نئی دہلی//قبائلی امور کے وزیر چوہدری ذوالفقار علی نے کل مرکزی وزیر برائے قبائلی امور سے ملاقات کی اور انہیں ریاستی قبائلی قوم سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا جن میں تعلیمی سہولیات سرفہرست تھیں۔وزیر نے کہا کہ ریاستی قبائل جموں وکشمیر کی کُل آبادی کا12 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے پہلے ہی شیڈول ٹرائب طبقے کی بہبودی کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں لیکن وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے ابھی تک بہتر نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائلی آبادی کو پینے کے صاف پانی، بجلی، تعلیمی سہولیات اور طبی نگہداشت جیسی سہولیات پوری طرح دستیاب نہیں ہیں اس لئے مرکزی حکومت کی فوری مداخلت کی اشد ضرورت ہے تا کہ تمام بنیادی سہولیات اس طبقے کو فراہم کی جاسکیں۔چوہدری ذوالفقار علی نے کہا کہ قبائلی آبادی ریاست کے تینوں خطوں میں بکھری پڑی ہے۔ اس لئے اُن کے لئے ریاست کے ہر خطے میں سینٹر آف ایکسی لینس قائم کرنے کی اہم ضرورت ہے تا کہ اس آبادی کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جاسکے۔ذوالفقار نے ریاست کے ہر ضلع میں وکیشنل ٹریننگ سینٹر قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔