جموں//مخلوط حکومت نے تین برس پورے کر لئے ہیں لیکن ابھی بھی ریاست کے تینوں خطوں کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، الیکشن کے دوران لوگوں کے ساتھ کئے گئے وعدے فراموش کر دئیے گئے ہیں ، بے روزگار ی کو دور کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے ۔ وزیروں کے بیانات صرف فائلوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر رمن بھلہ نے کہا ہے کہ حکومت کے 1095دن ناکامی سے عبارت ہیں اور سرکار کے پاس اپنی حصولیابی دکھانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔ گاڈی گڑھ کے مہاکالی نگر محلہ میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بھلہ نے کہا کہ حکومت کا کہیں نام و نشان نہیں ہے ، لوگوں کی مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہیں ، نئے کام تو نہیں ہو رہے ہیں ، پچھلی سرکار کی طرف سے شروع کروائے گئے کام بھی بند کر دئیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹریجریاں خالی ہو گئی ہیں ، کئی عارضی ملازم تنخواہوں کے بغیر ہیں تو ٹھیکیداروں کو ان کی پے منٹ نہیں مل پا رہی ہے ۔ اس موقع پر پریتپال سنگھ، سابق سرپنچ آیا سنگھ، امرت بالی، ڈاکٹر دارکا ناتھ رینہ،نوبت سنگھ، چیلا رام، چرندیپ سنگھ، پمی شرما، گورمیت کور اور انیتا شرما بھی موجود تھے۔ بھلہ نے کہا کہ ریاستی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو گئی ہے ، آئے روز فورسز اہلکار ہلاک کئے جا رہے ہیں، کوئی دن خالی نہیں جاتا جب فوج پر حملے نہیں ہوتے ۔ سرحدوں پر کشیدگی ہے ، قریب بارہ برس تک سرحدوں پر سکوت اور امن تھا لیکن جب سے نئی حکومت وجود میں آئی ہے بارڈر پر فائرنگ روز کا معمول بن کر رہ گیا ہے جس سے سرحدی علاقوں میں خوف کا ماحول بنا ہوا ہے ، کسان کھیتی نہیں کر پا رہے ہیں۔ پنچایتی انتخابات کے انعقاد کو ایک ڈھکوسلہ قرار دیتے ہوئے بھلہ نے کہا کہ آئین ہند کی دفعہ 73میں ترمیم کے بغیر پنچایتی الیکشن کروانا ایک دھوکہ ہے لیکن اس کے باوجود کانگریس پنچایتی الیکشن میں حصہ لے گی اور حکمران پارٹیوں کو ان کی اوقات دکھا دے گی۔