حیدرآباد //جنوبی ہندوستان کی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں واقع مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت نے غیرمعمولی اقدام اٹھاتے ہوئے ماس کمیونی کیشن اینڈ جرنلزم میں تین سالہ گریجویشن کورس بھی شروع کردیا ہے جس میں داخلہ کا عمل جاری ہے۔ اپنی نوعیت کے اس منفرد شعبہ میں دو سالہ پوسٹ گریجویٹ کورس سال 2004 ء سے چلایا جارہاہے اور تب سے لیکر اب تک اس شعبہ کے سینکڑوں فارغین ملک کے مختلف معروف میڈیا اداروں سے منسلک ہوچکے ہیں۔ اس شعبہ نے چند برس قبل ماس کیمونی کیشن اینڈ جرنلزم میں پی ایچ ڈی پروگرام بھی شروع کیا جس کو پوسٹ گریجویٹ کورس کی طرح بڑی کامیابی کے ساتھ چلایا جارہا ہے۔ بتادیں کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی جو کہ ایک سنٹرل یونیورسٹی ہے، کے انفراسٹرکچر کا شمار ملک کی سرکردہ جامعیات میں ہوتا ہے۔ شعبہ ماس کیمونی کیشن و جرنلزم کے ڈین و صدر پروفیسر احتشام احمد خان نے بتایا کہ شعبہ کے 90 فیصد فارغین ملک کے مختلف معروف میڈیا اداروں سے منسلک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا ’ہم نے اردد لکھنے اور پڑھنے والے طالب علموں کی بارہویں جماعت کے بعد ہی ماس کیمونی کیشن اینڈ جرنلزم کی تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی کو مدنظر رکھ کر اس سال (تعلیمی سال 2018-19 ) سے تین سالہ بی اے (آنرس) ترسیل عامہ و صحافت شروع کردیا ہے ‘۔ انہوں نے بتایا ’اس انڈر گریجویٹ کورس میں نشستوں کی تعداد 30 ہے جبکہ خواہشمند طالب علموں کا کسی بھی بورڈیا ادارے یا مدرسے 40 فیصد نمبروں کے ساتھ بارہویں جماعت یا مماثل میں کامیاب ہونالازمی ہے‘۔ پروفیسر احتشام نے بتایا کہ داخلے کے لئے آن لائن درخواست دینے کی آخری تاریخ9جولائی 2018مقرر گئی ہے۔ یونیورسٹی میں ہوسٹل کی محدود گنجائش فراہم ہے تاہم داخلہ پانے والی تمام طالبات کو ہوسٹل کی سہولیت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پوسٹ گریجویشن اور پی ایچ ڈی کورس میں داخلے کے خواہشمند امیدوار نشستوں کی تعداد اور درکار اہلیت کے لئے یونیورسٹی کی ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ پروفیسر احتشام خان نے بتایا کہ شعبہ میں ایسے تجربہ اساتذہ موجود ہیں، جو میڈیا کے وسیع تجربے اور دلچسپیوں کے حامل ہیں۔ انہوں نے بتایا ’اردو یونیورسٹی کا شعبہ ترسیل عامہ و صحافت سال 2004 میں پوسٹ گریجویٹ کورس کے ساتھ قائم ہوا۔ شعبے میں پرنٹ میڈیا، ٹی وی، ریڈیو اور آن لائن صحافت کے لئے انتہائی عصری آلات سے لیس تجربہ گاہیں ہیں‘۔ سینئر صحافی اور بی بی سی کے سابق صحافی ستیش جیکب کا کہنا ہے کہ اردو یونیورسٹی کا شعبہ ترسیل عامہ وصحافت طلباء وطالبات کے لئے میڈیا کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک غیرمعمولی جگہ ہے۔ انہوں نے بتایا ’اردو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے انفراسٹرکچراور فیکلٹی کے علاوہ اس کے کیمپس کا ماحول مجھے بہت پسند آیا۔ طلباء وطالبات کے لئے میڈیا کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے یہ ایک غیرمعمولی جگہ ہے‘۔ صحافی اور شعبہ کے ایک فارغ التحصیل طالب علم رضوان شفیع وانی کا کہنا ہے ’یوں تو ہندوستان میں انگریزی ، ہندی اور دیگر زبانوں کے کئی میڈیا انسٹی ٹیوٹ ہیں۔ لیکن اردو یونیورسٹی کاماس کیمونی کیشن ڈیپارٹمنٹ اپنے بہترین انفرا سٹرکچر ،سٹینڈرڈ کلاس رومز ، خوبصورت سمینار ہال ،جدید لیب ، بہترین اسٹوڈیو اورپروفیشنل ٹی وی پروڈکشن سیٹ اپ کے لیے پورے ہندوستان میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے‘۔ جرنلزم کا یہ شعبہ اپنے اسٹوڈنٹس کی پریکٹیکل تربیت پر خاص توجہ دیتا ہے۔ ماہر اساتذہ طلباء کی صلاحیت اور پرسنالٹی کو نکھارتے ، سنوارتے اور تراشتے میں نمایاں کردار انجام دیتے ہیں۔ انہیں جدید پروفیشنل کیمرہ کے استعمال اور ویڈیو پروڈکشن کی باریکیاں سیکھاتے ہیں۔ اور ساتھ ہی طلباء نیوز ریڈنگ اور اینکرنگ کی عملی پریکٹس بھی کرتے ہیں۔ اور ٹی وی پروگرامز ، ایڈور ٹائزنگ اورٹیلی فلم بناناسیکھتے ہیں۔ شعبہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کررہی ایک طالبہ فوزیہ آفاق جو کہ اسی شعبہ سے ایم اے کی ڈگری میں نمایاں نمبرات حاصل کرنے پر گولڈ میڈل بھی حاصل کرچکی ہیں، کا شعبہ کے بارے میں کہنا ہے ’یہاں پر جتنے بھی اساتذہ ہیں وہ بہت ہی محنتی اور ملنسار ہیں۔ وہ ہر ایک طالب علم کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں‘۔ ویڈیو پرو ڈکشن کے علاوہ طلباء کوپرنٹ میڈیا کی بھی عملی مشق کرائی جاتی ہے۔ اس کے لیے طلباء ذاتی طور پر ایک کثیر لسانی لیب جرنل نکالتے ہیں، جس کا لے آوٹ ڈیزائن اور مواد اوہ خود تیار کرتے ہیں۔ طلباء کی بہتر سے بہترتربیت کے لیے میڈیا کے میدان سے نامور شخصیتوں کے گیسٹ لکچر ز کا اہتمام کیا جاتاہے۔ اس کے علاوہ ہر سمسٹر میں ایک تین روزہ یا پانچ روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس میں پرنٹ میڈیا ،ریڈیوپروڈکشن ، ٹی وی پروڈکشن ایڈور ٹائزنگ اور پبلک ریلیشن کے میدان کے ماہرین طلبا کو میڈیا کے عصر حاضر کے پروفیشنل ماحول سے اور ماس میڈیا کی باریکیوں سے ہم آہنگ کراتے ہیں۔ ایسو سی ایٹ پروفیسر محمد مصطفی علی سروری شعبہ میں طلباء کے لیے موجود سہولیات کے بارے میں کہتے ہیں ’اردو میں تعلیم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہاں کے طلباء یا یہاں کا انفرا سٹرکچر کسی بھی لحاظ سے کسی دوسری یونیورسٹی سے کم ہے۔ بلکہ میں یہ بات بغیر کسی مبالغہ کے کہنا چاہوں گا کہ اس یونیورسٹی میں جو انفراسٹرکچر ہے، وہ کئی ایک اسٹیٹ یونیورسٹیز کے پاس بھی موجود نہیں ہے‘۔ اس خاص تربیت کا ہی نتیجہ ہے کہ اردو میڈیم سے ایم اے ماس کمو نی کیشن اینڈ جرنلزم کا کورس کرنے والے یہاں کے اسٹوڈنٹس ملک کے دوسرے نامور میڈیا انسٹی ٹیوٹس کے طلباء سے کسی بھی سطح پر کم نہیں ہیں۔ ان کے اندر وہی جوش ، جذ بہ اور امنگ موجود ہے جو دوسروںمیں ہے۔ اور اس کا عملی ثبوت وہ ملک بھر میں اپنی صلاحیتوں سے دے رہے ہیں۔ وہ نہ صرف اردو میڈیا میں بلکہ دیگر زبان کے میڈیا اداروں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوارہے ہیں۔ اس حوالے سے ڈین و صدر شعبہ پروفیسر احتشام احمد خان کہتے ہیں ’ذریعہ تعلیم اردو ہونے کے باوجود ہمارے شعبہ کے بیشتر فارغین کا تقرر مین اسٹریم میڈیا میں ہوا ہے‘۔ یہاں کے کچھ طلبا نے انڈین انفارمیشن سروس کے امتحان میں بھی کامیابی درج کی ہے اور اس وقت وہ حکومت ہند کے میڈیا اداروں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ پروفیسر احتشام کہتے ہیں ’اگر کوئی طالب علم ماس کیمونی کیشن کورس کا انتخاب کرتا ہے تو اُس کے لئے میڈیا کے وسیع فیلڈ میں روزگار کے بہت سارے مواقع موجود ہیں۔ وہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، ریڈیو پروڈکشن، ویب جرنلزم، گرافکس اینڈ اینی میشن ، ڈاکیومنٹری میکنگ، ویڈیو پروڈکشن یا پبلک رلیشنز کے فیلڈ میں اپنا لوہا منوا سکتا ہے‘۔ اس شعبہ کے فارغین کی ایک اچھی خاصی تعداد جنہوں نے یو جی سی ( یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ) کے جے آر ایف ، نیٹ امتحان اور ریاستی سطح کے سیٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے، ملک کے مختلف یو نیورسٹیوں (جامعات )میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کچھ طلباء تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس شعبہ کے ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد فریاد کا کہنا ہے ’ہمارے فارغین نے تحقیق کے شعبہ میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے۔ متعددطلباء ملک کی مختلف یونیوسٹیوں سے اپنی ریسرچ ڈگریاں مکمل کرچکے ہیں، جبکہ ایک اچھی خاصی تعداد ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگریاں کررہے ہیں‘۔ ریڈیو سے دلچسپی رکھنے والے طلباء ریڈیو ٹاک اور ریڈیو جاکی کے گن سیکھتے ہیں۔ شعبہ کے اسسٹنٹ پروفیسر سید حسین عباس رضوی جو طلباء کو ریڈیو جرنلزم پڑھاتے ہیں، کا کہنا ہے ’ہم طلباء کو وائس ماڈیولیشن کے ساتھ ساتھ الفاظ کا صحیح تلفظ بھی سکھا تے ہیں۔ ہمارے طلباء کو ریڈیو جرنلزم کے شعبے میں روزگار بھی مل رہا ہے۔ ہمارے شعبے کے فارغین ریڈیو اسٹیشنوں بالخصوص ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں میں بحیثیت ریڈیو جاکیز کام کررہے ہیں۔ ان میں سے بعض ریڈیو اسٹیشنوں میں اسکرپٹ لکھ رہے ہیں اور بعض ریڈیو کے تکنیکی فیلڈ میں اپنا لوہا منوا رہے ہیں‘۔ موجودہ زمانے میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے انقلاب کی وجہ سے میڈیا انڈسٹری میں جس طرح سے بوم آیا ہے۔ اس کے نتیجے میںآئے دن نئے نئے ٹی وی چینلس، ایف ایم ریڈیو اسٹیشن ، ویب پورٹلس سامنے آرہے ہیں۔اور مستقبل میں اس میں مزید اضافہ کے آثار ہیں۔ اس لیے اس میدان میں دن بدن روزگار کے مواقع بڑھتے جارہے ہیں۔ ٹی وی پروڈکشن کے میدان میں نیوز ریڈر ، فیلڈ رپور ٹر ،اینکر، کاپی ایڈیٹر ، پینل پرو ڈیو سر ، اسکرپٹ رائٹر پرو ڈیوسرڈائرکٹر ، کیمرہ مین ، ویڈیو ایڈیٹر ، ٹی وی سریلس پروڈکشن میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر ، اسکرپٹ نگار، ایف ایم ریڈیو میں ریڈیو جاکی، اسٹیشن منیجر ، ریڈیو ٹاکر کی جاب، پرنٹ میڈیا میں انڈسٹری میں بھی رپورٹر ، کاپی ایڈیٹر ، سب ایڈیٹر ، نیوذ ڈسک ایڈیٹر ، کھیل رپورٹر ، جیسے میڈیا جاب کے بے شمار مواقع ہیں۔ موجودہ دور میں پبلک ریلیشن پروفیشن کے رجحان نے بھی روزگار کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ آ ج کے زمانے میں پبلک کو جوابدہی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تجارت اور سیاسست کے میدان میں بہتر مقام بنانے میں پبلک ریلیشن آفیسر اور پبلک اسپوک پرسن کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد فریاد شعبے کے فارغین کی پبلک رلیشن کے فیلڈ میں کامیابیوں کے بارے میں بتاتے ہیں ’پبلک رلیشن کی اگر ہم بات کریں تو اس شعبے کے بہت سارے فارغین اس سیکٹر میں کام کررہے ہیں۔ خاص طور پر انڈین انفارمیشن سروس جو کہ قومی سطح کا امتحان ہوتا ہے، ہمارے دو فارغین نے وہ امتحان پاس کیا ہے۔ اور وہ حکومتی پی آر سیکٹر میں کام کررہے ہیں۔ اسی طرح کچھ فارغین ایسے ہیں جو ریاستی سطح کی پی آر ایجنسیز میں کام کررہے ہیں‘۔ اس لیے مو جودہ دور میں والے وقت میں پبلک ریلیشن آفیسر کی بہت زیادہ مانگ ہے اورماس کمونی کیشن کے فارغین کے لیے اس میدان میں روزگار کے بہتر مواقع موجود ہیں۔ یو این آئی