جموں //سابق وزیر اعلیٰ اور حزب اختلاف کے رہنما عمر عبداللہ نے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد گریزی سے مطالبہ کیا کہ اسمبلی کارروائی کے دوران میڈیا پر موبائل کے استعمال پر پابندی عائد نہ کریں جس پر صحافیوں نے تالیاں اور ٹیبل بجا بجا کر عمر عبداللہ کے اس ساتھ کی سراہنا کی ۔قانون ساز اسمبلی میں جمعہ کو میڈیا گئلیری میں موجود ایک صحافی کے موبائل کو ڈپٹی اسپیکرنے ضبط کرنے کا حکم دیا جس کے بعد اسمبلی عملہ نے اُن کے موبائل کو ضبط کر کے ڈپٹی اسپیکر کے پاس لیا اس دوران ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اسمبلی میں موبائل پر کسی کو بھی بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گئی۔موبائل کی ضبطی کے بعد سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور ڈپٹی اسپیکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ پریس گیلری میں موجود میڈیا کے اہلکاروں کو موبائل فون کے استعمال پر پابندی نہ عائد کی جائے کیونکہ آج کل کا دور موبائل کا دور ہے اور اگر اسمبلی سیشن کے دوران یہ موبائل کا استعمال نہیں کریں گے تو پھر اسمبلی کی کارروائی کیسے عوام تک پہنچے گئی جبکہ بعد میں ممبران ہی شکایت کرتے ہیں کہ اُنکی بات عوام تک نہیں پہنچتی ۔انہوں نے کہا کہ آج موبائل کا دور ہے ۔انہوں نے ڈپٹی سپیکر سے کہا کہ وہ موبائل کے استعمال پر باپندی عائید نہ کریں جس کے بعد میڈیا گئلیری سے میڈیا کے اہلکاروں نے عمر عبدللہ کی بات پر ٹبل بجا بجا کر اس بات کی سراہنا کی ۔اس دوران اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد گریزی نے کہا کہ موبائل کے استعمال کرنے میں کوئی دقت نہیں ہے تاہم کچھ لوگ موبائل پر بات کرتے ہیں جس کی اجازت نہیں ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ موبائل کو دیکھنے اور اُس پر لکھنے کی اجازت ہے نہ کے بات کرنے کی ۔بعد میں ڈپٹی اسپیکر نے صحافی کا موبائل واپس کر دیا ۔