جموں//ریاستی ویجی لنس کمیشن کو کو سال 2017ء کے دوران 445شکایات موصول ہوئیں جن میں 26شکایات محکمہ جاتی کارروائی کے لئے جبکہ 16 شکایات ایف آئی آر درج کرنے کے لئے ریفر کی گئی،جب کہ 156شکایات کو جائزے کے بعد جبکہ 82 شکایات کو تحقیقات کے بعد خارج کیا گیا۔اس مدت کے دوران کمیشن نے 280 شکایات کا ازالہ کیا۔ان اعداد و شمار کا خلاصہ گورنر این این ووہرہ کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں پیش کردہ پانچویں سالانہ رپورٹ پیش کیا گیا۔ رِپورٹ میں کمیشن کو موصولہ شکایات اور ان کے نمٹارے کے حوالے سے کمیشن کی کارروائی کے علاوہ کمیشن کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنانے کے حوالے سے تجاویز درج ہیں۔رِپورٹ میں بتایا گیا کہ فروری 2013 میں کمیشن کے وجود میں آنے سے اب تک 4,787 شکایات موصول ہوئیں جن میں 4,246شکایات کو نمٹایا گیا جبکہ 41شکایات کی جانچ کی جارہی ہے۔گورنر موصوف نے کمیشن کی سفارشات پر غور کیا جن میں جموں اور سرینگر شہروں میں ریوینو ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا پائیلٹ پروجیکٹ وقت پر مکمل کرنا ، تمام سرکاری محکموں میں چیف ویجی لنس افسروں کی تعیناتی،ایس وی سی کی سفارشات پر ضلع ویجی لنس افسروں کی تعیناتی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔گورنر نے بہترین کام کاج کے لئے کمیشن کی ستائش کی اور اس پر زور دیا کہ وہ التوا ٔمیں پڑی تمام شکایتوں پر کڑی نظر گزر رکھیں اور سٹیٹ ویجی کمیشن ایکٹ 2011کے مدوں کے مطابق کیسوں کو حل کرائیں۔انہوں نے کہاکہ لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جانے چاہئیں تاکہ وہ کسی بھی سرکاری اہلکار کی طرف سے بے ایمانی کے معاملات کو رپورٹ کرنے کے لئے آگے آجائیں۔گورنر نے مختلف انتظامی سیکرٹروں کے پاس پڑی کمیشن کی سفارشات پر معیاد بند مدت کے اندر کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی۔