جموں//قانون ساز اسمبلی میں کئی ارکان نے گورنر کے خطبے سے متعلق شکریہ کی تحریک پر ہوئی بحث میں حصہ لیا ۔ بحث کی شروعات کرتے ہوئے محمد یوسف بٹ نے ریاست کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کی ستایش کی ۔ انہوں نے ریاست میں بجلی شعبے کو بڑھاوا دینے کیلئے حکومت کی طرف سے کئے جا رہے اقدامات کی خاص طور سے تعریف کی اور کہا کہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے میں مزید بہتری لانے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پچھلے تین برسوں کے دوران زراعت ، باغبانی اور دیگر منسلک سیکٹروں کو دوام بخشنے کیلئے بھی کئی اقدامات کئے ۔ انہوں نے ہارٹیکلچر سیکٹر میں اعلیٰ پیداوار دینے والے پودوں کو متعارف کرنے کا خیر مقدم کیا ۔ انہوں نے ریاست میں امن کی بحالی کیلئے متعلقین کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرانے کیلئے ایک مذاکرات کار تعینات کرنے کیلئے مرکزی حکومت کے رول کو بھی سراہا ۔ دلیپ پریہار نے بھث میں حصہ لیتے ہوئے بجلی ، تعلیم ، پی ایچ ای ، باغبانی ، آبپاشی ، زراعت اور دیگر شعبوں میں مخلوط سرکار کی طرف سے اٹھائے گئے اختراعی اقدامات کیلئے مخلوط سرکار کی ستایش کی ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ حکومت ریاست کی ہر ایک بستی کو پینے کا پانی اور بلا خلل بجلی کی سپلائی کو یقینی بنانے کیلئے کام کرتی رہے گی ۔ انہوں نے پچھلی حکومتوں کی کیجول ، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور دیگر عارضی ملازمین کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانے کیلئے اقدامات نہ کرنے کیلئے اُن کی نکتہ چینہ کی ۔ انہوں نے 65 ہزار کیجول ورکروں کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانے کیلئے موجودہ حکومت کو مبارکباد دی ۔ چودھری قمر حسین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے موجودہ حکومت کے مختلف کامیاب اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ راجوری ضلع میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جوڈیشل کورٹ کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی کی جا چکی ہے ۔ انہوں نے تعمیراتی کام جلد از جلد شروع کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے مغل روڈ پر ٹنل کی تعمیر کیلئے رقومات کی واگذاری کا بھی مطالبہ کیا ۔ چودھری قمر حسین نے راجوری میں بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی قایم کرنے کیلئے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے رول کو بھی اجاگر کیا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ضلع کے تمام ڈگری کالجوں کو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے ساتھ منسلک کیا جانا چاہئیے ۔ ست پال شرما نے ریاست میں حکومت کی طرف سے شروع کی گئی بہبودی اور ترقیاتی سکیموں کی عمل آوری کیلئے حکومت کی سراہنا کی اور کہا کہ قومی شاہراہوں اور چنینی ناشری ٹنل کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی میکڈمائیزیشن سے ریاست میں ترقیاتی سرگرمیوں کو تقویت حاصل ہو گی ۔ انہوں نے ریاست کے ترقیاتی عمل میں گہری دلچسپی دکھانے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی کی بھی تعریف کی ۔ انہوں نے گریز ، کشتواڑ ڈوڈہ اور دیگر پہاڑی علاقوں کیلئے ہیلی کاپٹر سروس شروع کرنے کیلئے حکومت کے اقدامات کی تعریف کی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں ای آر اے کی طرف سے 1600 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت والی ترقیاتی سکیمیں شروع کی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اُن کے حلقے میں اس طرح کا 72 کروڑ روپے والا ایک پروجیکٹ عملایا جا رہا ہے ۔ حکیم محمد یاسین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کشمیر مسئلے کو حل کرنے کیلئے تمام متعلقین کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کیا جانا چاہئیے ۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی امن عمل میں شامل کیا جانا چاہئیے ۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ کشمیر وادی میں امن کی بحالی کیلئے ہر ممکن اقدامات کرے ۔ انہوں نے حکومت سے تلقین کی کہ وہ ایسا ساز گار ماحول قایم کریں جس میں مخلوط سرکار کے ایجنڈا آف الائینس کے مطابق مذاکراتی عمل شروع کیا جا سکے ۔ حکیم محمد یاسین نے پتھر بازی کے معاملات میں ملوث نوجوانوں کے خلاف کیس واپس لینے کے حکومت کے اقدامات کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ اس فیصلے سے ان نوجوانوں کو ایک باوقار زندگی گذارنے کا موقعہ فراہم ہو گا ۔ انہوں نے ریاست میں لوکل باڈیز انتخابات سے پہلے تمام احتیاطی تدابیر اٹھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے بڈگام علاقے میں رنگ روڈ کی تعمیر کیلئے درکار اراضی کے مالکان کو معقول معاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کیا ۔ اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بشیر احمد ڈار نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاست کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے کام کریں جیسا کہ گورنر کے خطبے میں اجاگر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے امن و قانون کی معمول کی صورتحال بحال کرنے کیلئے عوامی نمائیندوں کی طرف سے جامع کوششیں کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم ، بجلی ، سڑک رابطوں اور دیگر سیکٹروں کی ترقی کو یقینی بنانے کی طرف خصوصی توجہ دی جانی چاہئیے ۔ بشیر احمد ڈار نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے 65 ہزار ورکروں کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانے کیلئے حکومت کو مبارکباد دی ۔ انہوں نے ریاست میں افہام و تفہیم کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ایک مذاکرات کار تعینات کرنے کیلئے مرکزی سرکار کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے امن کا ہونا لازمی ہے ۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ مذاکراتی عمل میں بڑھ چڑھ کر شرکت کریں ۔ ایم ایل اے پونچھ حویلی شاہ محمد تانترے نے اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ریاست میں امن کیلئے ایک ساز گار ماحول قایم کرنے کی خاطر حکومتی اقدامات کی تعریف کی ۔ انہوں نے مرکز کی طرف سے ایک مذاکرات کار کی تعیناتی کا بھی خیر مقدم کیا ۔ ایم ایل اے موصوف نے پیر پنچال خطے کے ترقیاتی عمل کو فروغ دینے میں ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی محمد سعید کے رول کو اجاگر کیا ۔ انہوں نے یہ عمل آگے بڑھانے کیلئے موجودہ حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے منڈی پونچھ میں ڈگری کالج قایم کرنے کا مطالبہ کیا تا کہ طلاب کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے لمبی مسافتیں طے نہ کرنا پڑیں ۔ انہوں نے توسہ میدان کیلئے ایک کیبل کار پروجیکٹ کا بھی مطالبہ کیا ۔ تانترے نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانے کیلئے حکومت کو مبارکباد دی اور مطالبہ کیا کہ پنچائت گھروں میں کام کرنے والے مالیوں اور چوکیداروں کی نوکریوں کو بھی اسی پالیسی کے تحت باقاعدہ بنایا جانا چاہئیے ۔ اس دوران قانون ساز کونسل نے گورنر کے خطبے پر بحث کا آغاز ایوان کے قائد اور وزیر برائے تعمیراتِ عامہ نعیم اختر کی جانب سے شکریہ کی تحریک پیش کرنے کے بعد، کیا۔ارکان سجاد کچلو ، خورشید عالم ، وِبودھ گپتا ، اَجات شترو سنگھ، یاسر ریشی ، سریند ر کمار چودھری اور وکر م رندھاوا نے بحث میں حصہ لیا۔ادھرسیکرٹری قانون ساز کونسل عبدالمجید بٹ نے ایوان کو ریاستی قانون سازیہ کی جانب سے پاس کی گئی اور گورنر کی جانب سے منظور کئی بلوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کی۔جن بلوں کو گورنر نے منظور کیا ہے ان میں جموں وکشمیر جنرل سیلز ٹیکس ترمیمی بل 2017ء ( ایکٹ نمبر IIIآف 2017) ، جموں وکشمیر ترمیمی بل برائے معذوراں ( مساوی مواقع کی فراہمی ، حقوق کا تحفظ اور بھرپور شمولیت ) ترمیمی بل 2017( ایکٹ نمبر IV آف 2017 ) اور جموں وکشمیر سوک لاز ( سپیشل پرایژنز )ترمیمی بل 2017( ایکٹ نمبر VI آف 2017) شامل ہے۔