راجوری//راجوری کے ضلع ہسپتال میں اٹھاون سالہ سوم راج ولد سندر داس بطور سیکورٹی افسر کام کررہاہے جو رات دن ڈیوٹی پر مامور رہ کر دیگر کام کاج کے علاوہ ایمبولینس گاڑیوں کی نقل و حرکت کاکام بھی سنبھالتاہے۔سوم راج دھار سکری کوٹرنکہ کا رہنے والاہے جس نے بعد میں نوشہرہ کے سیری علاقے میں رہائش اختیار کرلی۔ہر ایک کے ساتھ خو ش اخلاقی سے پیش آنے والے سوم راج نے ایک پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسی کے ساتھ کام شروع کیاجس کے بعد اسے ضلع ہسپتال راجوری بھیج دیاگیاجہاں سات سال قبل اسے سیکورٹی افسر بنایاگیااور تب سیلیکر اب تک وہ راجوری ہسپتال جیسے بھاری بوجھ والے طبی ادارے میں فرائض انجام دے رہے ہیں۔سیکورٹی کی ذمہ داری کے علاوہ شرما ایمبولینس کی نقل و حرکت سمیت ہسپتال کے کئی دیگر اہم امور کی دیکھ ریکھ بھی کرتے ہیں۔ہسپتال کے ایک افسر نے بتایاکہ ایمبولینس کی تمام تر نقل و حرکت کی نگرانی شرما کے سپرد ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ ادھیڑ عمر شخص بہت زیادہ محنتی ہے اور وہ رات دن کام کرتاہے۔ہسپتال کے ایمرجنسی ونگ کے ایک ملازم کاکہناتھاکہ اگر رات کے دو بجے بھی ایمبولینس کیلئے فون آئے تووہ فون کال اٹھاکر بغیر کسی تاخیر کے اقدامات کرتاہے۔انہوں نے بتایاکہ ایمبولینس اور دیگر معاملات ہی نہیں بلکہ سوم راج امن و قانون کی صورتحال پید اکرنے والے معاملات میں بھی مداخلت کرکے انہیں احسن طریقہ سے سلجھانے کی صلاحیت رکھتاہے۔ضلع ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کاکہناہے کہ سوم راج ہسپتال کے تمام ملازمین کے بارے میں جانتاہے اور ضرورت کے مطابق حالات سے نمٹتاہے اور اپنے مثبت رویہ کی وجہ سے اسے ہسپتال کیلئے ریڑھ کی ہڈی قراردیاجاسکتاہے۔ایک سینئر ڈاکٹر جو ہسپتال میں میڈیکل سپراٹنڈنٹ کے عہدے پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں،نے کہاکہ سوم راج ہسپتال کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے جو ہسپتال کے نظام سے پوری طرح سے واقف ہے۔انہوں نے کہاکہ اس کی وجہ سے ان کا بوجھ بھی کم ہوجاتاہے۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے خود اٹھاون سالہ سوم راج نے کہاکہ وہ اپنے فرائض کو عبادت جان کر محنت اور لگن سے انجام دینے کی کوشش کرتاہے۔اس کاکہناہے کہ وہ مہینے میں دو یا تین دن چھٹی لیتاہے اور چھٹی والے دن بھی لوگ اسے فون کرکے ایمبولینس کی خدمت کیلئے کہتے ہیں۔