سرنکوٹ//قصبہ سرنکوٹ سے آدھا کلو میٹر دور نالی پر پلی تعمیر نہ کئے جانے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو سخت مشکلات کاسامناہے اور جمعرات کے روز انہیں طغیانی کی وجہ سے ایک گھنٹے تک جام میں درماندہ رہناپڑا۔علاقے میں رات اور صبح ہوئی شدید بارشوں کی بدولت ندی نالوں میں طغیانی آئی جس دوران اقبال نگر سرنکوٹ سے تھوڑی دوری پر جموں پونچھ شاہراہ پر پوٹھہ بائی پاس سے پہلے واقع ترپڑاں والی کسی میں بھی طغیانی دیکھی گئی اور نالی کے پانی نے پوری سڑک کو ہی ڈبودیا۔اس صورتحال کے باعث چھوٹی گاڑیوں کا اس نالی سے گزر ہی نہیں ہوپایا جبکہ بڑی گاڑیاں بھی پھنس گئیں اور یوں ایک گھنٹہ تک بدترین ٹریفک جام لگارہا جس دوران کسی بھی گاڑی کا گزر نہیں ہوسکاجس کینتیجہ میں ملازم وقت پر دفتر نہیں پہنچ پائے اور نہ ہی طلباوقت پر سکول جاسکے۔اس دوران کئی مریضوں کو ہسپتال پہنچانے میں بھی دشواری کا سامناکرناپڑا۔اسی جام میں پھسنے نوید حسین شاہ نے بتایاکہ بارہا حکام سے مطالبہ کیاگیاہے کہ اس نالی پر ایک چھوٹی سی پلی تعمیر کی جائے تاکہ گاڑیوں کا گزر یہاں سے آسانی سے ہوسکے لیکن اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ان کاکہناتھاکہ یہ نالہ بارشوں کے دوران تباہی مچاتاہی ہے لیکن عام موسم میں بھی یہاں پڑے بڑے بڑے کھڈوں سے گاڑیوں کو نقصان پہنچتاہے۔انہوں نے کہاکہ جام اس قدر شدید تھاکہ کوئی بھی گاڑی گزر نہیں سکی۔واضح رہے کہ کشمیر عظمیٰ کے چند روز قبل کے شمارے میں اس اس حوالے سے خبر بھی شائع کی گئی تھی جس میں مطالبہ کیاگیاتھاکہ نالے پر پلی تعمیر کی جائے نہیں تو بارشوں کے موسم میں مشکلات کاسامناکرناپڑسکتاہے۔