رولرسڑک سے لڑھک گیا،آپریٹرلقمہ اجل
ایم ایم پرویز
رام بن//سنیچر کی شام کو بٹوت۔ بگو نالہ زیر تعمیر رابطہ سڑک پر روڈ رولر آپریٹراپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔پولیس کے مطابق بٹوت ۔بگو نالہ ز یر تعمیر رابطہ سڑک پر کام کے دوران ایک روڈ رولر پھسل کر گہری کھائی میں جا گرا جس کی وجہ سے آپریٹر کی موقعہ پر ہی موت ہو گئی ۔حادثے کی خبر ملتے ہی پولیس سٹیشن بٹوت کی ایک ٹیم موقعہ پر پہونچی اور لاش کے طبی لوازمات پورے کرنے کےلئے شیر کشمیر میمو ریل ہسپتال منقتل کیا۔متوفی آپریٹر کی پہچان 30سالہ خورشید عالم ولد ظہیر عالم ساکنہ بہار کے طور سے ہوئی ہے ۔
خالص گوجری اخبارکی اشاعت خوش آئندپیش رفت:جہانگیراصغر
جموں//گوجری زبان کے نامورادیب ومحکمہ اعلیٰ تعلیم میں شعبہ اُردوکے اسسٹنٹ پروفیسرمحمدجہانگیراصغر نے گزشتہ ہفتے گوجری زبان کے ہفت روزہ خالص گوجری اخبار”رودادِ قوم“کے اجراءکوگوجری زبان وادب میں تاریخ ساز پیش رفت قراردیاہے ۔ یہاں جاری پریس بیان میں محمدجہانگیراصغر نے خالص گوجری اخبار”رودادِ قوم“کے اجراءکوگوجری زبان وادب کی تاریخ میں اہم اورخوش آئند باب قراردیتے ہوئے کہاکہ اخبارہذاکے توسط سے گوجری زبان صحافت کے میدان میں بھی کئی نئے درواکرے گی اورپسماندہ طبقات کے مسائل کواُبھارنے میں معاون ثابت ہوگی ۔انہوں نے اس خواہش کااظہارکیاکہ ”رُودادِ قوم“کی پوری ادارتی ٹیم کی کاوشوں سے جس طرح اس کاپہلاشمارہ منظرعام پرآیاہے خُداکرے اسی طرح یہ ہفت روزہ بلندیوں کوچھوئے۔محمدجہانگیراصغرنے نے جملہ اہلِ قلم کو’رودادِ قوم‘کے ساتھ بلالحاظ کسی تفریق کے وابستہ ہونے کامشورہ دیااورکہاکہ اس طرح قلم وقرطاس کے اس پلیٹ فارم پرجمع ہوکر اتفاق واتحاداور خوشحالی کے خواب کوشرمندہ ¿ تعبیرکیاجاسکتاہے۔
نٹرنگ کے زیراہتمام ’مونسون تھیٹرورکشاپ ‘کاانعقاد
جموں//نٹرنگ سٹوڈیوتھیٹرکی جانب سے اداکاری کے خواہشمند نوجوانوں کےلئے ”مونسون تھیٹرورکشاپ “کاانعقاد کیاجس کاافتتاح نٹرنگ ڈائریکٹر بلونت ٹھاکرنے کیا۔ اس15روزہ ورکشاپ میںراہل سنگھ ،نوجوان اداکاری اورنٹرنگ ڈائریکٹر،نئے اداکاروں کوتربیت دیں گے ،راہل سنگھ نے نیشنل سکول آف ڈراماسے اداکاری کے شعبے میں تربیت حاصل کی ہے جبکہ محمدیاسین جوتھیٹرمیں منسٹری آف کلچرحکومت ہندسے نیشنل اسکالرشیپ یافتہ ہیں کوآڈی نیٹ کریں گے۔اس بارے میں نٹرنگ ڈائریکٹربلونت ٹھاکورنے کہاکہ جموں کے نوجوانوں کی مانگ کودیکھتے ہوئے مونسون تھیٹرورکشاپ کاانعقاد کیاگیاہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ ورکشاپ جموں کے نوجوانوں کےلئے ایک تحفہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ نٹرنگ پچھلے تیس برسوں سے تھیٹراداکاری سیکھنے والوں کوصلاحیت کامظاہرہ کرنے کے مواقعے فراہم کرنے کاکام کررہاہے اوریہ مشن آئندہ بھی ایسی ورکشاپوں کے طورپرجاری رہے گا۔ورکشاپ میں حصہ لینے والوں میں اجھول بندرال، رکشت اروڑہ، جسٹن کھتری،رویس خان،ابھی جیت شرما،رشبھ گنجو،وشالی شرما، سوناکشی شرما، بلیسی تیجی ،آرتی دیوی،ریاجین ،کائنات گپتا، نیشامہرااورامتیازاحمدشاہ شامل ہیں۔
سابق حکومت کی گوجربکروال مخالف پالیسیاں تاحال جاری :چوہدری اختر
جموں//گوجربکروال اصلاحی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری نے سابق حکومت پرگوجربکروال طبقہ کے لوگوں کے ساتھ سوتیلے سلوک کاالزام عائدکیاہے۔یہاں جاری پریس بیان میں گوجربکروال اصلاحی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری چوہدری اخترحسین نے کہاہے کہ سابقہ پی ڈی پی ۔بی جے پی حکومت کے دوران اُس وقت کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھاجپاکے ساتھ مل کر گوجربکروالوں کے ساتھ کھلواڑکیا۔انہوں نے کہاکہ وجے پورکی رکھ بھروٹیاں گوجربستی کوایمزکے نام پراُجاڑنا سابق حکومت کاگوجربکروال قوم کے ساتھ بہت بڑاکھلواڑتھا ۔انہوں نے کہاکہ ساحق حکومت نے متعددباریقین دہانیاں بھی کروائیں اورگوجروں کوخوش کیالیکن میں طبقہ کے ساتھ کھلواڑ کیا۔انہوں نے کہاکہ افسوس کامقام ہے کہ اب بھی رکھ بھروٹیاں کی گوجربستی کے لوگوں کوبے دخل کرنے اورہراساں کرنے کی پالیسیاں جاری ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گورنرراج میں دوبارہ گوجربکروال لوگوں کودوبارہ پسماندگی کی طرف دھکیلنے کی کوششیں ہورہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس بستی کےلئے دودھ پلانٹ قائم کرنے کااعلان کیاتھا،اس کاکوئی اتہ پتہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کے اعلانات محض سبزباغوں کے سواکچھ نہیں ہیں۔ اخترچوہدری نے کہاکہ گورنرراج کی آڑمیں بھی فرقہ پرستی وتنگ نظری جاری ہے ۔انہوں نے کہاکہ گوجربکروال طبقہ کےلئے پی ڈی پی حکومت نے کوئی ٹھوس پالیسی مرتب نہیں کی تھی جس کانتیجہ گوجربکروالوں کو آج پھرآرایس ایس کی نظریاتی فرقہ پرستی کی ہدایات کے طورپرنقصان بھگتناپڑرہاہے ۔انہوں نے کہاکہ سابقہ حکومت کی تیارکردہ پالیسیوں سے گوجربکروال طبقہ پریشانیوں میں مبتلاہے جس کی نمایاں مثال ایمزکے نام پررکھ بھروٹیاں گوجربستی کے 250کنبوں کواُجاڑناہے ۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان بھرمیں ایس ٹی طبقہ کوآبادکاری کے تحت بسایاگیاہے لیکن صرف جموں وکشمیرہی ایک ایسی ریاست جہاں گوجربکروال امتیازی پالیسیوںاورسازشوں کاشکارہیں ۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں دودھ ،دہی،پنیر،گوشت کی پیداوارمیں گوجربکروال طبقہ کے لوگ ریاست کوخودکفیل بنانے کےلئے نمایاں رول اداکرتے ہیں لیکن افسوس کامقام ہے کہ اس طبقہ کے ساتھ حکومت ناانصافی کرتی ہے ۔چوہدری اخترنے ریاستی گورنراین این ووہرہ سے اپیل کی کہ گوجرکش پالیسیوں پرقدغن لگائی جائے تاکہ یہ لوگ بھی آرام سے زندگی بسرکرسکیں۔
پنشنروں وفیملی پنشنروں کی مانگیں
پوری کی جائیں:اجیت سنگھ ایڈیال
جموں//آل جموں وکشمیرپنشنرز اینڈسول سوسائٹی ایسوسی ایشن جموں کے صدرسردار اجیت سنگھ ایڈیال نے ریاستی گورنرانتظامیہ سے پرزورمطالبہ کیاہے کہ ریاستی پنشنرزوفیملی پنشنروں کی اہم مانگوں جن میں ساتویں پے کمیشن کوسابقہ ریاستی سرکارنے جنوری 2016سے لاگوکربحق جانب ایئرئرس کوتین چھ چھسمائیوں میں بھگتان کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں کویک مشت ادائیگی کرنے، میڈیکل الاﺅنس کوجنوری 2016 سے 2000/- روپے ماہوارکرنا ،میڈیکل ہیلتھ انشورنس سکیم کےلئے سرکارنے دوسری مرتبہ فارم بھروائے ہیں، لاگوکرنے کی قسطوں میں جاری کرنا، جنوری 2009 سے جون 2009 کے بقایا 6 فیصد ڈی اے ایئرئرس کی ادائیگی، اکومیلی کمیٹی میں کلریکل ڈرائیورس پے سکیل پر ترمیم جس میں 3050-4590 کو4000-6000 اور4000-6000کو4500-7000 کرنے جو کہ حل طلبی کے لئے پڑے ہوئے ہیں اس کے علاوہ چندگریڈپے میں نمودارکمی اور ڈی اے میں 34 فیصدکی ابھی تک ملازمین پبلک سیکٹریونٹ سٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن اورتحت SRO920-آف 2009 اور SRO 14 آف ف 1994 پراے گریڈپے اور وقتی ترقی برائے جی ٹی یوڈرائیورکنڈیکٹرجنکی لمبی سروس میں کوئی پرموشن (ترقی) نہیں ہوئی ،انکے نقصان کی بھرپائی جوکہ محکمہ ٹرانسپورٹ میں تحت نمبر TR-02/SRTC/2015 اور TR-12/SRTC/2015 حل طلبی کے لئے پڑے ہوئے ہیں کاذکربھی کیا۔ایڈیال مزیداپنے بیان کہاکہ ان تمام جائز مطالبات کووقتاً فوقتاً ریاستی سرکارسے اُٹھایاگیاہے اورگورنرکے صلاحکاربرائے خزانہ بی بی ویاس کوتحریری ارسال کیاجارہاہے ۔ایڈیال نے بی بی ویاس ،کوان تمام جائزمطالبات پرہمدردانہ غورکرکے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
پروفیسرظہیرعباس ہاشمی سیمینارمیں شرکت کےلئے تاشقندروانہ
ڈوڈہ//کنٹرولر امتحانات کلسٹریونیورسٹی جموں پروفیسرظہیرعباس ہاشمی کوگلوبل اچیورس فاﺅنڈیشن کی دعوت پرازبکستان تاشقندمدعوکیاگیاہے جہاں وہ ایوارڈ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ گلوبلائزیشن آف اکنامک گراﺅتھ اور سوشل ڈیولپمنٹ کے موضوع پرمنعقدہ سیمینارمیں حصہ لیں گے۔ اطلاعات کے مطابق ازبکستان کے دارالخلافہ تاشقندمیں یہ سیمینارگلوبل فاﺅنڈیشن اورانڈین سالڈیلوجی کونیکل کے باہمی اشتراک سے منعقدکیاجارہاہے ۔یادرہے کہ یہ سیمینار گذشتہ 30جون کومنعقدہوناتھا مگرنامعلوم وجوہات کی بنیاد پراسکی تاریخ میں توسیع کردی گئی تھی۔اب یہ سیمینار گذشتہ شام یعنی 7 جولائی کومنعقدہوا ۔یہ ایوارڈ پروفیسرہاشمی کومختلف سماجی کاموں یعنی ماحولیات، امن بھائی چارے اورخاص کر تعلیمی خدمات کے عوض عطاکیاجارہاہے ۔پروفیسرظہور ہاشمی نے تعلیم کے میدان میں بچوں کی بہتری اوربہبود کے ساتھ ساتھ ان کے کیئرئیرکوتعلیمی لحاظ سے آگاہ کرنے اورتعلیم کے حصول کےلئے جدوجہدکرنے، وقت گذارنے کے ساتھ ساتھ طالبان علم کوبیداری پیداکرنے کی ہرطرح کی کوشش کی گئی ہے اوراپنی ایک بھرپورکوشش جاری رکھی ہوئی ہے ،جلابخشنے کے ساتھ معیارتعلیم کوبہتربنانے کےلئے انہوں نے اپنے کالج کے دوران بطورپرنسپل مختلف طرح کی پالیسیوں کوعملی جامہ پہناننے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ کالج ہذا،اسکی بھلائی ،آنے والی نسلوں کےلئے اپنی زندگی سدھارنے اوراعلیٰ سے اعلیٰ مقام حاصل کرنے کےلئے ایک ترغیب ملے۔اس تعلق سے وہ گذشتہ روزدہلی سے تاشقندپہنچ گئے ہیں جہاں وہ بین الاقوامی سیمنارمیں حصہ لے کروہاں کے حکام کے ہاتھوں ایوارڈبھی حاصل کریں گے۔سیمینارمیں حصہ لینے اورایوارڈحاصل کرنے پرمختلف سماجی تنظیموں نے پروفیسرظہیرعباس ہاشمی کومبارکبادپیش کرتے ہوئے ان کے تئیں نیک خواہشات کااظہارکیاہے۔