جموں //وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے عمل آوری ایجنسیوں پر زور دیا ہے کہ وہ پروجیکٹوں کے حوالے سے وقت کے تعین پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے اس حوالے سے وسائل کو متحرک کرنے کے لئے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت دی۔وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار یہاں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران کلیدی نوعیت کے پروجیکٹوں کا جائیزہ لینے کے دوران کیا۔ ان پروجیکٹوں میں بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹ، بجلی، پانی، سیوریج، صحت اور دیگر شعبے شامل ہیں۔نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا بھی میٹنگ میں موجود تھے۔وزیر اعلیٰ نے وجے پور میں1381 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہورہے ایمز پروجیکٹ کا جائیزہ لیا۔ انہیں جانکاری دی گئی کہ دیوک دریا پر سیلاب سے تحفظ دینے کے کام کے علاوہ ایمز کے لئے4 گلیاروں والی سڑک تعمیر کرنے اور پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے کا کام جاری ہے اور ان پر57 کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔جموں رِنگ روڈ پروجیکٹ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کو جانکاری دی گئی کہ1891 کروڑ روپے لاگت والا یہ پروجیکٹ رائے موڑ سے شروع ہوکر نگروٹہ بائی پاس پر اختتام پذیر ہوگا۔ انہیں بتایا گیا کہ57 کلو میٹر اس پروجیکٹ کے لئے6057 کنال اراضی درکار ہے جس میں سے5958 کنال اراضی عمل آوری ایجنسی کو سونپی گئی ہے اور4 ہزار کنال اراضی پر کام شروع کیا گیا ہے۔چار گلیاروں والی جموں۔ اکھنور سڑک کے بارے میں وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ804 کروڑ روپے لاگت والے اس پروجیکٹ کے لئے1534 کنال اراضی درکار ہے اس میں سے1450 کنال اراضی حاصل کی گئی ہے اور اسے عمل آوری ایجنسی کو سونپا گیا ہے جب کہ اس پروجیکٹ کے لئے ٹینڈر جاری کئے گئے ہیں۔انہیں بتایا گیا کہ پروجیکٹ پر کام اگلے ماہ شروع ہونے کی توقع ہے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ کوٹ بھلوال اور گنگیال میں43/43 کروڑ روپے کی لاگت سے50 بستروں پر مشتمل دو ہسپتال تعمیر کئے جارہے ہیں اوران میں سے گنگیال ہسپتال اس سال جولائی ماہ تک چالو ہونے کی اُمید ہے جبکہ کوٹ بھلوال ہسپتال پر کام50 فیصد مکمل کیا گیا ہے۔جموں میں150 کروڑ روپے لاگت والے نئے قانون سازیہ کمپلیکس کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کو جانکاری دی گئی کہ اسے اگلے سال جنوری میں مکمل کیا جائے گا۔ اسی طرح گورنمنٹ ڈینٹل کالج جموں کے44 کروڑروپے لاگت والے اضافی بلاک کو اگلے برس ماہ مئی تک مکمل کیا جائے گا۔میٹنگ میں مزید جانکاری دی گئی کہ51 کروڑ روپے لاگت والے ستواری۔ کنجوانی سڑک کا90 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔محبوبہ مفتی کو جانکاری دی گئی کہ شہر کا151 کروڑ روپے لاگت والا سیوریج نیٹ ورک پروجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور توقع ہے کہ یہ اس سال ماہ جولائی تک مکمل کیا جائے گا۔محبوبہ مفتی نے خاص طور سے بجلی اور پینے کے پانی کے پروجیکٹوں میں سرعت لانے کی ضرورت پر زور دیا تا کہ لوگوں کو موسم گرما کے دوران کوئی مشکل پیش نہ آئے۔امرت کا جائیزہ لینے کے دوران وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ27 پروجیکٹ206 کروڑ روپے کی لاگت سے ہاتھ میں لئے گئے ہیں جن کے تحت سبزہ زار قائم کرنا، ڈرنیج، سیوریج اور شہری ٹرانسپورٹ کو مستحکم کرنا شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ کو مزید جانکاری دی گئی کہ24 کروڑ روپے کی لاگت سے شہر میں ٹریفک لائٹنگ نظام نصب کیا جارہا ہے اور یہ کام بھی ماہ جولائی تک مکمل کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے جموں میں آر اے پی ڈی آر پی کی سست وری سے عمل آوری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہوئے سکیم کی موثر عمل آوری کے لئے تمام رکاوٹوں کو دُور کرنے کی ہدایت دی۔622 کروڑ روپے لاگت والے بجلی تعمیرات نو پروجیکٹ کے حوالے سے میٹنگ میں بتایا گیا کہ27 میں سے25 ریسونگ سٹیشنوں میں بہتری لائی گئی ہے،1307 کلو میٹر لمبی ترسیلی لائنوں میں سے995 کلو میٹر لمبی ترسیلی لائین اے بی کیبل سے بدلی گئی ہیں اور27252 میٹروں میں سے 21441 میٹر تبدیل کئے گئے ہیں۔سیاحتی سیکٹر کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کو جانکاری دی گئی کہ سچیت گڑھ پروجیکٹ کا70 فیصد کام مکمل کیا گیا ہے اور اسے مارچ2019 تک مکمل کیا جائے گا۔ اسی طرح400 کروڑ روپے لاگت والے توی ریور فرنٹ پروجیکٹ پر کام شروع ہونے والا ہے اور پہلے مرحلے کے لئے ٹینڈر الاٹ کئے گئے ہیں۔اس موقعہ پر بتایا گیا کہ پروجیکٹ پر کام15 دنوں کے اندر الاٹ کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے چھاپڑی فروشوں کے لئے مقامات کو حتمی شکل دینے کے عمل کا بھی جائیزہ لیا۔ انہوں نے ان مقامات پر بہم کی جارہی بنیادی سہولیات کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی۔ وزیر اعلیٰ نے جے ایم سی کو ہدایت دی کہ وہ مزید40 سیویج کئیریر حاصل کریں اور شہر میں مزید بیت الخلاؤں کی تعمیر کو یقینی بنائیں۔محبوبہ مفتی کو بتایا گیا کہ گذشتہ ایک برس کے دوران شہر کے گلی کوچوں کی بہتری کے لئے15 کروڑ روپے صرف کئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل، ڈویثرنل کمشنر جموں ہمنت شرما، آئی جی پی جموںز ون، ایس ڈی ایس جموال، سیکرٹری سیاحت،تمام محکموں کے سربراہاں، ڈپٹی کمشنر جموں اور صوبائی و ضلع انتظامیہ کے سنیئر افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔