ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں میٹنگ،کام کاج کا تفصیلی جائزہ لیاگیا
راجوری//راجوری میں چھ طبی مراکز عملہ کی عدم دستیابی کے باعث بند پڑے ہوئے ہیں جبکہ ضلع انتظامیہ نے اٹیچ منٹوں پر تعینات ملازمین کو غیر قانونی طور پر غیرحاضر تصور کر کے ان کے خلاف کارروائی کا انتباہ دیاہے۔ڈپٹی کمشنر راجوری ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری جو ضلع ہیلتھ سوسائٹی کے چیئرمین بھی ہیں،نے متعلقہ ضلع افسران کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کرکے ضلع میں محکمہ صحت کے کام کاج کا تفصیل سے جائزہ لیا۔اس موقعہ پر موصوف نے این ٹی پی ایچ سیز کی تعمیر،ہیلتھ سب سنٹروں کی کارکردگی اور عملہ کیلئے کوارٹروں کی دستیابی،مرکزی معاونت والی سکیموں کے تحت ملی حصولیابیوں،میڈیکل سپلائی کی صورتحال اور ضروری ادویات کی دستیابی،عملہ کی پوزیشن،صحت صفائی اور طبی مراکز میں پینے کے پانی کی سہولیات کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں ڈی سی کو بتایاگیاکہ کاندرا،حیات والی،کالاچنگر،نجیری جمولہ،مورتااور چھمبی تراڑ کے سب سنٹرعملے کی عدم دستیابی کے باعث بند پڑے ہیں۔جس پر ڈپٹی کمشنر نے سی ایم او کو ہدایت دی کہ وہ عملہ کا انتظام کرکے ایک ہفتے کے اندر اندر ان مراکز میں کام بحال کروائیں تاکہ دور دراز علاقہ جات کی عوام کو مشکلات کاسامنانہ کرناپڑے۔اس دوران پی ایچ سی،این ٹی پی ایچ سی،ہیلتھ سب سنٹروں اور آئی ایس ایم ڈسپنسریوں کی عمارات کی تعمیر و ضلع و سب ضلع ہسپتالوں میں اضافی بنیادی ڈھانچے کی فراہمی پر تبادلہ خیال ہوااور ساتھ ہی عمارتوں کی مرمت کاجائزہ بھی لیاگیا۔میٹنگ میں یہ فیصلہ لیاگیاکہ پنہڈ کے این ٹی پی ایچ سی کیلئے سی ایم او زمین کے انتخاب کا عمل مکمل کریں گے جبکہ این ٹی پی ایچ سی دداسن بالاکی تکمیل کیلئے دس لاکھ روپے جاری کئے گئے۔اسی طرح سے یہ فیصلہ بھی ہواکہ سی ایچ سی تھنہ منڈی کے اضافی بلاک کی تعمیر کیلئے محکمہ بجلی کھمبوں کو دوسری جگہ منتقل کرے گااورضلع ٹی بی سنٹر کیلئے ڈی پی آر تیار کی جائے گی۔سی ایم او سے کہاگیاکہ وہ ایسی عمارتوں کی تفصیل فراہم کریں جو تکمیل کے نزدیک ہیں تاکہ متعلقہ ایجنسیوں کو کام میں تیزی لاکر اسے مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی جاسکے۔محکمہ کی اراضی پر ناجائز تجاوزات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے بلاک میڈیکل افسران کو ہدایت دی کہ وہ محکمہ مال کے تعاون سے اراضی کی نشاندہی کریں اور ناجائز ہونے والی اراضی کو واپس لیاجائے۔میٹنگ میں ضلع بھر کے طبی مراکز میں عملے اور ایمبولینس گاڑیوں کی قلت پر بھی تبادلہ خیال ہوااوربتایاگیاکہ بہتر میں سے سولہ ایمبولینس خراب حالت کی وجہ سے سڑک پر نہیں چل سکتی۔اس پر سی ایم او کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس سلسلے میں حکام سے رجوع کریں اور عملے کی قلت کا معاملہ بھی حکام بالا سے اٹھایاجائے۔ادویات کی فراہمی و سپلائی کا جائزہ لینے کے دوران یہ فیصلہ لیاگیاکہ ادویات کی خرید ضلع سطح کی خریداری کمیٹی کرے گی تاکہ اس عمل میں یکسانیت رہ سکے۔اس حوالے سے سی ایم او کو ہدایت دی گئی کہ وہ کمیٹی کی وقت بروقت میٹنگ منعقد کرائیں تاکہ دوائیوں کی قلت کا مسئلہ درپیش نہ رہے۔ملازمین کی اٹیچ منٹوں پر تعیناتی کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے میٹنگ میں یہ فیصلہ ہواکہ ضلع یا بیرون ضلع اٹیچ منٹ پر تعینات تمام ملازمین کو غیر قانونی طورپر غیر حاضر تصور کیاجائے گااور ان کی تنخواہیں روک کر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔سی ایم او سے کہاگیاکہ وہ اس بات کا جواب دیں کہ کابینہ حکمنامہ کے باوجود کیوں اٹیچ منٹوں کے احکامات منسوخ نہیں کئے گئے۔اٹیچ منٹوں پر تعینات تمام ملازمین کی تفصیل بھی طلب کی گئی تاکہ ان کے خلاف کارروائی شروع کی جاسکے۔میٹنگ میں سی ایم او ڈاکٹر سریش گپتا،میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹر محمود حسین بجاڑ،ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹر انیس اے نبی،ضلع ٹیوبرکلوسزافسر ڈاکٹر محمد انور،تمام بلاک میڈیکل و کمیونٹی ہیلتھ سنٹر افسران بھی موجو دتھے۔