سرنکوٹ// چار سال قبل آئے سیلاب میں بہہ جانے والے پلوں کی مرمت اور تعمیر کاکام سست روی کاشکار ہے اور سرنکوٹ میں کچھ پل ایسے ہیںجن پر آج کام کا آغاز ہی نہیں ہوا۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ ان پر ایک اور سیلاب کا خطرہ منڈلارہاہے لیکن چار سال تباہ ہوئے پلوں کی تعمیر ہنوز نہ ہوئی ہے ۔دھندک کانی ہوڑی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ دریائے سرن پر بناپل ڈھہ جانے کے بعد انہیں سخت مشکلات کاسامناہے اور ان کے بچے سکول آنے جانے کے دوران جان خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔انہوںنے کہاکہ دھندک کانی ہوڑی سڑک ، کریم شاہ غازی کی درگاہ پر جانے والی سڑک اورسنئی سے بیلہ پوٹھہ کو جانے والی سڑک ٹوٹ گئی ہیں اور ان سڑکوں پر تعمیر پل بھی نہیں رہے جن کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔انہوںنے کہاکہ اگر سرکار اور محکمہ اتنے ہی کمزور ہوچکے ہیں کہ وہ پل اورسڑکیں بھی نہیں دے سکتے توانہیں دریاعبور کرنے کیلئے کم از کم جھولا پل دیاجائے۔ذاکر حسین شاہ نے بتایا کہ اگر گاڑیوں والا پل تعمیر نہیں ہوسکتاتو پیدل چلنے کا پل ہی بنایاجائے ۔وہیںچرالاں کے لوگوں کاکہناہے کہ دریا برد ہونے والے راستے آج بھی منقطع ہیںجن کی مرمت نہیں کی جارہی۔نذیر حسین ملک نے بتایا کہ درابہ سے رتیاں پساں فضل آباد جانے والا جھولا پل بھی ٹوٹ گیا تھالیکن اس کی مرمت آج تک نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہاکہ جب سیلاب کا خطرہ پیداہوتاہے تو طفل تسلیاں دینے کیلئے سب ان کے پاس آجاتے ہیں لیکن آسمان سے بادل چھٹ جانے کے بعد کوئی ان کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتا۔انہوںنے کہاکہ سرنکوٹ میں کئی پلوں کی تعمیر نہیں ہوسکی ہے جس کے باعث مقامی آبادی پریشان حال ہے ۔رابطہ کرنے پر محکمہ تعمیرات عامہ کے ایگزیکٹو افسر پونچھ نے بتایاکہ سیلاب کے بعد انیس پل دوبارہ سے بنائے ہیں لیکن کچھ پل تعمیر ہونے باقی ہیں کیونکہ ان کیلئے پیسہ نہیں آیا۔ انہوں نے کہاکہ بہت سی سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کا منصوبہ حکام کو روانہ کیاگیاہے اور جیسے ہی منظوری مل جاتی ہے تو وہ کام شروع کردیں گے۔