تھنہ منڈی//حکام نے مغل شاہراہ پر یاتریوں کیلئے بندشیں عائد کرتے ہوئے انہیں اپنا سفر جموں سرینگر شاہراہ براستہ بانہال طے کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ اس بندش کی وجہ سے یاتری پریشان ہیں ۔مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے امرناتھ یاتری گزشتہ دو روز سے تھنہ منڈی کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں جن کا ارادہ تھاکہ وہ مغل شاہراہ سے سفر کرتے ہوئے کشمیر جائیں گے تاہم انہیں حکام نے اس کی اجازت نہیں دی ۔ذرائع کے مطابق ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ درجن یاتری جو امرناتھ یاترا کے لئے وادی کشمیر جا نا چاہتے تھے،اپنا سفر براستہ مغل روڈسے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے تاکہ تاریخی شاہراہ پر دلفریب مناظر سے لطف اندوز ہوسکیں لیکن سیکورٹی وجوہات کی بناپر انہیں مغل روڈ سے سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی اور وہ واپس جموں پہنچ کر اپنا سفر جموں سرینگر شاہراہ کے ذریعہ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔تھنہ منڈی میں قیام کے دوران یاتریوں نے معروف زیارت حضرت بابا غلام شاہ بادشاہ میں حاضری دی۔بیرون ریاست کے ان یاتریوں کاکہناہے کہ یہ علاقہ سرسبز و شاداب ہے اور صوبہ جموں کے دیگر علاقوں سے زیادہ خوبصورت بھی ۔ان کہناتھاکہ وہ مغل شاہراہ کے راستے کشمیر جاناچاہتے تھے لیکن اس کی اجازت نہیں ملی ۔جب انتظامیہ کو یاتریوں کی خبر ملی تو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجوری ٹھاکر شیر سنگھ اور تحصیلدار تھنہ منڈی قاضی قدیر الرحمن کی ہدایت پر نائب تحصیلدار تھنہ منڈی فاروق احمد راتھر وایس ایچ او تھنہ منڈی موقعہ پر پہنچے اور انہوں نے ان یاتریوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنا سفر جموں سرینگر شاہراہ کے ذریعہ کریں جہاں سیکورٹی کا بندوبست بھی ہے اور جگہ جگہ لنگر بھی لگائے گئے ہیں۔یاتریوں کو بتایاگیاکہ جموں سر ینگر شاہراہ پر طبی خدمات بھی میسر ہیں جبکہ اس کے برعکس مغل روڈ پر یہ سب سہولیات دستیاب نہیں ۔