نئی دلی//عدالت عظمیٰ نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ کے ان تین گواہوں کی اپیل خارج کر دی ہے جنہوں نے ریاستی پولیس اہلکاروں پر ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس کی تحقیقات کئے جانے کی مانگ کی تھی ، تاہم چیف جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی سہ رکنی بنچ نے عرضی دہندگان کو ریاستی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے لئے کہا ہے ۔ ساحل شرما، سچن شرما اور نیرج شرما اس معاملہ کے کلیدی ملزم وشال شرما کے ہم جماعت ہیں اور انہیں اس معاملہ میں گواہ بنایا گیا ہے ۔ فاضل بنچ جس میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس اے ایم کھانویلکر اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ بھی شامل تھے، نے ان گواہوں کے الزامات کی تحقیقات کروائے جانے کے مطالبہ کو مسترد کر نے کے ساتھ ہی ان کی طرف سے دائر پٹیشن کو بھی خارج کر دیا تاہم کہا کہ شکایت کنندگان ریاستی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ریاست کی طرف سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ گوپال سبھرامنیم اور ایڈوکیٹ شعیب عالم نے معزز عدالت کو بتایا کہ گواہوں کے بیانات از سر نو ریکارڈ کئے جا چکے ہیں ، سپریم کورٹ نے ان تینوں گواہوں، جو کہ میرٹھ کے اسی کالج میں زیر تعلیم ہیں جہاں کلیدی ملزم وشال شرما تعلیم حاصل کر رہا تھا، کو اس ات کی بھی اجازت دی کہ وہ ریاستی پولیس کی طرف سے پوچھ گچھ کے دوران اپنے رشتہ داروں کو ساتھ لیجا سکتے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے اس سے قبل ان گواہوں کی طرف سے تفتیش کی عکس بندی کئے جانے کی مانگ کو ٹھکرا دیا تھااور ریاستی پولیس کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس معاملہ کی تحقیقات شفافیت سے کرے۔ قریب 20برس کی عمر والے ان تینوں طلاب نے الزام لگایا تھا کہ انہیں پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے اور بیانات دوبارہ درج کروانے کے لئے طلب کیا گیا ہے ۔ ان گواہوں نے کرائم برانچ کی طرف سے مبینہ طور پر جسمانی اور ذہنی طور پر ہراسانی اورتعلیمی سلسلہ میں رخنہ اندازی کے لئے 50لاکھ روپے فی کس ہرجانہ بھی طلب کیا تھا تاہم عدالت عظمیٰ نے ان تمام مانگوں کو مسترد کر دیا تھا۔
ملز م پرویش کمار کو حراست میں ’ہراساں‘ کئے جانے کا الزام
جموں//اروند شرما //ریاستی پولیس کی کرائم برانچ کے اہلکاروں پر کٹھوعہ عصمت دری و قتل معاملہ کے ایک ملز م پرویش کمار کو عدالتی حراست میں ’ہراساں‘ کئے جانے کا الزام لگاتے ہوئے وکلاء صفائی نے کل پٹھانکوٹ عدالت میں ایک عرضی دائر کر کے ان اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کی۔فاضل سیشن جج کے روبرو دائر کردہ عرضی میں میں کٹھوعہ ضلع جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ، اسی جیل میں 8سالہ خانہ بدوش بچی کی اجتماعی عصت ریزی اور قتل کے ملزمان بشمول پرویش کمارعدالتی تحویل میں رکھے گئے ہیں۔ وکلاء صفائی انکور شرما اور اے کے ساہنی نے بتایا کہ عدالت نے پرویش کمار عرف منو کی عمر کی تصدیق کے لئے جموں میڈیکل کالج کے بورڈ سے طبی معائینہ کروانے کا حکم دیا تھا لیکن کرائم برانچ اہلکاروں نے پرویش کمار کو زد وکوب کیا تاکہ اسے دیگر ملزمان کے خلاف بیان دینے کے لئے راضی کیا جا سکے ۔ وکلاء نے الزام لگایا کہ ملزم کو ایس ایس پی کرائم برانچ کے کمرہ میں لے جایا گیا جہاں اس کی مارپیٹ کر کے اسے بیان دینے کیلئے کہا گیا۔ عرضی میں ایس ایس پی رمیش کمار جالا، ڈی ایس پی شتمبری شرما اور سب انسپکٹر عرفان کو نامزد کیا گیا ہے ۔ان وکلاء نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ’کرائم برانچ اہلکاروں نے پرویش کمار کو کہا کہ وہ ایک عرضی لکھ کر پٹھانکوٹ عدالت میں سماعت کے دوران جج کو دے اور کہے کہ وہ دیگر ملزمان کے خلاف ایک الگ کمرہ میں بیان دینا چاہتا ہے ‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملزم کو ہراساں کئے جانے کے بارے میں عدالت کو تمام تفاصیل سے آگاہ کر دیا ہے ، عرضی پر آج یعنی منگل کو بحث ہوگی، دریں اثنا پرویش کمار کی عمر کے بارے میں دی گئی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کر دی گئی ہے ۔ وکلاء صفائی نے یہ کہتے ہوئے رپورٹ کے تفصیلات کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار کر دیا کہ معاملہ کی سماعت ان کیمرہ ہو رہی ہے ۔ پرویش کمار کی عمر کے تعین کے حوالہ سے دلائل بھی آج شروع ہوں گی۔