آر ایس پورہ کے ممبر اسمبلی گگن بھگت کے مصائب کم ہونے کے بجائے بڑھتے ہی جا رہے ہیں ۔ اب ان کی اہلیہ مونیکا شرما نے وزیر اعظم سے مداخلت کی اپیل کر دی ہے ۔ بھاجپا کے اس ایم ایل اے پر ایک طالبہ کو اغوا کر کے پہلی بیوی کو طلاق دئیے بغیر اس سے شادی رچانے کا الزام ہے ۔ یہاں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مونیکا شرما نے کہا کہ ایم ایل اے آر ایس پورہ گگن بھگت نے اپنی بیوی اور دو بچوں کو بے سہارہ چھوڑ دیا ہے اور ایک دوسری عورت کے ساتھ غیر قانونی طور پر گھر بسائے ہوئے ہیں۔ مونیکا شرما جو کہ خود بھی ریاستی بی جے پی کی ایک عہدہ دار ہیں ، کا کہنا ہے کہ ہماری ازدواجی زندگی میں گزشتہ برس اس وقت تلخی گھلنا شروع ہو گئی جب موصوف ستمبر ماہ سے اس عورت کیس اتھ الگ رہنا شروع ہو گئے۔ انہوں نے بتایاکہ 13سالہ شادی شدہ زندگی سے ان کے دو بچے ہیں جس میں 12سالہ بیٹا اور 4سالہ بیٹی شامل ہیں، میں نے ایک برس تک ایک ہندوستانی بیوی کی طرح حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی لیکن اب میرا بیٹا شرمندہ ہو جاتا ہے جب وہ انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا پر اپنے باپ کی ایک دوسری عورت کے ساتھ فحاش تصاویر دیکھتا ہے ۔ مونیکا شرما نے مودی کو ان کی بیٹی بچائو بیٹی پڑھائو مہم کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ میرا معاملہ انتہائی حساس ہے جس سے کم از کم تین زندگیاں تباہی کے دہانہ پر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گگن بھگت ایک قومی جماعت کا ممبر اسمبلی ہے اور اس کی حرکات و سکنات کا لوگوں پر بڑا اثر پڑتا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم سے ذاتی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر با اثر شخصیات ایسی غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکات کرتی ہیں تو عام لوگوں کا کیا حال ہوگا۔