جموں//امدادِ باہمی اور امورِ لداخ کے وزیر چیرنگ دورجے نے کہا کہ تین سینٹرل کوآپریٹیو بینکوںجو ابھی تک لائسنس کے بغیر کام کر رہے ہیں، کی کاکردگی کو بہتر بنانے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرس میں ماہرین کو لایا جائے گا۔اس قدم سے ان بینکوں کو مزید استحکام حاصل ہوگا اور یہ بینک باضابطہ دیگر بینکوں کی طرح اپنا کام کاج انجام دینے لگیں گے ۔ اِن باتوں کا اِظہار وزیر نے اننت ناگ سینٹرل کواپریٹیو بینک ، بارہمولہ سینٹرل کواپریٹیو بینک اور جموں سینٹرل کواپریٹیو بینک جو ابھی تک لائسنس کے بغیر کام کر رہے ہیں کی نو سرمایہ کاری کے لئے ایک شراکت داروں کی میٹنگ کی صدارت کے دوران کیا۔ میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ کوآپریٹیو بینکوں کے ایم اے پیز کے مطابق 366.71کروڑ روپے ان بینکوں کی بازسرمایہ کاری کے لئے ضرورت ہے جن میں سے 255.51کرو ڑروپے بطور سٹیٹ شیئر اور 111.20 کروڑ ورپے حکومت ہند شیئر ہوگا ۔میٹنگ میں بتایاگیا کہ ریاستی حکومت نے سٹیٹ شیئر کی واگزاری پہلے ہی انجام دی ہے اور یہ رقم اس وقت امداد باہمی محکمہ کے پاس موجود ہے ۔میٹنگ میں ان بینکوں کی اضافی رقومات کی ضروریات کے بارے میں بھی جانکاری دی گئی ۔شراکت داروں سے خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ نو سرمایہ کاری کی بدولت سینٹر ل کوآپریٹیو بینکوں کو ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے لائسنس کی حصولی کی بدولت سدھار آئے گا۔وزیر نے مزید کہاکہ بورڈ آف ڈائریکٹر س میں پروفیشنلوں کو لانا بہت ضروری ہے کیونکہ ان کو ممبران کے طور پر بورڈ میں لینے کی بدولت ان بینکوں کی کارکردگی میں استحکام لایا جاسکتا ہے۔