کار کو اپنانے کی کوشش کررہے ہیں اور لوگوں کے اندر تفریق ڈالنے میں مصروف ہیں ان پر نکیل کسی جائے ورنہ نتائج منفی برآمد ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے جنرل پولیس سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کو سنجیدگی لیں اور ایسے لوگوں کے خلاف سخت کاروائی کریں جو پولیس کے اس حساس پیشے کو داغدار بنانے میں مصروف ہیں ۔