جموں//راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے میانمار اور بنگلہ دیش سے یہاں جموں میں آئے ہوئے مہا جرین کوریاست سے باہر نکالنے کرنے کی مانگ کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں ان کی موجودگی ملک کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔آر ایس ایس پرانت سنگھ چالک برگیڈئر (رٹائرڈ)سوچیت سنگھ نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم انہیں بنگلہ دیشی یا روہنگیائی نہیں بلکہ غیر ملکی مانتے ہیں اور وہ ملک میں غیر قانونی طور سے داخل ہوئے ہیں۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی اور مرکزی سرکاریں ان کی نشاندہی کریں اور انہیں ملک سے نکال باہر کرے۔ماضی میں مرکز میں یو پی اے سرکار اور ریاست میں نیشنل کانفرنس ۔ کانگریس کی مخلوط سرکار کی نکتہ چینی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہی سرکاریں جموں میں ان لوگوں کو بسانے کی ذمہ دار ہیںاور ان کو یہاں بسانے کے درپردہ کیا عوامل کار فرما تھے یہ وہی بہتر جانتے ہیں مگر ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی موجودگی ریاست اور ملک کی حفاظت کے لئے خطرہ ہے۔دایچی نے کہا کہ ریاست میں ہماری تقریباََ 300شاخیں ہیں اور اب ہم وادی کشمیر میں شاخیں کھولنے کے دن کا انتظار کررہے ہیںاور ہم اس دن کا بھی انتظار کررہے ہیں جب وادی کشمیر کے لوگ آگے آئیں گے اور شاخوں کا قیام عمل میں لائیں گے۔اور ہمیں امید ہے کہ وہ دن جلد آئے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم وادی کشمیر میں بہت جلد امن کی بحالی کے متمنی ہیں۔دایچی نے کہا کہ آر ایس ایس پروپیگنڈہ میں نہیں بلکہ عمل میں یقین رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم وادی کشمیر میں ہم خیال لوگوں کے ساتھ رابطے میں ہیں مگر وہاں پر جابھی تک کوئی شاخ نہیں ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ نیشنل بلڈنگ کام 277شاخوں کے ذریعہ انجام دیا جارہا ہے جو کہ زیادہ تر جموں خطہ میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ لداخ میں ہماری شاخیں کام کرہی ہیں اور اس سال 666نوجوانوں نے تنظیم میں شمولیت اختیار کی ۔اس موقعہ پر بااتفاق رائے سے ایک قرار داد پیش کی گئی جس میں بھارتیہ زبانوں کو فروغ اور تحفظ دینے کا عہد کیا گیا ۔