جموں//جموں میونسپل کارپوریشن کے وارڈ نمبر71میں سڑکوں کی حالت اس قدر ابتر ہو چکی ہے کی ان پر عوام اور گاڑیوں کا چلنا دشوار بن گیا ہے ان اندرونی سڑکوں کی حالت کو بہتر بنانے کے لئے میونسپل کارپوریشن کے حکام سے بار ہا استدعا کی گئی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی جس کے نتیجہ میں ان سڑکوں کی حالت جوں کی توں بنی ہوئی ہے اور عوام کو آنے جانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اب تو ایک ہی راستہ رہ گیا ہے اور وہ ہے احتجاج اور مظاہروں کا ، اس علاقہ کی سڑکوں کی حالت قابل رحم ہے ، تار کول تو دور کی بات ہے ، جگہ جگہ کھڈے پڑے ہوئے ہیں ، بارش کے موسم میں ان سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے چلنا دشوار بن جاتا ہے ، سکولی بچوں اور خواتین کے لئے تو اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔حالانکہ اس کے ساتھ ہی واقع توی وہار کالونی میں سڑکیں شیشے کی طرح صاف و شفاف ہیں اور دن میں صبح و شام صفائی ہوتی ہے ، وہ اس لئے کہ اس کالونی میں ان سروس اور ریٹائرڈ اعلیٰ سرکاری آفیسر وں کی کوٹھیاں ہیں حالانکہ یہ کالونی بھی وارڈ نمبر 71میں ہی آتی ہے مگر فرق اتنا ہے کہ اس کالونی میں اثر و رسوخ والے لوگ رہائش پذیر ہیں اور کالونی کے باہر اس وارڈ کے لوگوں کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی کیونکہ یہ لوگ درمیانہ درجے کے اور غریب ہیں ۔ کالونی باہر والے علاقوں میں نہ صحت و صفائی کا کوئی انتظام ہے ، نہ ہی پینے کے پانی کی سپلائی کا کوئی شیڈول ہے ، سوچھ بھارت ابھیان کے دوران بھی عید گاہ روڈ ،نکی محلہ اور دیگر محلوں میں کوئی بھی صفائی اہلکار نہیں آیا ۔ اندرونی سڑکیں اور گلیاں و نالیا ں کوڑا کرکٹ سے بھر ی پڑی ہیں ، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، بدبو کا یہ عالم ہے کہ راہ گیروں کو ناک منہہ ڈھانک کر گزرنا پڑتا ہے اس علاقہ کے عوام کا کہنا ہے کہ صحت و صفائی سے متعلق ریاستی و مرکزی حکومتوں کی جانب سے کتنے پروگرام شروع کئے گئے مگر اس علاقہ میں نہ تو کوئی صفائی والا آیا اور نہ ہی کوئی افسر جس کے نتیجہ میں یہ علاقہ جموں میونسپل کارپوریشن کے تحت ہوتے ہوئے بھی ایک پسماندہ اور پچھڑے ہوئے گائوں سے بھی بد تر حالت میں ہے نہ پانی سپلائی کا کوئی شیڈول ہے، نہ بجلی کے آنے اور جانے کا کوئی ٹائم ٹیبل ہے، سڑکوں کی حالت قابل رحم ہے۔