سرنکوٹ//اگرچہ گریف کی طرف سے سرنکوٹ بازار میں سڑک پر کنکریٹ بچھاکر اسے آمدورفت کیلئے بہتر بنایاگیاہے تاہم اس سے آگے کا ہاڑی محلہ سے پوٹھہ بائی پاس تک کا حصہ تباہ و برباد ہوچکاہے جس کی مرمت بھی نہیں کی جارہی ۔سڑک کے اس حصے پر جگہ جگہ کھڈے بن گئے ہیں اور نالیوں کا نام و نشان باقی نہیں رہ گیاجس کے نتیجہ میں اس پر سفر کرنے والوں کو شدید پریشانی کاسامناکرناپڑتاہے اور خاص طور پر مریضوں ،بزرگوں اور حاملہ خواتین کو گاڑی میں بھی سفر کرتے ہوئے دھکے لگتے رہتے ہیں۔مقامی لوگوں کی طرف سے بارہا گریف حکام سے اپیل کی گئی کہ سڑک کے اس حصہ پر بھی تارکول بچھایاجائے یا کنکریٹ کاکام کیاجائے لیکن کئی عرصہ بیت گیاہے اور محکمہ کی طرف سے کام شروع نہیں کیاجارہا۔نالیاں مٹ جانے کی وجہ سے صاف موسم میں سڑک پر گردوغبار ہوتی ہے جبکہ بارشوں کے موسم میں کیچڑلوگوں کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔سڑک کی خراب حالت ٹریفک جام کا باعث بھی بنتی ہے ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ اگر دیکھاجائے تو یہ سڑک گاڑیوں کیلئے نہیں بلکہ گھوڑوں کے چلنے کے قابل بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ صاف موسم میں دھول آسمان میں اڑتی نظر آتی ہے اور یہاں سے گزرنے والے ہر شخص کے کپڑے کسی کام کے نہیں رہتے،اسی طرح سے بارش ہونے پرپھسلن پید اہوجاتاہے جس سے حادثات کا خطرہ لاحق رہتاہے۔مقامی شخص نثار حسین نے کہاکہ نالیاں نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف عام عوام بلکہ پوٹھہ میں قائم فوج کے کیمپ کو بھی نقصان پہنچتاہے اور سارا پانی کیمپ کے اندر داخ ہوجاتاہے ۔ان کاکہناہے کہ کہنے میں تو یہ قومی شاہراہ کا حصہ ہے لیکن اس کی حالت پکڈنڈی جیسی بن گئی ہے جہاں سے گزرنا مشکل بن گیاہے۔سنئی کے ایک نوجوان نے کہاکہ اس سڑک پربنے کھڈوں میں یاترا کے دوران مٹی بھردی جاتی ہے جس کے بعد مڑ کر کوئی نہیں دیکھتا۔انہوں نے کہاکہ سڑک کی خراب حالت پر کوئی بولنے والانہیں اور نہ ہی عوامی نمائندے بات کرنے کو تیار ہیں جس وجہ سے یہ بالکل تباہ ہوگئی ہے۔