۔30ویں پولیس پبلک میلے کا افتتاح
وزیراعلیٰ کاپولیس کے مہلوک جوانوں کوخراج
جموں//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے یہاں گلشن گراؤنڈ میں30 ویں پولیس پبلک میلے کا افتتاح کیا۔ زندگی کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے میلہ میں شرکت کی جو سرینگر اور جموں میں ہر سال منایا جاتا ہے۔میلہ کے افتتاح کے بعد محبوبہ مفتی نے جے اینڈ کے پولیس کے اُن جوانوں اور افسروں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی قیمتی جانوں تک کی قربانی دی۔وزیر اعلیٰ نے مختلف سٹالوں کا معائنہ کیا اور وہاں نمائش میں رکھے گئے ریاست کے تینوں خطوں کی مصنوعات کے معیار کی ستائش کی۔جموں وکشمیر پولیس وائیوز ویلفئیر ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ اس میلے میں53 سٹال قائم کئے گئے تھے۔ اس میلے کے انعقاد کا مقصد محکمہ پولیس کے جوانوں اور افسروں کے بچوں و کنبوں کی بہبودی کے لئے رقومات جمع کرنا ہے۔ڈی جی پی ایس پی وید، اے ڈی جی پیز، ڈویثرنل کمشنر جموں اور کئی دیگر سینئر افسران اس موقعہ پر موجود تھے۔جموں وکشمیر پولیس وائیوز ویلفئیرایسوسی ایشن کی چئیر پرسن بھارتی وید اور ایسوسی ایشن کے ممبران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔
گوجربکروالوں کوبی پی ایل اور
فوڈسیکورٹی کے تحت لانے کامطالبہ
جموں//جموں و کشمیر کے گوجروں اور بکروالوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عارضی ہجرت کرنے والے گوجروں اور بکروالوں کو غربت کی سطح سے نیچے گزر بسر کرنے والا طبقہ قرار دے اور انہیں فوڈ سیکورٹی کے تحت لائے۔ اس سلسلے میں آج یہاں ٹرائبل ریسرچ اینڈکلچرل فائونڈیشن کی جانب سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس موقعہ پر مقررین نے اپنی تقاریر میں کہا کہ وقتی طور ہجرت کرنے والے گوجروں اور بکروالوں کو بے پناہ مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لئے ان کی فلاح و بہبود کے لئے موثر قدم اٹھانا لازمی ہے ۔ ڈاکٹر جاوید راہی نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ان طبقوں کو بی پی ایل فہرست میں شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ وہ اس کے حق دار ہیں ۔دیگر مقررین نے اپنی تقاریر میں کہا کہ سماج کے پچھڑے اور کمزور طبقوں کے معیار حیات کو بہتر بنا کر ہی ریاست اور ملک کی متوازن ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گوجر اور بکروال ریاست کی کل آبادی کا 20فیصد حصہ ہیں اور ان طبقوں کا 42فیصد حصہ خطہ افلاس کی سطح سے نیچے زندگی کے دن گزار رہا ہے۔رفیع ساقی ،غلام رسول چیچی،دین محمد چوکر ، عالم دین چوہدری،ڈاکٹرارشاد احمد ، نذیر احمد کھٹانہ اور وراثت علی نے بھی تقاریر کیں۔
ریاستی عوام کو1953میں چھینی گئیںآئینی اورجمہوری مراعات واپس کی جائیں: کمال
جموں//نیشنل کانفرنس روز اول سے ہی ریاستی عوام کی مفادات اور احساسات کی پاسبان اور ساتھ ساتھ ریاست کے تینوں خطوں کی یکساں ترقی اور سیاسی نمائندہ جماعت رہی ہے اسی جماعت نے ہر نازک اور امتحان کی گھڑیوں میں لوگوں کے دوش بدوش کھڑا ہو کر اپنے خدمات وقف رکھیں اور اس اصول قائم و دائم ہے اسی جماعت کی عظیم قربانیوں اور مالی جانی قربانیوں کی بدولت ریاست کے لوگوں کو جمہوری اور آئینی حقوق حاصل ہوئے جبکہ گاؤں کے 80% لوگوں کو زمین پر مالکانہ حقوق حاصل ہوئے ذریعے اصلاحات عمل میں لائے گئے ، پنچایت راج ، مزدور راج ، کسان راج کے ساتھ ساتھ امداد باہمی اداروں کے ساتھ ساتھ جمہوری اور آئینی اداروں کی بنیاد پڑی یہ سب کچھ مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی عظیم لیڈر شیپ اور ان کے ساتھیوں خصوصاً شہیدان قوم کے پاک قربانیوں کی بدولت حاصل ہوئی ۔ ان باتوں کا اظہار پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے جموں شیر کشمیر بھون میں صوبہ جموں کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا ہندوستان کے ساتھ مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنے آخری دور میں تین چیزوں پر ، رس وسائل ، خارجہ پالیسی اور کرنسی پر محدود شرائط پر رشتہ جوڈا اور ریاست میںفوجی کمک تحریری طور پر طلب کی جبکہ مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کوہالہ جیل میں اسیری کاٹ رہے تھے اس دستاوزیزی الحاق کے تحت 35 اے اور دفعہ 370 کے تحت ریاست کے لوگوں کو آئینی اور جمہوری حقوق ، خصوصی پوزیشن حاصل ہوئی اور سٹیٹ سبجکٹ بھی حاصل ہوئی لیکن بد قسمیتی سے قوم اور وطن کے بے ضمیر اور وطن فروشوں نے 09 اگست1953 واقع کر کے ان تمام آئینی پوزیشن کو تحس نحس کروایا جن کے تحت ہمیں اندرونی خود مختاری حاصل ہوئی تھی جن کے تحت ریاست کو اپنا وزیر اعظم ، اپنا صدر ریاست ، اپنا آئین ، اپنا جھنڈا، اپنا عدلیہ کے ساتھ ساتھ لکھنپور سے نوبرا تک پاسپورٹ تھا۔ لیکن ان کا خاتمہ کرنے کے لئے مرحوم غلام محمد صادق ، وانی (قرہ ) نے کرسی کی لالچ نیلام کر دیاجبکہ مرحوم بخشی غلام محمد ریاست کے ہر پولیس اسٹیشن میں مرکزی فورسز دستے تعینات کروائیں اور آئی ایس آفیسروں کی تعیناتی بھی ممکن بنائی ۔ اگر 1953 کا وقعہ نہ ہو تا تو آج ہم کشمیری مشکلات اور مصائب میں نہ ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم مفتی محمد سعید نے ریاست کی رہی سہی آئینی ساخت بھی ختم کرنے میںکوئی کثر باقی نہیں رکھی ۔ مفتی سعید نے پانچ بار ریاست کی منتخب حکومتیں گرا دی ، جگہ جگہ قبرستان تعمیر کروائیں ، جگہ جگہ گم نام قبرے وجود میں لائی ، ہزاروں نوجوان بزرگ ، خواتین کی نسل کشی کی گئی ، افسپا لوگو کرا کے ایک گولی کا جواب سو گولی ، شوٹ آن سائٹ ہیلنگ ٹچ کے بجائے کلن ٹچ اور اب اس کی بیٹی بحثیت وزیر اعلیٰ نے کشمیر کی مالی خود مختاری کا نیلام کر دیا اور ریاست میں کرپشن کا بازار گرم کروایا ،ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل تاریخ بنایا ، نئے سرے سے سیکنڈوں بنکر تعمیر کروائیں اور اب ایک گولی کا جواب لاکھ گولی سے اور بنکر بنانے کی دھمکی دی رہی ہے اصل میں یہ خاتون وزیر اعلیٰ لوگوں کا منڈیٹ سے محروم ہوئی البتہ کنبہ پروری میں نام کمایاں اور یہ وزیر اعلیٰ دہلی اور ناگپور کے بے ساکیوں پر کھڑی ہے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ موجودہ کشمیر دشمن اور کشمیرت کے اصلی آستین کے سانپوں کی ناپاک سازشوں اور ارادوں کو خاک میں ملائیں اور متحد ہو کر نا انصافیوں کے خلاف مہم شروع کریں۔ انہوں نے مرکزی سرکار کو بھی خبر دار کیا کہ وہ بغیر کسی طوالت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے پاکستان سے بات کرے اور دونوں ملکوں کو چاہئے کہ وہ سرحدوں پر گن گرج بند کرے کیونکہ ستھر سال سے آر پار کشمیری لوگ ہر سطح پر تباہ و برباد ہو رہے ہیں اور ریاست میں امن لوٹ واحد صورت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں ہی ہے ۔ اس موقع پر کٹھواعہ کے واقع کی تحقیقات فوری طور پر عمل میں لانے کی اپیل کی گئی اور مجرم کو تختہ دار چھڑانے پر زور دیا گیا ۔ ساتھ ساتھ جموں میں ان عناصروں پر کھڑی نگرانی رکھنے کی اپیل کی گئی جو 1947 دھرانے کی ناپاک کوشش کر رہے ہیں۔
مہاراشٹرمیںیو این انوائرمنٹ۔ سینچوری نیچر فاؤنڈئشن میٹ
وزیرسیاحت تصدق مفتی نے ریاست کی نمائندگی کی
مہا راشٹر//سیاحت کے وزیر تصدق حسین مفتی نے مہا راشٹر میں منعقدہ یو این انوائرنمنٹ۔ سینچوری نیچر فاؤنڈیشن میٹ میں حصہ لیا۔یہ میٹ ٹاڈوبا وائلڈ لائف ٹائیگر سینچوری میں 20 سے 22 فروری2018 تک منعقد ہوئی ۔ اس میٹ کا مقصد سیاحت کو روز گار پیدا کرنے کا ایک وسیلہ بنانا تھا۔تصدق مفتی نے کہا کہ پچھلی چند دہائیوں کے دوران ریاست جموں وکشمیر نے ماحولیات کے سلسلے میں زبردست تباہی کا منظر دیکھا ہے جن میں ریاست کی جھیلیں، دریا اور سرسبز میدان شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے متعدد علاقوں میں پختہ عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں جنہیں سیوریج اور ویسٹ منیجمنٹ جیسی سہولیات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔وزیر سیاحت نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں پھر سے جنگلات کے تحفظ، دریاؤں، پہاڑوں اور جھیلوں کو اپنی اصلی حالت میں واپس لانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے تا کہ مقامی لوگوں کے علاوہ بیرون ریاست و بیرون ملک کے سیاحوں کو جموں وکشمیر کی جانب راغب کیا جاسکے۔اس موقعہ پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری مہاراشٹر پروین پردیسی، ڈائریکٹر ٹورازم کشمیر محمود شاہ، ریجنل وائلڈ لائف وارڈن کشمیر رشید وائی نقاش کے علاوہ وائلڈ لائف انسٹی چیوٹ آف انڈیا کے نمائندے بلال حبیب بھی موجود تھے۔
۔IIIM کی جانب سے فلورل پینٹنگ مقابلے کاانعقاد
جموں//سی ایس آئی آر،انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انٹریکٹیومیڈیسن (CSIR-IIIM) کی جانب سے سی ایس آئی آر،ارومامشن کے تحت نیشنل ورکشاپ کم ایگزیبیشن آف کسان میلہ ،انٹرپرینرشپ پروگرام اورفلاورشوکاانعقاد کاانعقادکیاگیا۔پروگرام کاانعقاد ڈائریکٹرسی ایس آئی آر، آئی آئی ایم ،جموں ڈاکٹررام وشواکرما اورانجینئررجنیش آنند چیف سائنٹسٹ اینڈسیکریٹری کی نگرانی میں کیاگیا۔مختلف قسم کے ایونٹوں میں 51سکولوں کے ساڑھے چارسوسے زائدبچوں نے حصہ لیا۔اس موقعہ پر فلورل پینٹنگ /ڈرائینگ کمپی ٹیشن کاانعقادبھی کیاگیاجس میں 5-8، 9-12اور13-16 عمرکے زمروں میں مقابلے ہوئے ۔اس دوران بتایاگیاکہ مقابلے کے نتائج کااعلان 9مارچ کوکیاجائے گا۔اس دوران کسانوںکوبہبودی سکیموں کی جانکاری بھی دی گئی۔اس دوران جانکاری دئی گئی 9مارچ کوچٹھافیلڈسٹیشن میں آن سپاٹ پینٹنگ ؍ڈرائینگ مقابلے کاانعقادکیاجائے گا۔اس موقعہ پرڈاکٹرزبیراحمد،ڈاکٹرسمیت گاندھی ، ڈاکٹردیپکا سنگھ،ڈاکٹرانیل کراٹے، ڈاکٹرپرسون گپتا، ڈاکٹرارون کمار، ڈاکٹربکرم سنگھ، ڈاکٹر وی پی راہل ، ڈاکٹروکاس بابو، ڈاکٹراتپل نندی، ڈاکٹرکرانتی ریکھا، سنجے شرما، راجندرکمار،چندرپال سنگھ ودیگران فیکلٹی ممبران واسکالربھی موجودتھے۔
حکومت پسماندہ طبقوں کی توقعات پرکھرااُترنے میں ناکام:تیلی
جموں//نیشنل کانفرنس اوبی سی سیل نے کیٹاگری سرٹیفکیٹوں کے اجراء کوسٹریم لائن اور27فیصد ریزرویشن کولاگوکرنے کامطالبہ کیاہے۔گاندھلی موڑآرایس پورہ میں منعقدہ ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس اوبی سی سیل کے شریک چیئرمین عبدالغنی تیلی نے کہاکہ اوبی سی طبقہ کی مانگ کوحکومت مسلسل نظراندازکررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت بے روزگارنوجوانوں اورکمزورطبقوں کی اُمنگوں پرکھرااُترنے میں مکمل طورپرناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک بھرمیں اوبی سی طبقہ کو27فیصدریزرویشن دی جارہی ہے لیکن جموں وکشمیرحکومت یہاں کی اوبی سی آبادی کی پریشانیاں دورکرنے اورجائز مانگ پوراکرنے میں لیت ولعل کررہی ہے۔عبدالغنیتیلی نے مانگ کی کہ اوبی سی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افرادکومختلف ترقیاتی کارپوریشنوں اورایس سی ؍ایس ٹی؍اوبی سی ڈیولپمنٹ فائنانشل کارپوریشن میں نامزدکیاجائے تاکہ اوبی سی طبقہ کیلئے سکیموں کافائدہ متعلقہ طبقہ کے لوگوں تک بھی پہنچ سکے۔انہوں نے عمرعبداللہ کی قیادت والی سابق ریاستی حکومت کے اقدامات کی ستائش کی۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت اوبی سی طبقہ کے مسائل کی اندیکھی کررہی ہے۔اس دوران میٹنگ میں صوبائی سیکریٹری سائیں داس، چرنجیت سنگھ، راج سنگھ، بلونت ورما، درشن لال ،لوکیش ورماودیگران بھی
آر ایس پورہ میں عوامی مسائل ازالہ کیمپ کا انعقاد
جموں//پی ایچ ای، اری گیشن اور فلڈ کنٹرول کے وزیر شام لال چودھری نے آر ایس پورہ میں عوامی شکائتی کا انعقاد کیا۔کیمپ کے دوران وزیر نے لوگوں کی شکایات سُنیں اور انہیں حل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔اس موقعہ پر وزیر نے کہا کہ علاقہ کے ٹرانسفارمروں کو اپ گریڈ کرنے اور پُرانے ٹرانسفارمروں کی مرمت کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔حلقہ انتخاب سچیت گڑھ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے وزیر موصوف کی اُن کاوشوں کی سراہنا کی جو انہوں نے بجلی کی فراہمی، سڑک رابطوں کو بہتر بنانے، تعلیمی و طبی سہولیات اور راشن وغیرہ کی تقسیم کاری کے سلسلے میں اُٹھائے ہیں۔دیہی علاقوں کے لوگوں نے ٹرانسفارمروں کو اپ گریڈ کرنے، بجلی کے کھمبوں اور ایل ٹی/ ایچ ٹی تاروں کو بدلنے، سڑکوں کی بلیک ٹاپنگ کرنے اور گلیوں و نالیوں کی تعمیر کے مطالبات پیش کئے۔وزیر نے تمام وفود کو غور سے سُنا اور انہیں یقین دلایا کہ حکومت ان کے جائیز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔
نوجوان روز گار سے متعلق سکیموں سے فائدہ اُٹھائیں:لال سنگھ
جموں//جنگلات و ماحولیات کے وزیر چوہدری لال سنگھ نے افسروں پر زور دیا ہے کہ وہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے جاری بہبود ی سکیموں کے بارے میں عوام میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کریں تا کہ ان کے فوائد لوگوں تک پہنچ سکیں۔وزیر بشناہ کے دبڑ کے امیر نگر میں ایک عوامی شکائتی ازالہ کیمپ سے خطاب کر رہے تھے۔چیف کنزرویٹر آف فارسٹس فاروق گیلانی، کنزرویٹر ایسٹ سرکل خواجہ قمر الدین کے علاوہ تعمیرات عامہ ، دیہی ترقی، پی ڈی ڈی، پی ایچ ای اور جنگلات محکموں کے افسران موجود تھے۔وزیر موصوف نے مزید کہا کہ حکومت دیہی علاقوں کے لوگوں کو شہری علاقوں کی طرز پر تمام بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔انہوں نے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لئے فوری اقدامات اُٹھائیں۔انہو ں نے کہا کہ ہر محکمہ کے افسروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی دہلیز پر ان کے مسائل حل کرنے اور ان کی شکایات کے ازالہ کے لئے اقدامات کریں۔وزیر موصوف نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ روز گار کے مواقعے پیدا کرنے کے سلسلے میں جاری سکیموں سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے ذاتی یونٹ قائم کر کے نہ صرف خود روز گار کمائیں بلکہ دوسروں کے لئے بھی روز گار کی سبیل پیدا کریں۔علاقہ کے لوگوں کے مسائل اور مطالبات کے رد عمل میں وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت نے ترقیاتی ایجنڈہ میں بہتر سڑکوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینا شامل ہے۔
حکومت ریاست کی ہمہ جہت ترقی کی وعدہ بند: گنگا
جموں//صنعت و حرفت کے وزیر چندر پرکاش گنگا نے کہا ہے کہ حکومت ریاست کے تینوں خطوں کی متوازن ترقی کو یقینی بنانے کی وعدہ بند ہے۔وزیر نے ان باتوں کا اظہار ضلع سانبہ کے باڑی کھڈ علاقہ میں ایک پبلک دربار کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔ سماج کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے پبلک دربار میں حصہ لیااور وزیر موصوف کو اپنی مشکلات و مطالبات کے بارے میں روشناس کرایا۔اس موقعہ پر لوگوں نے سڑک رابطوں کی بہتری، بجلی کی متواتر فراہمی، راشن کی دستیابی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی وغیرہ سے متعلق معاملات وزیر موصوف کی نوٹس میں لائے۔وزیر نے لوگوں کے مسائل غور سے سُنے اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے جائیز مطالبات کو متعلقہ حکام کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔اس موقعہ پر وزیر نے بعض معاملات کے ازالہ کے حوالے سے متعلقین کو ہدایات دیں۔اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ علاقہ میں ایک کروڑ روپے کی لاگت کے تعمیراتی کاموں پر کام جاری ہے جس میں باڑی کھڈ سے دھرم سال تک ایک کلو میٹر سڑک کی تعمیر بھی شامل ہے جس پر22 لاکھ روپے کی رقم خرچ کی جارہی ہے۔اس کے علاوہ شاہ تالاب سے باڑی کھڈ تک4.5 کلو میٹر سڑک پر66 لاکھ روپے کی رقم سے کام جاری ہے۔پینے کے پانی کے مسئلے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر نے اس موقعہ پر علاقہ کے لئے ایک ٹیوب ویل کی منظوری دی۔
صحیح اور مو ثر تعلیم تابناک مستقبل کی ضمانت :فاروق شاہ
نیوز ڈیسک
جموں//سیکرٹری سکولی تعلیم فاروق احمد شاہ نے کہا ہے کہ ہمارے مستقبل کو تابناک بنانے میں صحیح اور موثر تعلیم کا اہم رول ہے اور سماج کے ہر فرد پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صحیح تعلیم کا ماحول فراہم کرنے اور اسے بڑھاوا دینے کی کوششوں میں اپنا ہاتھ بٹائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم کی اہمیت و افادیت کوزندگی کے کسی بھی موڑ پر فراموش نہیں کر سکتے ہیںکیونکہ تعلیم وہ آلہ ہے جس کی مدد سے ہم تمام سماجی، ذاتی اور پیشہ ورانہ مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ ان باتوں کا اظہا ر سیکرٹری سکولی تعلیم نے اساتذہ بھون جموں میں(Young Brains)نامی انٹر سکول ہیلتھ کوئز مقابلے کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے کیا۔تقریب کا اہتمام شری ماتا ویشنو دیوی ناراینا سپر سپیشلٹی ہسپتال کٹرہ ریاسی نے کیا تھا۔اس موقعے پر انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ تعلیم کی مدد سے اقتصادی حالت کو مستحکم بنانے ، سماج میں امن قائم کرنے ،نابرابری ، رشوت خوری اورغریبی کا خاتمہ کرنے اور انسانی حقوق کو حفاظت فراہم کرنے میںمدد ملتی ہے ۔انہوںنے کہا کہ تعلیم کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم کافی محنت کرکے اچھے نتائج حاصل کرسکیں بلکہ پوری انسانیت کی بقا ء اور بہتری کے لئے تعلیم کو ایک آلہ بنا کر اِختراعیت کو استعمال کیا جائے۔ سیکرٹری سکولی تعلیم نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر نے ایجوکیشن سیکٹر کو بڑھاوا دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے جس کی مثال سکولوں اور کالجز کی تعداد میں اضافے کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔انہوںنے کہا کہ ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی جموں معیاری تعلیم کا مرکز بن گئی ہے اور وہ دن دُور نہیں جب ہماری ریاست تعلیم کے میدان میں اول مقام حاصل کرکے دنیا کے تعلیمی نظام میںخصوصی طور جانی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں تعلیمی میدان کے ساتھ ساتھ طبی میدان میں بھی انسانی وسائل کا بھرپوراستعمال کرنا چاہیے تاکہ ہر ایک میدان میں موجودہ تقاضوں کے مطابق سہولیات بہم ہوں۔انہوں نے کہا کہ جموں خطہ میڈیسن اور ہیلتھ کئیرکے میدان میں ترقی کر رہا ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس شعبے کو پوری طرح سے بڑھاوا دیں تاکہ ریاست جموں کشمیر کو میڈکل ٹورازم کے مرکز کے طو ر پیش کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔ اس موقعے پرجموں ڈویژن کے مختلف سکولوں کے تقریباً 300بچوں نے شرکت کی ۔ تقریب میں محکمہ تعلیم اور شری ماتا ویشنو دیوی ناراینا سپر سپیشلٹی ہسپتال کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔