جموں //ریاست میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کی سب سے بڑی وجہ ریاست میں خواتین پولیس عملہ کی کمی ہے ۔اس ضمن میں پولیس کے ایک سینئر آفیسر نے کشمیر اعظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ 2015میں خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پر قابو پانے کے لئے مرکزی وزیرداخلہ امورراجناتھ سنگھ نے ریاست جموں و کشمیر کے لئے 15خواتین پولیس چوکیاں تعینات کرنے کی منظوری دی تھیں لیکن ابھی تک اس نوعیت کا ایک بھی یونٹ ریاست میں قائم نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس عملہ میں خواتین انسپکٹر اور سب انسپکٹر سطح کے آفسران کی از حد قلت ہے اس لئے ڈی جی پی اور وزیر اعلیٰ کو کم سے کم ریاست میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کی طرف بھی نظرثانی کرنی چاہیئے۔ان مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئے پولیس محکمہ نے 2017 میں آرمڈ، اگزیکٹیو اور ٹیلی کمیونی کیشن ونگ میں 700 مرد و خواتین سب انسپکٹر اسامیوں کے لئے درخواستیں طلب کی تھی لیکن ابھی تک ان کا تحریری امتحان نہیں لیا گیاہے جو قابل تشویش ہے جنوری 2015میں مرکزی وزیرداخلہ امور نے ریاست کے وزیر اعلیٰ کو خط بھی لکھا تھا کہ آپ محکمہ میں اور بھرتی عمل تیز کریں اورریاستی سرکار نے اس کے لئے پروپوزل بنا کر مرکزی سرکار کو بھیج تو دیا لیکن ابھی تک جموں کشمیر کے لوگ اس کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔