سرنکوٹ// تحصیل کمپلیکس سرنکوٹ کے سامنے طلباء وطالبات نے تحصیلدار سرنکوٹ روہت شرما کے خلاف شدید مظاہرہ کیا ۔تحصیلدار ہائے ہائے اورہم کیاچاہتے ۔انصاف کے نعرے لگائے۔اس دوران طلبا نے بتایا کہ ہمیں پندرہ دن سے زائد ہوچکے ہیں اور ہمیں وقت پر انکم سرٹیفکیٹ نہیں مل پا رہی ہے۔ ہماری بہنیں اور بھائی الگ الگ فارملٹی کے لیے دوڑ دوڑ کر تنگ آ گئے ہیںاور ہماری تعلیم بھی متاثرہورہی ہے کیونکہ اس وقت ہمارے امتحانات چل رہے ہیں لیکن سرکار نے ہمارے سکالر شپ کو باعث مصیبت بنا دیا ہے۔ا ب انکم سرٹیفکیٹ کی فارملٹیز اتنی مانگی جا رہی ہیں کہ ان کو پورا کرنے میں ہمارا دوگنا خرچہ ہو رہا ہے۔ اور مہینہ تک لگایا جا رہا ہے اور ہم سے تحصیل کلرک رشوت بھی وصول کررہے ہیں۔ گورنمنٹ آرڈر کے مطابق جی آر 20 روپے ہے۔ اور سرنکوٹ تحصیل میں طلبہ سے 30 اور 50 روپے تک لیے جا رہے ہیں لیکن حکام کو خبر تک نہیں۔ طلبہ نے محکمہ ریونیو پر رشوت لینے کا الزام عائد کیا۔ کہ ہم نے احتجاج اس لیے کیا ایک تو ہمیں پریشان کیا جا رہا ہے۔ اور انکم سرٹیفکیٹ بھی نہیں مل رہی اور الگ ہم سے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔ جو علاقہ سرنکوٹ میں ایک مسئلہ بن چکا ہے۔ اس موقعہ پر جب تحصیلدار سرنکوٹ سے بات کی تو انھوں نے بتایا کہ سروس گرنٹی ایکٹ کے تحت سرکار نے اعلان کیا ہوا ہے۔ کہ تیس دن کے اندر انکم سرٹیفکیٹ ضرورت مند کو مہیا کی جائے کیونکہ یہ ایک ضروری کاغذ ہے جس سرکار نے ایک مہینے کی مہلت دی ہیں۔ البتہ ہمیں پوری فارملٹی کے بعد ہی انکم جاری کرنی ہے۔ اس موقعہ جب تحصیلدار سرنکوٹ روہت شرما سے یہ پوچھا گیا کہ آپ کے ملازم بچوں سے زیادہ پیسے وصول کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا جو بچا یہ کہہ رہا اس کو میرے دفتر میں لاو اگر میرے ملازم نے پیسے لیے تو میں قانونی کاروائی کرو ںگا۔ اسی دوران احتجاج میں شامل لڑکے تحصیلدار کے دفتر میں پہنچے اور بتایا کہ فلاں کلرک نے ہم سے زیادہ پیسے وصول کیے ہیںاورتحصیلدار کے دفتر میں تحصیلدار کے ملازم پر یہ بات ثابت ہوگئی جس پر تحصیلدار نے طلبہ کے پیسے واپس کروائے اور اس موقعہ پر یوتھ لیڈر طارق اشرف نے کہا کہ آپ اپنے ملازموں کو ہدایت جاری کریں تاکہ طلبہ کا کام جلدی کریں اور جو رشوت ثابت ہوئی ہے یہ افسوس ناک بات ہے۔ یوتھ لیڈر طارق اشرف نے اور طلبہ نے مطالبہ کیا کہ ایسے ملازموں کو فوری طور پر یہاں سے ہٹایا جائے اور اگر یہ کل تک یہاں سے نہ ہٹائے گئے تو ہم بھوک ہڑتال پر اتریں گے۔