راجوری //حکومت کی طرف سے نظرانداز کردیئے جانے کے بعد سرنکوٹ کے پسماندہ گائوں سنئی کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سڑک کی تعمیر کاکام شروع تو کردیاتاہم مالی مشکلات کے سبب یہ مکمل ہونے کانام نہیں لے رہا ۔مقامی لوگوںنے اپنی روداد کشمیرعظمیٰ سے بیان کرتے ہوئے کہاکہ جب کسی طرف سے انہیں مدد نہیں ملی تو انہوں نے اپنی مددآپ کے تحت سڑک کی تعمیر کاکام شروع کیا ۔ان کاکہناہے کہ حکومت نے سنئی سے شاہستار کیلئے ایک سڑک کی تعمیر کاکام برسوں قبل شروع تو کیاتھاتاہم وہ اب تک مکمل نہیں ہوا اور ساتھ ہی دیگر محلوں کیلئے لنک سڑکوںسے نہیں جوڑاگیا ۔ڈھنڈ سیداں اور گیدر کے لوگوں کاکہناہے کہ پچھلے پانچ سے چھ سال کے دوران انہوںنے رابطہ سڑک کی تعمیر کیلئے ہر ایک دروازے کو دستک دی تاہم حکام کی طرف سے کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ایک نوجوان طاہر کاظمی نے بتایاکہ جب ان کی مانگ پر کسی نے دھیان نہیں دیاتو لوگوںنے خود ہی سڑک تعمیر کرنے کافیصلہ لیا ۔ایک اور شہری تصور حسین شاہ کاکہناہے کہ کسی بھی طرف سے کوئی مدد نہ ملنے پر چند ماہ قبل لوگوںنے چندہ جمع کرکے سڑک کی تعمیر کا فیصلہ لیا اور کام بھی شروع کیاگیا۔ انہوں نے بتایاکہ لوگوںنے ساڑھے چار لاکھ روپے چندہ جمع کرکے سڑک کی تعمیر شروع کی اوراس حوالے سے ایک جے سی بی مشین کرایہ پر لائی گئی لیکن یہ رقم بہت کم ثابت ہوئی اور اب وہ پریشان ہیں کہ کس طرح سے اس سڑک کو مکمل کریں ۔انہوںنے بتایاکہ لوگوںنے یہ فیصلہ بھی لیاکہ وہ رضاکارانہ طور پر سڑک کی تعمیر کے دوران مزدوری کریںگے لیکن پھر بھی مالی مشکلات حائل ہیں۔اصغر حسین کاکہناہے کہ ان کی طرح دیگر کئی لوگ رضاکارانہ طور پر کام کررہے ہیں ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ کسی بھی سرکار ی سڑک کی تعمیر کے دوران اس کی زد میں آنے والی اراضی کا معاوضہ دیاجاتاہے تاہم ان کیلئے معاوضہ تو دور کی بات ،اس کام کو مکمل کرنا بھی مشکل بن گیاہے ۔ان کاکہناہے کہ ان کی زمینیں بھی ا س سڑک کی زد میں آئی ہیں اور ایک غریب شخص روایت حسین نے سب سے زیادہ زمین سڑک کیلئے دی ہے ۔ان کاکہناہے کہ حکومت کو ایسے دور دراز علاقوں کو نظرانداز نہیں رکھناچاہئے اور لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ اب یہ سڑک مالی مشکلات کی وجہ سے پریشانی بنی ہوئی ہے اور مقامی آبادی اس بات پر پریشان ہے کہ کس طرح سے اس کی تکمیل کی جائے ۔انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ انتظامیہ اس حوالے سے باخبر نہیں لیکن اگر ایسا ہواہے تو اس علاقے کے لوگوںنے ایک مثال قائم کی ہے ۔