سرنکوٹ// پہاڑی زبا ن بولنے والے عوام نے ریاست میں قائم ہونے والی حکومتوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر طفل تسلیوں کا الزام عائد کیاہے۔طبقہ کے لوگوں کاکہناہے کہ ہر ایک حکومت نے پہاڑی عوام کے جذبات سے کھلواڑ کیا اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی گئی ۔ ان کاکہناتھاکہ حکومتوں کی غیر سنجیدگی سے نہ ہی پانچ یا تین فیصد ریزرویشن ملی اور نہ ہی شیڈیول ٹرائب کادرجہ مل سکا۔سرنکوٹ کے اخلاق حسین شاہ نے کہاکہ راجوری پونچھ میں لگ بھگ ستر فیصد آبادی پہاڑی طبقہ پر مشتمل ہے جس کو ریاست کی حکومتوں نے نظرانداز کردیاہے۔انہوں نے کہاکہ ہر ایک الیکشن میں پہاڑی طبقہ کا استحصال ہوا اور پھر حکومت بن جانے کے بعد اسے فراموش کردیاگیا۔ان کاکہناتھاکہ اب پہاڑی طبقہ کو اپنے مستقبل کیلئے سوچناپڑے گا اور طفل تسلیوں پر یقین نہیں کرناچاہئے۔ وہیںتوصیف اعظم صابری نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت نے پہاڑی طبقہ کو پانچ فیصد ریزویشن دینے کا اعلان کیا اور قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں سے اس سلسلے میں بل بھی پاس ہواتاہم گورنر نے اس فائل پر اعتراضات کرکے فائل واپس بھیج دی جسے پھر اعتراضات کا جواب دے کر گورنر کو بھیجنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی گئی ۔ان کاکہناتھاکہ اسی طرح سے پی ڈی پی کی قیادت والی سرکا رنے طبقہ کیلئے تین فیصد ریزرویشن پر قانون سازیہ سے بل کو منظوری دی جس پر بھی گورنر نے اعتراضات کرکے فائل واپس بھیج دی اور پی ڈی پی حکومت نے بھی کوئی سنجیدگی ظاہر نہیں کی اور یہ فائل نہیں معلوم اب گورنر رول میں کہاں دھول چاٹ رہی ہوگی ۔انہوں نے ریاستی گورنر سے اپیل کی کہ وہ کم از کم ریزرویشن والی فائل کو تو منظوری دیں جس کے بعد ایس ٹی درجہ کیلئے مرکز سے از سر نو سفارش کی جائے۔