جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے اسرائیل سے 131 براک میزائل اور روس سے 240 بموں کی 1714 کروڑ روپے کی خریداری پر مودی حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندستان کے بچے ننگے پاؤں دارالحکومت دہلی کی سڑکوںپر بھیک مانگ رہے ہیں، لیکن ان بچوں کے تحفظ اورفلاح و بہبود کو یقینی بنانے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت اسرائیل سے غیرضروری بندوقیں اور میزائل خریدنے کے لئے 1714 کروڑ روپے کا خرچ کر سکتی ہے، لیکن 10/20 کروڑ روپے سے ہندستان کے دارالحکومت میں بھیک مانگنے والے بچوں کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی۔ پنتھرس سپریمو نے بائیں بازو اور کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ کی خاموشی پر حیرت کا اظہار کیا کہ سوشلزم کا ڈھول پیٹنے والے مودی حکومت کی اس ملک مخالف پالیسی پر کیوں خاموش ہیں۔ انہوں نے اراکین پارلیمنٹ کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ چل رہی تھی اور مودی حکومت اسرائیل سے سودا کر رہی تھی، جبکہ ہندستان نے فلسطین سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ ایسا سودا کرنا ہندستان کی شان اور روایت کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1967 کے بعد سے ہی اسرائیل نے فلسطین کی زمین پر غیرقانونی قبضہ جمایا ہوا ہے، جس کی اقوام متحدہ نے بھی مخالفت کی ہے۔ اسی اسرائیل کے ساتھ حکومت ہند کو لین دین کرنا زیب نہیں دیتا۔ یہ معاہدہ ہند-فلسطین کی دوستی کے برعکس ہے اور نہ ہی ہندستان کے مفاد میں ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے ملک کی سیاسی جماعتوں سے کہا کہ 53 عرب ممالک کے ساتھ ہندستان کی دوستی نہایت ضروری ہے اورہندستان کے مفاد میں ہے۔ اسرائیل سے سودے بازی کرنا صرف یہودیت کو حمایت دینا ہے۔ انہوں نے ہندستان کی سیاسی جماعتوں سے ہندستان اور فلسطین کی دوستی کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ اسرائیل کے ساتھ دفاعی سودوں سے ہندستان کی تہذیب، ثقافت اور فلسطین کے ساتھ دوستی مضبوط نہیں ہو سکتی۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے اپوزیشن جماعتوں پر خاص طور پر بائیں بازو اور کانگریس سے ان کے ضمیر اور قومی ذمہ داری کے مطابق کام کرنے کی درخواست کی تاکہ ہندستان کی فلسطین اور عربوں کے ساتھ دوستی میں کوئی درار نہ آئے۔