سٹیٹ ایڈزکنٹرول سوسائٹی کے زیراہتمام بیداری پروگرام
ایڈز کے خاتمے کیلئے غیرسرکاری تنظیموں سے آگے آنے کی اپیل
جموں//سٹیٹ ایڈز کنٹرول سوسائٹی کی جانب سے گورنمنٹ ہسپتال گاندھی نگر جموں میں 8 ما رچ 2018 کو شروع کیا گیا پروگرام 13 مارچ کو اختتام پذیر ہو گیا ۔ اختتامی تقریب کی صدارت کے فرائض ڈاکٹر مشتاق احمد راتھر پروجیکٹ ڈائریکٹر جے کے ایس اے سی ایس نے انجام دئے۔اس موقعہ پر اپنی تقریر میں ڈاکٹر مشتاق نے اس پروگرام میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ ریاست میں اس جان لیوا بیماری سے محفوظ رہنے کے لئے عام لوگوں میں بیداری لانے کے لئے ایک زور دار مہم چلائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں کو بھی اس ضمن میں ایک نمایاں رول ادا کرنا ہے تاکہ اس مہلک مرض کا مکمل خاتمہ ہوسکے۔تقریب کے اختتام پر شرکاء کو پروجیکٹ ڈائریکٹر کی جانب سے پرزنٹیشن اسناد سے نوازا گیا ۔اس موقعہ پر ڈاکٹر تبسم جبیںڈی ڈی بی ایس ،ڈاکٹر یش پال،اے ڈی بی ایس ڈی،وویک شرماای اے او،ڈاکٹر سمیرا خان پی او سی ایس ٹی کے علاوہ دیگر اہلکار بھی موجود تھے۔
کالج اساتذہ کاوفد وائس چانسلرجموں یونیورسٹی سے ملاقی
جموں//کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے سی ٹی اے صدر پروفیسر ڈی ایس منہاس کی قیادت میں جموں یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے ملاقات کی اور اپنے درپیش مسائل کے بارے میں انہیں آگاہ کیا ۔رجسٹرار جموں یونیورسٹی ، ڈین ریسرچ سٹڈی ، جوائنٹ رجسٹرار ، ڈی اے اے بھی میٹنگ میں موجود تھے۔وفد نے وائس چانسلر کو اپنے مسائل کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی ۔ وفد نے ڈین ریسرچ سٹڈیز کو ان مسائل کے ازالہ کے لئے ضروری ہدایات دیں۔
سیاسی جماعتوں اور حریت کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے
بھیم سنگھ کا وزیر اعظم کے نام مکتوب
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک خط تحریر کرکے ان پر زور دیا ہے کہ وہ جموں وکشمیر میں امن بحالی کے لئے الیکشن کمیشن کے ذریعہ تسلیم شدہ تمام ریاستی اور قومی سیاسی جماعتوں کے کم از کم پانچ پانچ نمائندوں کی میٹنگ طلب کریں حالانکہ الیکشن کمیشن نے حریت کانفرنس کو تسلیم شدہ جماعت کی حیثیت نہیں دی ہے پھر بھی ایک مخصوص انتظام کے تحت اس کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے خط میں کہا کہ ریاست کے موجودہ حالات میں ہر سیاسی پارٹی کی رائے سننا ضروری ہے۔ وزیراعظم کوہر گروپ اور ہرجماعت کی بات سننی چاہئے جس سے ریاست میں امن بحالی کا راستہ نکالا جاسکے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ وزیراعظم جموں وکشمیر کے بقیہ ملک کے ساتھ انضمام کے لئے عظیم خدمت کررہے ہیں جس طرح جموں وکشمیر کے مہاراجہ نے 26 اکتوبر 1947کو الحاق نامہ پر دستخط کرکے کی تھی۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کا اس طرح مکمل الحاق نہیں ہوا ہے جس طرح دیگر 575ریاستوں کا ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ عارضی دفعہ ۔370میں جلد از جلد ترمیم کیا جانا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ بے معنی ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وہ دفعہ ۔370میں ترمیم یا تبدیلی کرسکتے ہیں۔انہوں نے ہندستان کے وزیراعظم پر سے پرزور اپیل کی کہ وہ جموں وکشمیر کی تمام تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں سمیت قومی جماعتوں کے پانچ پانچ نمائندوں کو میٹنگ کے لئے طلب کریں جس سے موجودہ بحران سے نپٹنے اور ریاست میں امن بحالی کیلئے کیا کیا جانا چاہئے اس بارے میں ان کی رائے لی جاسکے حالانکہ حریت کانفرنس تسلیم شدہ سیاسی جماعت نہیں ہے اس کے باوجود اس کی بات بھی سنی جانی چاہئے جس سے ریاست میں امن بحالی میں اس کے تعاون کو یقینی بنایا جاسکے ۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ میں نے دونوں ممالک ہندستان اور پاکستان کے مابین امن قائم کرنے کے لئے پہلے بھی کوشش کی ہے جب میں نے 2005اور 2007میں ’دل سے دل کی بات ‘ مذاکرات کا اہتمام کیا تھا جس میں پاک مقبوضہ کشمیر اور جموں وکشمیر کی تقریباًً تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی جن میں جموں وکشمیر سے ڈاکٹر کرن سنگھ، ، ڈاکٹر فاروق عبداللہ، پروفیسر عبدالغنی بھٹ اورپاک مقبوضہ کشمیر کے سردار عبدالقیوم خان اور کئی قانون ساز اراکین نے شرکت کی تھی۔ ان مذاکرت سے پیغام گیا کہ ہم بندوق اور تشدد کے بغیر مل بیٹھ کر جموں وکشمیر کے مسئلہ کا حل تلاش کرنے چاہتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے درخواست کی کہ مجھے اسی طرح ایک اور کانفرنس کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ آپ کی یہ اجازت دونوں ممالک ہندستان او رپاکستان کے لوگوں کے لئے عظیم تعاون ہوگا جس میں ریاست میں امن بحالی کا راستہ تلاش کیا جاسکے گاکیونکہ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے اور ہر مسئلہ کا حل بات چیت سے تلاش کیا جاسکتا ہے۔
ڈنسال میں یکروزہ بیداری کیمپ کا اہتمام
جموں//محکمہ دیہی ترقی وپنچایتی راج کے وزیر عبدالحق خان کی ہدایت پر محکمہ کی طرف سے جموں کے بلاک ڈنسال میں یک روزہ بیداری کیمپ منعقد کیاگیا جس دوران خواتین کو متوازن غذائیت کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نریگا ورکروں میں ’گڈگورننس پہل‘ کے تحت نئے جاب کارڈ بھی تقسیم کئے گئے ۔اس پروگرام کی صدارت ڈائریکٹر دیہی ترقی وپنچایتی راج جموں آ ر کے بٹ نے کی جبکہ اس موقعہ پر مہمان خصوصی سٹیٹ نیوٹریشن افسر /انچارج آئی ای سی سیل طفیل احمد راٹھور تھے ۔ پروگرام میں اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ جموں تاثیر بلوان ، بلاک ڈیولپمنٹ افسر ڈنسال ،مقامی سرپنچ ،پنچ و بڑی تعداد میں خواتین اوردیگر لوگوںنے بھی شرکت کی ۔اس موقعہ پر خواتین کو متوازن غذائیت کے بارے میں جانکاری فراہم کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ ایک صحت مند خاتون کیلئے ضروری ہے کہ وہ انہی غذائوں کا استعمال کرے جو اس کیلئے مفید ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ ایسی سبزیاں ، پھل اور غذائیں کھائی جائیں جن میں متوازن غذائیت ہو ۔ مقررین نے خاص طور پر حاملہ خواتین پر زور دیاکہ وہ اپنی صحت کا بھرپور خیال رکھیں تاکہ ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچے بھی تندرست و توانا رہیںاور ’’صحت یاب مادر۔خوب رو پسر ‘‘ کا خواب پورا ہوسکے ۔اپنے خطاب میں طفیل احمد راٹھور نے کہاکہ محکمہ دیہی ترقی جہاں دیگر شعبوں میں عوام کے ساتھ جڑاہواہے وہیں وہ غذائیت کے بارے میں بھی بیداری لارہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ محکمہ کی طرف سے جگہ جگہ بیداری پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید پروگرام ہوںگے تاکہ خواتین کو ان کی صحت کا خیال رکھنے کے بارے میں بیدار کیاجاسکے ۔ انہوںنے پروگرام میں موجود خواتین پر زور دیاکہ وہ یہاںسے ملنے والے پیغام کو عام کریں اور ان پروگراموں کو ایک تحریک کے طور پر چلایاجائے ۔ آئی ای سی کنسلٹنٹ اعجاز احمد خان نے بھی نیوٹریشن کے بارے میں تفصیلی روشنی ڈالی ۔اس دوران نریگا ورکروں میں ڈائریکٹر دیہی ترقی کے ہاتھوں نئے جاب کارڈتقسیم کئے گئے ۔اپنے خطاب میں ڈائریکٹر موصوف نے عوام اور خواتین پر زور دیاکہ وہ محکمہ کے تحت چلائی جارہی سکیموں کا فائدہ اٹھائیں ۔انہوںنے افسران کو ہدایت دی کہ وہ مستحقین تک ان کاحق پہنچائیں ۔ ڈائریکٹر نے خاص طور پر پردھان منتری آواس یوجنا کی عمل آوری کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ اس سکیم کے تحت غریب اور بے گھر کنبوں کو مکانات تعمیر کرنے کیلئے بغیر کسی رکاوٹ کے رقومات فراہم کی جائیں اور مقرر کئے گئے اہداف کو پورا کیاجائے ۔ ان کاکہناتھاکہ نریگا اور دیگر سکیموںسے فائدہ اٹھاکر غریب لوگ بھی باعزت زندگی بسر کرسکتے ہیں ۔اس موقعہ پر اے سی ڈی جموں نے نئے جاب کارڈ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ پہلے ہر ایک ریاست میں جاب کارڈ الگ الگ قسم کے ہوتے تھے تاہم اب پورے ملک میں یکسانیت لائی گئی ہے اور ایک جیسے جاب کارڈ جاری کئے گئے ہیں ۔ انہوںنے لوگوں پر زور دیاکہ وہ اپنے ان جاب کارڈوں کی ایسے ہی حفاظت کریں جیسے وہ بینک کاپیوں کی حفاظت کرتے ہیں کیونکہ اسی کے ذریعہ سے انہیں روزگار مل سکتاہے اور اسی سے گائوں میں اثاثے قائم ہوںگے ۔بعد ازآں ڈائریکٹر کی سربراہی میں محکمہ کی ٹیم نے ڈنسال بلاک میں ہوئے مختلف کاموں کا معائنہ کیا اور پی ایم اے وائی کے تحت زیر تعمیر مکانات کاجائزہ بھی لیا ۔اس دوران بڑسو گائوں کی ایک بیوہ خاتون نے محکمہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایاکہ اگر اس سکیم کے تحت فائدہ نہ ملتاتواس کیلئے مکان بنانے کاکوئی ذریعہ نہ تھا۔ اسی طرح سے گوجر قبیلے کے ایک غریب شخص نے بھی مکان کی تعمیر کیلئے حکام کا شکریہ ادا کیا ۔
پی جی اسکالرشپ میں دوسرامقام
سکاسٹ جموں کو ایوارڈ عطا
جموں//سکاسٹ جموں کو انڈیا کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کی طرف سے ویٹرنری اور فشریز سائنس میں ملک کی 73 زرعی یونیورسٹی میں سے پی جی سکالرشپ میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے کے لئے ایوارڈ سے نوازا گیا۔اس سلسلے میں آج نئی دلی میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔یہ ایوارڈ زراعت کے مرکزی وزیر رادھاموہن سنگھ نے سکاسٹ جموں کے وائس چانسلر ڈاکٹر پردیپ کے شرماکو زرعی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کی سالانہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے دوران عطاکیا۔گورنر این این ووہرا جو سکاسٹ جموں کے چانسلر بھی ہیں نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر پردیپ کے شرما اور یونیورسٹی کے دیگر عملے کو ملک کی 73زرعی یونیورسٹیوں میں دوسرا مقام حاصل کرنے کے لئے مبارک باد دی ہے ۔واضح رہے کہ یونیورسٹی کے 8ویٹرنری اور فشریز سائنسز کے طلاب نے آئی سی اے آر کے لئے اے آئی ای ای اے ۔ پی جی ۔2017 آن لائن کونسلنگ میں پوسٹ گریجویٹ سکالرشپ حاصل کئے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی سے اے آر نے چار شعبوں میں پروگرام کیٹگری ایوارڈ متعارف کئے ہیں جن میں ایگریکلچرل سائنسز، ہارٹیکلچر اینڈ فارسٹری ، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور ویٹرنری اینڈ فشریز سائنسز شامل ہیں۔گورنر نے ان طلاب کو مبارک باد دیتے ہوئے اُن کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیرجنگلات کابسوہلی میں عوامی دربار
افسران کومحکمہ کی لاگ بُک تیارکرنے کی ہدایت
جموں//جنگلات و ماحولیات کے وزیر چودھری لال سنگھ نے ڈی ایف اوز کو ہدایت دی ہے کہ وہ جنگلات کے ان علاقوں کا لاگ بُک تیار کریں جن کی حد بندی ابھی تک نہیں کی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ سائن بورڈ جنگلات اراضی پر چسپا ں کئے جانے چاہیئے تاکہ اسے جائز قبضہ سے بچایا جاسکے۔ان باتوں کا اظہار وزیر موصوف نے بسوہلی میں ایک عوامی دربار کے دوران افسروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا۔پی سی سی جنگلات روی کیسر کے علاوہ کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی اسموقعہ رپ موجود تھے۔اس سے پہلے عوامی دربار کے دوران کئی وفود وزیر موصوف سے ملاقی ہوئے اور انہیں اپنے اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔لال سنگھ نے لوگوں کے مسائل غور سے سنے اور یقین دلایا کہ انہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔انہوںنے کہا کہ حکومت ریاست کے تینوں خطوں کی مجموعی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے اور اس حوالے سے کئی ترقیاتی پروجیکٹ ہاتھ میں لئے گئے ہیں جن سے لوگ بنیادی سطح پر استفادہ کر رہے ہیں۔
تصدق مفتی کا مبارک منڈی ثقافتی کمپلیکس کا تحفظ اورشان رفتہ یقینی بنانے پرزور
جموں//سیاحت کے وزیر تصدق مفتی نے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ جموں وکشمیر کے ایک بڑے آرکیٹکچرل ہیرٹیج مبارک منڈی کمپلیکس کو محفوظ رکھنے اور اس کی شان رفتہ کو بحال کرنے کے سلسلے میں عملی اقدامات کریں۔وزیرنے ان باتوںکا اظہار کمپلیکس کی بحالی یقینی بنانے کے سلسلے میں مختلف ایجنسیوں کی طرف سے کئے جارہے ترقیاتی کاموں کا جائزہ ایک کنسلنٹنٹوں کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔سیکرٹری سیاحت سرمد حفیظ ،مبارک منڈی ہیرٹیج سوسائٹی کے کنسلٹنٹ منیش پنڈت اور شکھا جین و دیگر متعلقہ افسران نے میٹنگ میں شرکت کی۔وزیر کو بتایا گیا کہ کمپلیکس کو محفوظ رکھنے اور اس کی شان رفتہ کی بحالی کے سلسلے میں اقدامات بڑی شد و مد سے کئے جارہے ہیں۔تصدق مفتی نے دریا کی طرف سے مناسب ڈھانچہ قائم کرنے کے علاوہ مرکزی کورٹ ائیریا میں کچھ ڈھانچوں کی اختراعی بحالی کے ساتھ ساتھ ایک سال کے اندر اس سائٹ کو عوامی کے لئے وقف کرنے کی ہدایت دی۔وزیر نے آثار قدیمہ سے متعلق آرٹ کے مختلف نمونوں کی نمائش کرنے کے انتظامات کرانے کی ہدایت دی تاکہ فنکاراور ماہرین کی حوصلہ افزائی یقینی بنائی جاسکے۔انہوںنے مختلف محکموں کو آپسی اشتراک کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ا س پروجیکٹ کی تکمیل جلد ازجلد مکمل ہوسکے
قبائلی امور محکمہ کی کارکردگی کاجائزہ
ترقیاتی منصوبوں پرغوروخوض ،تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو استحکام بخشنے پرزور
جموں//خوراک، شہری رسدات و امور صارفین اور قبائلی امور کے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے قبائلی امور محکمہ کے افسروں کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی اور محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔وائس چیئرمین سٹیٹ ایڈوائزری بورڈ فار ڈیولپمنٹ آف گجر و بکروال چودھری گلزار احمد کھٹانہ ، کمشنر سیکرٹری امور قبائل محکمہ سلمہ حمید ، ڈائریکٹر امور قبائل محمد رفیع ، سپیشل سیکرٹری امور قبائل محمد شریف، سیکرٹری گجر ال یڈوائزری بورڈ مختلف احمد چودھری، ڈائریکٹر فائنانس امور قبائل اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران میٹنگ میں موجود تھے۔میٹنگ میں مختلف معاملات جن میں پچھلی میٹنگ میں ایکشن ٹیکن رپورٹ پر غور و خوض ہوا ۔وزیر کو بتایاگیا کہ ایس سی اے سے لے کر ٹی ایس پی سرگرمیوں پر 1150.17لاکھ روپے ، آرٹیکل 275(1) پر 2836.90لاکھ روپے اور قبائلی امور سے تعلق رکھنے والے طلاب کے وظائف پر 1463.38 لاکھ روپے اس سال فروری کے آخر تک خرچ کئے گئے ۔امور قبائل طلاب کے تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو استحکام بخشنے کا ذکرکرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ریاست میں پانچ مزید اکلاویہ سکول کھولنے کی تجویز پیش کی جائے گی۔وزیرنے اس موقعہ پر قبائلی آبادی کو فراہم کی جارہی طبی، زرعی اور سکل ڈیولپمنٹ سیکٹر کے تحت فراہم کی جارہی سہولیات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ٹرائبل بھون / عجائب گھر تعمیر کرنے کی عمل کا بھی جائزہ لیا۔
کمرشل فلوری کلچر سے متعلق پروگرام کاانعقاد
جاویدمصطفیٰ میر کافلوری کلچر پالیسی اپنانے پرزور
جموں//ڈیزاسٹر منیجمنٹ ، امداد و باز آبادکاری اور فلوری کلچر کے وزیر جاوید مصطفی میر نے فلوری کلچر کی وزیر مملکت پریا سیٹھی کے ہمراہ گلشن گرائونڈ پولیس آڈیٹوریم میں کمرشل فلوری کلچر سے متعلق ریاستی و ضلعی سطح کی تقریب میں شرکت کی۔اس موقعہ پر کسانوں کی بہبود ی سے متعلق مشاورتی بورڈ کے وائس چیئرمین دلجیت سنگھ چب ، کمشنر سیکرٹری خورشید احمد شاہ اور کئی دیگر افسران بھی موجود تھے۔تقریب کے دوران وزراء نے نمائش کا بھی افتتاح کیا جس دوران مختلف محکموں نے پھولبانی سے متعلق اپنے سٹال قائم کئے تھے۔جاوید مصطفی میر نے اس موقعہ پر کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں پھولبانی کے کافی وسائل موجود ہیں اور حکومت ان تمام وسائل کو بروئے کار لا کر روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے لئے جامع کوششیں کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے پارکوں کو بڑھاوا دینے کے لئے کئی اختراعی پروجیکٹ شروع کئے ہیں۔انہوں نے کسانوں سے کہا کہ وہ پھولبانی کو بطور پیشہ اختیار کریں۔پریا سیٹھی نے اس موقعہ پرکہا کہ فلوری کلچر پالیسی اپنانے اور اس صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس سے مزید فائدہ بخش بنایا جاسکے۔انہوں نے ماہرین سے کہا کہ کسانوں کو مرکزی معاونت والی سکیموں سے روشناس کریں اور وقتاً فوقتاً ان کی رہنمائی بھی کریں۔بعدمیں وزراء نے ایک ریفریجریٹیڈ گاڑی کو جھنڈی دکھا کرڈوڈہ کے لئے روانہ کیاجس سے خطے میں پھولوں کی نقل و حمل کے لئے استعما ل میں لایا جائے گا۔
موجودہ حکومت کی پالیسیاں عوام کش:اخترچوہدری
جموں//گوجر بکروال اصلاحی کمیٹی نے حکومت کی پالیسیوں کوعوام کش قراردیتے ہوئے تین سالہ کارکردگی کوصفرقراردیاہے۔یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق گوجربکروال اصلاحی کمیٹی کے عہدیداران کاایک اجلاس منعقدہواجس میں حکومت کوپالیسیوں کی نکتہ چینی کی گئی۔اس موقعہ پرچودھری اختر نے کہاکہ موجودہ حکومت اپنی تین سالوں کی ناکامیوں کوچھپانے کیلئے لوگوں کوفرقہ ورانہ خطوط پرتقسیم کرنے کی پالیسی پرعمل پیراہے۔انہوںنے کہا ہے کہ کٹھوعہ میں آصفہ بانو عصمت دری و قتل معاملہ،نوشہرہ سندر بنی ضلع کی مانگ، تمام ترقیاتی پروجیکٹ فندز نا مہیا کرانے سے رُک چکے ہیں۔ کشمیر میں تین سالوں سے حالات ناساز، سرحدوں پر خلل گولہ باری سے لوگ پریشان ہیں، لوگوں کو موجودہ حکومت تباہی و بربادی کی طرف دھکیل چکی ہے۔ چودری اختر نے کہا ہے نا تجربہ کار اور اور فرقہ پرست ذہن رکھنے والوں کو اقتدار پر بٹھانے سے ریاست بھر میں حالات بد سے بدتر ہو چکے ہیں۔ کشمیر کو جموں کے خلاف ہندو کو مسلمانوں کے خلاف نوشہرہ سندر بنی کو کالاکوٹ کے خلاف کشتواڑ ڈوڈہ کو جموں کے خلاف بھڑکایا جا رہا ہے۔نفرت وسیاست کو رنگوں کی سازش کی تیاریوں میں دھیان جٹایا جا رہا ہے ملازم کئی کئی سالوں سے تنخواہوں کے بغیر مظاہروں کے شہر میں تبدیل ہو کر رہ گئے ہیں۔انہوں نے مسلمانوں کو حراسا ںںکیا جا رہا ہے۔کٹھوعہ کے آصفہ بانو عصمت دری اورقتل کیس ایک سازش تھی جس سے بھاجپا ایم ایل اے و وزیر بے نقاب ہو چکے ہیں اور سرکار کی مجرمانہ خاموشی عیاں ہو چکی ہے۔ جموں میں ہر مقام پر سازشیں ظاہر ہو رہی ہیں۔ چوہدری اختر نے ریاستی گورنر این این ووہرہ سے اپیل کی ہے کہ موجودہ حکومت کو فوراً برخواست کر دیا جائے تاکہ پر سکون ماحول قائم کیا جا سکے۔ میٹنگ میں چوہدری اختر حسین، بشیر احمد لون، چوہدری شوکت علی محمد فشا کھٹانہ وغیرہ موجود تھے۔
نگروٹہ اسمبلی حلقے میں ڈگری کالج کے قیام کامطالبہ
جموں//جموں و کشمیر صاف ستھرہ مومنٹ کے صدر چوہدری شوکت نے نگروٹہ میں ایک روزہ اجلاس کی صدارت کی۔انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ نگروٹہ میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کے لئے نگروٹہ اسمبلی حلقہ میں ایک ڈگری کالج کھولا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نگروٹہ قصبہ کی آبادی پانچ لاکھ کے قریب ہے یہاں کے بچوں کو جموں یا ادھمپور کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ نگروٹہ میں کالج کھلنے سے نگروٹہ کے مختلف دیہات جن میںجگٹی کالونی، جگٹی ٹاون ،کیمنی، خانپور،ڈھوک وزیراں، کٹل یٹال،ہیری،پنجگرین،دھومنی،چھپہ،پنگالی،مڑھ،گنڈلا،کال گراں،جھڑتا،ججھرکوٹلی،بجالتہ،سدھڑا،رنگوڑا،کنا چھڑکال،اہتھم،سرونی سر،ڈہنسال،سمبل لہڑھ وغیرہ کے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ چوہدری شوکت نے وزیراعلیٰ اوروزیر تعلیم سے پرزور اپیل کی ہے کہ علاقہ میںڈگری کالج کھلنے کی دیرانہ مانگ کو پورا کیا جائے۔