جموںّ// ادبی کُنج جموں کے زیر اہتمام رونق ہال، نزد پارک راجپورہ منگوتریاں جموّں میں گذشتہ روز ایک خصوُصی سب رنگ سُرمئی ادبی تقریب کا انعقاد ہوا۔جِس کی صدارت کے فرائض اُردو زبان کے نامور شاعر مالک سنگھ وفاؔ نے سر انجام دئے ۔اِس موقعہ پر گوجری کے معروف شاعرسروَرچوہان حبیٖبؔؔ اور اُردوُ و کشمیری کے بزرگ شا عر بشیرؔ الحق مہمانانِ ذی وقار تھے۔ اِن کے علاوہ تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ اور صدرِ تنظیم شام طالبؔ بھی ایوانِ صدارت کی زینت تھے۔ اِس تقریب کی نظامت کے فرائض تنظیم کے صدر محترم شام طالبؔ نے اپنے مخصوص انداز میںسرانجام دِے کر حاضرین کو محظوظ کِیا۔ اپنے اسِتقبالیہ خُطبہ میں تنظیم کے چئیر مین آرشؔ دلموترہ نے آج کی ادبی تقریب میں ریاست کے مختلف حِصّوں سے تشریف لائے ہوئے مختلف زبان و ادب سے وابستہ قلم کاروں، اہلِ موسیقی اور شائقینِ شعر و سُخن حضرات کا اُن کی شِرکت پر ادبی کُنج کی طرف سے تہ دِل سے شُکریہ ادا کِرتے ہوئے گُذرے سال کے اہم پہلوؤں پرسیر حاصل روشنی ڈالی اور بتایا کہ کِتنی طویل جدّوجہد کے بعدہماری اِس تنظیم نے زبان و ادب کی خدمات میں اپنی سب رنگ ادبی ورا ثت کو سنبھال کے اِس کی آبیاری کی ہے۔ّاپنے جِس رواں دواں سِلسِلے کو آگے بڑھاتے ہوئے آج برس 2017ء بھی ہم سے اِس طرح جُدا ہوگیا ہے جیسے اِس تنظیم کے ساتھ برسوں سے چلتے ہوئے ہمارے کئی ساتھی اپنی اد؎بی خدامات انجام دیتے دیتے اِس جہانِ فانی سے کوُچ کر گئے ہیں۔ جن میں ڈاکٹر بھارت بھوشن گُپتا ( سابق چئیرمین ادبی کُنج)، مُنی لعل پُری( سابق وائس چیئرمین)، اونکار ناتھ رینہ(سینئرممبرورکنگ کمیٹی) ، قیٖمتی لعل دیوانہؔ (سابق جنرل سیکرٹری) بطورِ خاص نرگس ستارہ (نائب صدر)اور برج موہن ساجنؔ (ادبی کُنج کے فاؤنڈر جنرل سیکرٹری) اوررہبرؔ جدید(سابقہ آرگنائزر) کے نام بے حد قابلِ ذِکر ہیں۔ اِس قدر زخم کھا کر بھی یہ تنظیم اپنے ادبی مقصد پر مسلسل گامزن ہے۔آج کے اِس دِن پر سب کو مُبارکباد دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ زبان و ادب کی ترقی و بہتری کیلئے ہماری ادبی تنظیم ادبی کُج ہمیشہ کوشاں رہے گی ۔اس موقعے پر صدرِ تنظیم شام طالبؔ نے ادبی کُنج کے تاریخی سفر پر تفصیلاً روشنی ڈالتے ہوئے اِس کے اُتار چڑھاؤ کے مختلف ادوار کی منظر کشی کی۔آپ نے اِس موقعہ پر ادبی کُنج جموّں کے رہبرِ اعلیٰ گوروُ دیو اوپی شرما سارتھیؔ کو یاد کرتے ہوئے اُن کی کمی کوشِدّت سے محسوس کِیا۔ادبی کُنج کی ایک اور کمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے اس تنظیم کے کنوینئر شام سُندر آنند لہر کی صحت یابی کے لئے بھی دُعا کی ۔جو ایک عرصہ سے علیل ہیں۔ اِس موقعہ پر ادبی کُنج کے دیرینہ مہربان راہ نُماسُہیل کاظمی کنوینئر تنظیم ہذا اور مہربان پرتپال سنگھ بیتابؔ کی راہنُمائی کیلئے بھی شُکریہ ادا کِیا۔ اِس تقریب کے دو دوَر ہوئے پہلا موسیقی کا دور تھا۔ جِس میںنئے اور پُرانے گلوکاروں نے مختلف شعرا کی غزلیں گا کر محفل کو سرشار کِیا۔ اِس میں گلو کار چمن گلوچ نے شام طالبؔ اورمالک سنگھ وفاؔکی اُردوُ غزلیں اورآرشؔ دلموترہ کا سالِ نو کا ڈوگری گیٖت گاکر سماں باندھا۔ اِس کے علاوہ اِس موسیقی دوَر میں گلو کار سُنیل ورما، گوتم ورما نے فیض احمد فیض کی غزلوں سے سامعین کو محظوظ کِیا اور رجنی ورما نے ایک ہندی گیٖت، گلوکار شاعرہ سنتوش نادانؔ نے کشیری اور گلوکار شاعر وید اُپل نے اپنی پنجابی غزل گا کر سب سے خوب واہ واہ حاصل کی۔ اِس تقریب کا دوُسر ادوَر ایک کثیر اللسانی مُشاعرہ تھا۔جِس میں شعراء حضرات نے اپنے دیگر کلام کے ساتھ ساتھ سالِ نو کی آمد پرمختلف زبانوں میں اپنے گیت اور نظمیں پیش کیٖں۔ آج 2017ء کی اِس آخری شعری نِشست کا آغاز صدر تنظیم شام طالبؔ کی سالِ نو پر کہی گئی ایک غزل سے ہوا۔ جِس کا مطلع یوںتھا۔ ’ہنسی کے لبوں پر وہی اشک لایا، نیا سال آیا ، نیا سال آیا۔ اَس دور کے کُچھ شعراکے اِسمائے گرامی اِس طرح ہیں:۔ شام طالبؔ۔ سنتوش شاہ نادانؔ، سرور چوہان حبیٖبؔ۔ مالک سنگھ وفاؔ، بِشن داس خاکؔ، ایم ایس کامراؔ۔ شمسؔ راجن،معصومؔ کِشتواڑی، رازؔ ریاض سوہل، جی ایس بادلؔ، باقر علی صباؔ۔ عبدال جبّارؔ بٹ، سنجیو کُمار۔اشوک منطقؔ، ویدؔ اُپل، راجیو کُمار، ڈی پی کٹارؔیہ، فوزیہ مُغل ضِیاؔاور آرشؔ دلموترہ۔ تقریئب کا اِختتام صاحبِ خانہ میا بان آرٹسٹ انو رچن دلموترہ کی طرف سے پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہوُا۔