فردوس ٹاک نے نوزائدبچوں کی اموات کامعاملہ اٹھایا
گذشتہ تین برسوں میں 5900بچوں کی موت کاانکشاف
جموں// وزیر مملکت برائے صحت بالی بھگت نے قانون ساز کونسل میں بتایا کہ اطلاعات کے مطابق جموں کشمیر میں گزشتہ تین سال کے دوران 5900نوزائد بچے فوت ہوئے۔پی ڈی پی کے ایم ایل سی فردوس احمد ٹاک کے ایک سوال کے جواب میں وزیر صحت نے کہا کہ 2016.17میں سب سے زیادہ 2288اس کے بعد 2015.16میں 2034 اور 2017.18کے دوران نومبر 2017تک 1578نوزائد بچے فوت ہوئے۔وزیر نے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران 511662ڈیلوریز ہوئیں۔ان میں سے 2016.17 کے دوران194632، 2015.16کے دوران191151اور2017.18کے دوران نومبر 2017تک 125879ڈیلوریز ہوئیں۔ایک رجسٹریشن سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں سال 2007میں51نوزائد بچے فوت ہوئے ۔ سال 2016میں یہ تعداد کم ہوکر 24رہ گئی۔وزیر صحت نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت سبھی ضلع ہسپتالوں میں سپیشل نیو بورن کیئر یونٹ منظور کئے گئے ہیں ان میں سے 20یونٹ کام کر رہے ہیں۔
جعلسازکرائم برانچ کی گرفت میں
جموں // پرویز احمد میر ولد عبدالرشید میرساکنہ بٹوت جوکہ فراڈ کے متعدد معاملوں میں ملوث ہے،کو کرائم برانچ جموں نے گرفتار کرلیاہے۔ملزم متعدد لوگوں کو نوکریاں فراہم کے بہانے رقومات لوٹنے کے کئی کیسوں میں ملوث ہے۔دریں اثنا بتایا گیا کہ ملزم نے راج کمار گپتا نامی ایک شخص سے 5کروڑ 60لاکھ روپئے کی رقم دھوکے سے لی ہے۔اس سلسلے میں معاملہ پہلے ہی درج کر لیا گیا ہے اور کرائم برانچ جموں کیس کی چھان بین کر رہی ہے۔
چارقماربازگرفتار،5390روپے ضبط
جموں// پولیس سٹیشن میراں صاحب کی ایک پویس پارٹی نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر ٹنڈے کلاں علاقہ سے چار جواریوں کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے 5390.00روپئے برآمد کئے۔جن کے نام اجے کمار ولد درشن لال ساکنہ بن سلطان، سندیپ سنگھ ولددلجیت سنگھساکنہ سمبل کیمپ ، سرجیت سنگھ ولد کرتار سنگھ ساکنہ میراں صاحب، جگن ناتھ ولدروی کمار ساکنہ سمبل موڑ جموں ہیں۔
محافظ سکیم آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف:سی آئی ٹی یو
جموں// سنٹر آف انڈین ٹریڈ یونینزجموں وکشمیر نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر بلڈنگ اینڈری کنسٹریکشن ورکرز ویلفیئر بورڈ کی جانب سے شروع کی گئی محافظ سکیم آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔سی آئی ٹی یو کے جنرل سیکرٹری اوم پرکاش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ورکروں نے جو توقعات وابستہ کر رکھی تھیں ان سب پر پانی پھر گیا ہے۔انہوں نے ورکروں کو پنشن کے فوائد ، ہاوسنگ لون اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کامطالبہ کیا۔
سابق وزیرخزانہ پی چدمبرم کے مضمون کی اشاعت
پروفیسربھیم سنگھ نے تبصرہ کرتے ہوئے مختلف سوالات اُٹھائے
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے 7جنوری،2018کو انگریزی کے معروف اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ میں ’Revisting Jammu and Kashmir‘ کے عنوان سے شائع ہوئے سابق وزیر خزانہ پی چدمبر م کے آرٹیکل پر تبصرہ کرتے ہوئے ان سے چند سوالات کے جواب مانگے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سنڈے ایکسپریس کو پڑھنے والے جانتے ہوں گے کہ جموں وکشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے 26اکتوبر، 1947کو الحاق نامہ پر دستخط کرکے تین موضوعات دفاع، خارجی امور ، مواصلات اور دیگرمتعلقہ امور فوری اثرات سے ہندستان کے حوالہ کردیئے تھے ۔اسی طرح کے الحاق ناموں پر دیگر 575ریاستوں کے حکمرانوں نے بھی دستخط کئے تھے جنہیں 1949میں آئین ساز اسمبلی پیش کیا گیا تھا۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ جموں وکشمیر کے الحاق نامہ کو بابا صاحب امبیڈکر کی سربراہی والی آئین ساز اسمبلی میں کیوں پیش نہیں کیا گیا یا پھر جموں وکشمیر کو کیوں دیگر 575ریاستوں سے علیحدہ رکھا گیا۔ جب 26جنوری، 1950کو 575دیگر ریاستوں کو ہندستان میں ضم کردیا گیا تو جموں وکشمیر کو کیوں اس فہرست سے باہر رکھا گیا؟انہوں نے کہا کہ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عارضی دفعہ 370کو لانے والا، تحفظ فراہم کرنے والا اور جاری رکھنے والا کون ہے کیا اس کے لئے بی جے پی ذمہ دار ہے؟ انہوں نے کہاکہ حالات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی جموں وکشمیر کے معاملہ میں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ثابت ہوئی ہیں۔پنتھرس سربراہ نے کہاکہ جموں وکشمیر کے عوام جاننا چاہتے ہیں کہ مسٹر چدمبرم کی پارٹی کانگریس جس نے ملک پر تقریباًً پچاس برسوں تک حکمرانی کی ہے کیوں جموں وکشمیر کا دیگر 575 ریاستوںکی طرح ہندستان میں انضمام کرانے میں ناکام رہی۔
رام نگرتاوتھ سڑک کاتعمیرکام نامکمل
نیشنل کانفرنس کارکنان کااحتجاج
ادہم پور//رام نگر اور ادہم پور کے عہدے داران اور یوتھ کارکنان نے مقام کھیوٹ سڑک پر زبردست مظاہرہ کر کے ادہم پور رام نگر سڑک کو کچھ وقت کیلئے دھرنا دیکر بند کر دیا۔مظاہرے کی قیادت ضلع سیکریٹری رام پروشوتم شرما اور ضلع یوتھ نائب صدر وکرانت شرما کررہے تھے۔مظاہرے میں مقررین نے الزام کگایا کہ12سالہ قبل ایشین ڈیولپمنٹ بنک کے ذریعہ تین سڑکیں،راون تا رام نگر،چنہنی تا ساننل،سدھڑا تا سروسین سر منظور ہوئیں تھیں۔تین سال بعد دو سڑکیں مکمل ہو گئی مگر رام نگر سڑک تاوتھ نا مکمل رہی ہے۔جبکہ سابقہ اور موجودہ ممبران اسمبلی حلقہ رام نگر میں سڑکوں کی بھرمار کے بلند ہانگ نعرے لگا کر سیاست کرتے رہتے ہیں جبکہ زمینی حقیقت سے سارا راستہ واقف ہے۔رام نگر میں اوڑ کے علاوہ تمام مفصلات کی سڑکوں کی حالت ابتر ہے اور آئے دن کے حادثوں سے پچھلے چند سالوں میں ہی سینکڑوں قیمتی جانیں تلف ہو چکی ہیں یہ کریڈیٹ بھی ان ممبران اسمبلی کو جاتا ہے۔مظاہرین نے ہلاک شدگان کیلئے معقول معاوضہ دینے کی زور دار مانگ کی۔ضلع ایڈمنسٹریشن پولیس،ٹریفک پولیس اور محکمہ ٹرانسپورٹ سے حسب سابقہ زوردار مانگ کی گئی کہ وہ تمام روٹز پر اوور لوڈنگ بند کروائیں۔پرانی گاڑیوں کو پہاڑی سڑکوں پر نہ چلنے دیا جائے۔ڈرائیوراور کنڈکٹرز کو وردی پہننا لازمی کروایا جائے۔ضلع نیشنل کانفرنس اس سے بیشتر بھی کئی بار یہ مانگ کر چکی ہے۔پارٹی کارکنان نے مظاہرے میں کھکھوٹ کے مقام پر پسی سے بچنے کیلئے تبادل سڑک کی مانگ کی جبر میں المناک حادثہ کے لملاوہ چھ ماہ جھبل دو پیدل چلتی عورتیں بھی پسی کے پتھر سے جان بحق ہوئی تھیں۔مظاہرین میں کووند رام شرما،منّا،دیسراج،سویوں، ابھیشکھ ،سو ہیا رام،ادیت مودی،سنجو،کلدیپ کمار،مکھن لال،برج مین کے علاوہ درجنوں نوجوان کا رکن شامل ہوئے۔لہذاںایس ایچ او رام نگر کی پختہ یقین دہانی پر دھرنا اٹھا کر سڑک کھول دی گئی۔
سیاسیات کے طلاب نے اسمبلی کی کارروائی کامشاہدہ کیا
جموں /جموں یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس شعبے سے تعلق رکھنے والے طلاب کے ایک گروپ نے قانون ساز اسمبلی کی کارروائی کا مشاہدہ کیا ۔اسمبلی کے سپیکر کویندر گپتا نے طلاب کا خیر مقدم کیا۔ ان طلاب نے کارروائی کا مشاہدہ کرتے ہوئے یہ دیکھا کہ ارکان کس طرح عوامی نوعیت کے معاملات ایوان میں اجاگر کرتے ہیں اور سرکار کس طرح سے ان معاملات کا جواب دیتی ہے۔
امر ناتھ جی یاترا کاآغاز28جون 2018کو
گورنر کی صدارت میں شرائین بورڈکااجلاس منعقد
نئی دہلی //گورنر این این ووہرا جو شری امر ناتھ جی شرائین بورڈ کے چئیر مین بھی ہیں ، نے شری امر ناتھ جی شرائین بورڈ کی ایمر جنٹ میٹنگ کی صدارت کی ۔ جس میں خاص طور سے این جی ٹی کی طرف سے حالیہ ہدایات کی عمل آوری اور آگے کی کاروائی اختیار کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ شری امر ناتھ جی شرائین بورڈ کی اس 34 ویں میٹنگ میں ارکان ایچ ایچ سری روی شنکر ، ڈاکٹر کپیلا وسیائن ، ڈاکٹر وید کماری گھئی ،پنڈت بھجن سوپوری ، وجے دھر ، سنیتا نارائین ، ڈاکٹر دیوی پرساد شیٹھی ، ڈی سی رینہ ، پروفیسر چندر مولی رینہ اور بورڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر امنگ نرولہ اور ایڈیشنل چیف ایگزیکٹوافسر بوپیندر کمار کے علاوہ کئی دیگر اعلیٰ افسروں نے بھی شرکت کی ۔ بورڈ نے این جی ٹی کی طرف سے 13 اور 14 دسمبر 2017 کو گوری مولکی بنامِ ریاست جموں و کشمیر اینڈ ادرز نامی کیس میں جاری ہدایات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا ۔ جامع تبادلہ خیال کے بعد بورڈ نے این جی ٹی کی ہدایات کے خلاف ایک رویو پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ لیا ۔ یاترا سے جُڑے دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے بورڈ نے فیصلہ لیا کہ 60 دن تک جاری رہنے والی یاترا 28 جون 2018 کو شروع ہو گی اور یہ شراون پورنما کے موقع پر 26 اگست 2018 کو اختتام پذیر ہو گی ۔ یاترا علاقے میں دستیاب بنیادی ڈھانچے اور موجودہ ٹریکوں کی صلاحیتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بورڈ نے فیصلہ لیا کہ دونوں روٹوں کے ذریعے سے ہر روز 7500 یاتریوں کو یاترا پر جانے کی اجازت ہو گی اور اس میں وہ یاتری شامل نہیں ہوں گے جو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر کریں گے اور یاتریوں کو یاترا شروع کرنے سے پہلے ایڈوانسڈ رجسٹریشن کرنی ہو گی ۔ بورڈ نے کہا کہ سی ای او نے یاتریوں کی رجسٹریشن کیلئے خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں اور یہ کام پنجاب نیشنل بنک ، جموں کشمیر بنک اور ییس بنک کی 437 نامزد شاخوں کے ذریعے 32 ریاستوں اور مرکزی انتظام والے علاقوں میں عمل میں لایا جائے گا ۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ یاتریوں کی رجسٹریشن کا کام یکم مارچ 2018 کو شروع ہو گا ۔ بورڈ نے سی ای او کو ہدایت دی کہ وہ اس عمل کی ذرایع ابلاغ کی وسیع تشہیر کرائیں اور یاتریوں کو صلاح دیں کہ وہ وقت پر لازمی صحت سرٹیفکیٹ حاصل کریں ۔ بورڈ نے کہا کہ یہ سرٹیفکیٹ متعلقہ ریاستوں کی طرف سے نامزد کئے گئے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں سے حاصل کی جا سکتی ہیں ۔ علاوہ ازیں ہر یاتری کا یاترا پرمٹ ایک مخصوص دن اور روٹ کیلئے جائیز ہو گا ۔ بورڈ نے سی ای او سے کہا کہ وہ یاترا پر آنے والے تمام یاتریوں سے اپیل کریں کہ وہ یاترا شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹروں سے مشاورت حاصل کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ 13 برس کی عمل سے کم اور 75 برس کی عمر سے زیادہ کے یاتریوں کو یاترا پر آنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ بورڈ نے یاتعا کے دوران بلا خلل ٹیلی کام سہولیات کی دستیابی پر بھی زور دیا ۔ اس موقعہ پر بتایا گیا کہ اطلاعات و نشریات کی مرکزی وزارت کے اشتراک سے ماضی کی روایات کے مطابق ایک وسیع بیداری مہم چلائی جائے گی ۔ علاوہ ازیں سی ای او سے کہا گیا کہ وہ یاترا سے متعلق تمام جانکاری بورڈ کی ویب سائیٹ www.shriamarnathjishrine.com پر دستیاب رکھیں ۔ بورڈ نے یاترا 2018کیلئے تیار کئے گئے ایکشن پلان کا بھی جائیزہ لیا ۔ چئیر مین نے سی ای او کو ہدایت دی کہ وہ یاترا 2018 شروع ہونے سے پہلے پہلے تمام انتظامات کی تکمیل کو یقینی بنائیں ۔
ڈاکٹر چندر موئلی رینہ کی تصنیف کی رسم رونمائی
نئی دہلی//گورنر این این ووہرا جو شری امر ناتھ جی شرائین بورڈ کے چئیر مین بھی ہیں ، نے شری امر ناتھ جی شرائین بورڈ کی 34 ویں میٹنگ کے دوران شرائین بورڈ کے ممبر ڈاکٹر چندر مولی رینہ کی طرف سے تصنیف کردہ کتاب ورِدھ وششٹ سمھتا کی رسمِ رونمائی انجام دی ۔ گورنر نے ڈاکٹر رینہ کے اس ادبی کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب وششٹا کے کاموں سے متعلق نادر نسخوں کے سنسکرت سے ہندی ترجمے پر مبنی ہے اور اس کتاب سے پڑھنے والوں کو کافی فائدہ حاصل ہو گا اور وہ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں جانکاری حاصل کر پائیں گے ۔
ہانجورہ نے ڈی بی ڈی کی عمل آوری کاجائزہ لیا
جموں /زراعت کے وزیر غلام نبی لون ہانجورہ نے یہاں ایک جائز ہ میٹنگ کے دوران کھادوں کے حوالے سے ڈی بی ٹی کی عمل آوری کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ فائیٹلائزرس گورنمنٹ آف انڈیا دھرم پال ، کمشنر سیکرٹری زراعت محمد افضل ، سیکرٹری زراعت شوکت احمد بیگ اور کئی دیگر افسران بھی موجود تھے۔میٹنگ میں یکم فروری 2018ء سے کھادوں پر ڈی بی ٹی عملانے کے بارے میں متعلقین کی طرف سے کی جارہی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران وزیر کو جانکاری دی گئی کہ مختلف سطحوں پر ادائیگیوں اور اخراجات کو اسی نظام کے ذریعے عملایا جاتا ہے۔اس موقعہ پر بتایا گیا کہ نظام میں شفافیت لانے کے لئے سکیموں کا فائدہ براہ راست کے کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ہانجورہ نے محکمہ کے تمام افسروں اور کھادیں سپلائی کرنے والی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ بد نظمی پر قابو پانے کے لئے وضع کی گئی حدوں اور رہنما خطو ط پر سختی سے عمل کریں۔انہوں نے کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ادھمپور ریک پوائنٹ پر کھادیں سٹاک کرنے کا معاملہ ریلوے حکام کو ساتھ اٹھائے ۔وزیر نے کہا کہ کسانوں کو مختلف سکیموں کے ذریعے سے ملنے والی معاونت کی تشہیر کی جانی چاہئیں تاکہ صحیح مستحقین تک فائدے پہنچائے جاسکے ۔انہوںنے محکمہ کے سربراہوں سے کہا کہ وہ التوا میں پڑی ڈی پی سیز کا انعقا د کریں تاکہ ملازمین کو ترقی سے نوازا جاسکے ۔میٹنگ میں کئی دیگر معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تصدق مفتی کی صدارت میں محکمہ سیاحت کی میٹنگ منعقد
ماحول دوست ترقیاتی پروجیکٹ ہاتھ میں لینے پر زور دیا
جموں // سیاحت کے وزیر تصدق مفتی نے یہاں محکمہ سیاحت کی ایک جائیزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں مختلف پروجیکٹوں کی عمل آوری کے علاوہ محکمہ کی طرف سے ہاتھ میں لی گئی سکیموں کی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں سیاحت اور ثقافت کی وزیر مملکت پریا سیٹھی بھی موجود تھیں۔میٹنگ میں اور لوگوں کے علاوہ حکومت کے ایڈوائزر پردیپ سنگھ، سیکرٹری سیاحت سرمد حفیظ، ناظم سیاحت جموں سمیتا سیٹھی اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔تصدق مفتی نے اس موقعہ پر سیاحتی سرگرمیوں کو تقویت بخشنے کے لئے مزید تندہی اور لگن و ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے افسروں سے کہا کہ وہ علاقائی او ر کلچر کو ملحوظ نظر رکھ کر ماحولیات دوست ماسٹر پلان اور ویثرن دستاویزات تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق اور سروے سیاحتی پالیسی کا ایک متواتر حصہ ہونا چاہئے تا کہ ریاست کے تواریخی اقداراور قدرتی مناظر کے عین مطابق جدید بنیادی ڈھانچہ وجود میں لایا جاسکے۔تصدق مفتی نے کہا کہ آج کل کے دور میں ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کلیدی اہمیت کے حامل ہیں اور سیاحتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لئے ان کا بھرپور استعمال کیا جانا چاہئے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ سودیش درشن سکیم کے تحت کئی پروجیکٹ ہاتھ میں لئے گئے ہیں جن میں سدھڑا گالف کورس کے نزدیک ایک امیوزمنٹ واٹر پارک قائم کرنا، باغ باہو میں لائٹ این ساؤنڈ شو کے لئے میوزیکل آبی فوارے قائم کرنا، سچیت گڑھ بارڈر سیاحت کو فروغ دینا اور کٹرہ میں سیاحتی سرگرمیوں کو دوام بخشنا بھی شامل ہے۔اس دوران بتایا گیا کہ ہائی وے سیاحت کو بڑھاوا دینے کے لئے بھی خاطر خواہ اقدامات کئے جارہے ہیں۔میٹنگ کے دوران سیاحوں کے لئے سفری سہولیات میں بہتری لانے کے لئے اختراعی اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔اس موقعہ پر مختلف پروجیکٹوں کو عملائے گئے، زیر عمل اور ہاتھ میں لئے جانے والے پروجیکٹوں کے طور پر زمرہ بندی کرنے کی ضرورت پر بھی زورد یا گیا تا کہ پروجیکٹوں کو موثر ڈھنگ سے عملایا جائے۔
غذائی اجناس کی سٹاک اور سپلائی پوزیشن کا جائیزہ
ایم ایم ایس ایف کامقصد79 لاکھ افراد کوخوراک کی فراہمی:ذوالفقار
جموں // خوراک، سول سپلائیز اور امور صارفین کے وزیر چوہدری ذوالفقار علی نے کہا ہے کہ حکومت نے ریاست کے79 لاکھ نفوس کو این ایف ایس اے کے تحت گذائی اجناس فراہم کرنے کے لئے ایم ایم ایس ایف ای ایس سکیم شروع کی۔ان باتوں کا اظہار وزیر موصوف نے آج یہاں متعلقہ محکمہ کی ایک جائیزہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقعہ پر ضلع وار غذائی اجناس کی سٹاک اور سپلائی پوزیشن کا جائیزہ لیا گیا۔چوہدری ذوالفقار علی نے این ایف ایس اے اور ایم ایم ایس ایف ای سکیموں کی عمل آوری کا جائیزہ لیتے ہوئے متعلقین کے درمیان بہتر تال میل یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔انہوں نے محکمہ کے کام کاج میں شفافیت اور جوابدہی لانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔راشن کارڈوں کی تقسیم کاری کا جائیزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسروں کو ہدایت دی کہ وہ یہ کام جلد از جلد مکمل کریں۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ کشمیرصوبے میں چاول کے337000 کونٹل،17000 کونٹل گندم ہر ماہ این ایف ایس اے کے تحت68.10 لاکھ افراد میں تقسیم کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں لعت و لعل برتنے والے اہلکاروں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔وزیر موصوف نے خانہ بدوش آبادی کو راشن کارڈ جاری کرنے کی پیش رفت کا بھی جائیزہ لیا۔ذوالفقار علی نے ایس آر ٹی سی کو ہدایت دی کہ وہ جی پی ایس لگی ٹرانسپورٹ سہولیات دستیاب رکھیں۔ اس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری ایف سی ایس اینڈ سی اے معراج الدین خان کے علاوہ محکمہ کے کئی دیگر افسران بھی موجود تھے۔