جموں//ڈوگرہ فرنٹ اور شو سینا کے ورکروں کی ایک میٹنگ اشوک گپتا کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔ اس دوران بتایا گیا کہ چینی کی خرید داری میں بڑے پیمانے پر گھپلہ کیا گیا ہے ، حالانکہ مرکزی سرکار نے چینی کی خرید داری کے لئے ریاستی سرکار کو مناسب رقومات فراہم کی تھیں مگر دیہی علاقوں میں گذشتہ تین سال سے عوام چینی کے حصول کے لئے ترس رہے ہیں ۔ ڈوگرہ فرنٹ اور شو سینا کے ورکروں نے زبردست احتجاج کیا اور ’’چینی دو آٹا دو ‘‘کے نعرے بلند کئے ۔ اشوک گپتا نے کہا کہ ریاست میں تقریباََ سارے ڈپو راشن سے خالی پڑے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک وائٹ پیپر جاری کرنیکی مانگ کی تاکہ پتہ چل سکے کہ اگر مرکزی سرکار نے ریاست کو آٹا ، چاول اور چینی کی خرید کے لئے مناسب رقومات فراہم کی تھیں تو پھر یہ اشیأ کیوں نہیں خریدی گئی اور مرکز سے حاصل کی گئی رقومات کہاں گئی ۔